ناشتے کو دن کی سب سے اہم غذا قرار دیا جاتا ہے جس کے حوالے سے کافی بحث بھی کی جاتی ہے۔
مگر اب ایک نئی تحقیق کے نتائج سے علم ہوا ہے کہ ناشتہ واقعی دن کی سب سے اہم غذا ہے، خاص طور پر ذیابیطس ٹائپ 2 جیسے دائمی مرض سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے۔
امریکا کی وینڈربلٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ناشتہ کرنے کی عادت بلڈ شوگر کی سطح کو مسحکم رکھنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔
خیال رہے کہ دنیا بھر میں ہر 9 میں سے ایک بالغ فرد ذیابیطس کا مریض ہے۔
اس تحقیق میں دیکھا گیا تھا کہ صبح ناشتہ کرنے سے جسم کے اندر بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے والے ہارمونز جیسے انسولین اور glucagon پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
انسولین اور glucagon ایک دوسرے سے متضاد کام کرتے ہیں۔
انسولین بلڈ شوگر کی سطح میں کمی لانے والا ہارمون ہے جبکہ glucagon اس کی سطح میں اضافہ کرتا ہے۔
کھانا کھانے کے بعد انسولین جگر کو کھانے میں موجود شکر ذخیرہ کرنے کے لیے متحرک کرتا ہے جبکہ glucagon گلوکوز کو خون میں جاری کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔محققین جاننا چاہتے تھے کہ glucagon بھی انسولین کی طرح جگر پر اثرات مرتب کرتا ہے اور کھانے کے چند گھنٹوں بعد کس طرح کا ردعمل ظاہر کرتا ہے۔
صبح جب glucagon کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے تو جگر کے لیے اگلی غذا سے گلوکوز کو ذخیرہ کرنے میں کافی محنت کرنا پڑتی ہے چاہے انسولین اور بلڈ گلوکوز کی سطح مثالی ہی کیوں نہ ہو۔
محققین نے دریافت کیا کہ ان حالات میں گلوکوز کو ذخیرہ کرنے کی بجائے جگر اسے مسلسل خارج کرتا رہتا ہے۔
اس سے عندیہ ملتا ہے کہ ذیابیطس ٹائپ 2 کے شکار افراد کے بلڈ شوگر کی سطح دن بھر بڑھتی کیوں رہتی ہے۔
اب محققین کی جانب سے مزید تحقیق کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ ناشتہ کرنے یا نہ کرنے سے مرتب ہونے والے تمام اثرات کی نشاندہی کی جاسکے۔

Leave a Reply