Daily Shujaat Quetta
September 7, 2026
🌤 Quetta,pk --°
تازہ خبریں
سیرتِ نبوی ہمارے لیے مکمل ضابط حیات ہے، سیدال خان ناصربلوچستان اس وقت مختلف نوعیت کی انتہاپسندی اور بدامنی کا شکار ہے،ڈاکٹر عبدالمالکڈاکٹر عائشہ فیض کی گرفتاری عدم برداشت اور مطلق العنانیت کی آخری حد ہے ، نیشنل پارٹیخضدار میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 3.2 ریکارڈ، شہریوںمیں خوف وہراس پھیل گیا6 ستمبر 1965 ہماری دفاعی تاریخ کایادگار دن ہے،نسیم الرحمن ملاخیلسندھ کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں فائر الارم اور واٹر اسپرنکلرز نہ ہونے کا انکشافرات گئے تک جاگنے کی عادت کس حد تک صحت پر اثر انداز ہوتی ہے؟کھانے کے دوران یا بعد میں پانی پینے سے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ٹورنٹو: پاکستانی نژاد کینیڈین رکنِ پارلیمنٹ سلمیٰ زاہد کی گاڑی نذرِ آتش کرنے کے الزام میں ایک ملزم گرفتارحوثیوں اور یمنی فوج میں گھمسان کی جنگ، 120 سے زائد افراد ہلاکسیرتِ نبوی ہمارے لیے مکمل ضابط حیات ہے، سیدال خان ناصربلوچستان اس وقت مختلف نوعیت کی انتہاپسندی اور بدامنی کا شکار ہے،ڈاکٹر عبدالمالکڈاکٹر عائشہ فیض کی گرفتاری عدم برداشت اور مطلق العنانیت کی آخری حد ہے ، نیشنل پارٹیخضدار میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 3.2 ریکارڈ، شہریوںمیں خوف وہراس پھیل گیا6 ستمبر 1965 ہماری دفاعی تاریخ کایادگار دن ہے،نسیم الرحمن ملاخیلسندھ کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں فائر الارم اور واٹر اسپرنکلرز نہ ہونے کا انکشافرات گئے تک جاگنے کی عادت کس حد تک صحت پر اثر انداز ہوتی ہے؟کھانے کے دوران یا بعد میں پانی پینے سے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ٹورنٹو: پاکستانی نژاد کینیڈین رکنِ پارلیمنٹ سلمیٰ زاہد کی گاڑی نذرِ آتش کرنے کے الزام میں ایک ملزم گرفتارحوثیوں اور یمنی فوج میں گھمسان کی جنگ، 120 سے زائد افراد ہلاک

پاکستانی سیاست کے ہولناک مسائل

کالم:شاہنواز فاروقی
پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا چنانچہ پاکستان کا نظریہ حیات اسلام ہونا تھا اور پاکستان کی ریاست کو خدا مرکز، قرآن مرکز اور رسول مرکز ہونا چاہیے تھا۔ اسلامی تاریخ میں عہد ِ رسالت کے بعد بہترین زمانہ خلافت راشدہ کا ہے۔ چنانچہ اس کو نمونہ عمل بناتے ہوئے پاکستان کو ابوبکرؓ مرکز ہونا چاہیے تھا، عمرؓ مرکز ہونا چاہیے تھا، عثمانؓ مرکز ہونا چاہیے تھا، علیؓ مرکز ہونا چاہیے تھا۔ مسلم بادشاہوں میں بھی غیر معمولی لوگ ہوئے ہیں جیسے اورنگ زیب عالمگیر، اس نے پورے ہندوستان پر 50 سال حکومت کی۔ وہ 80 سالہ کی عمر میں بھی گھوڑے پر سوار ہو کر جنگ کے لیے نکلتا تھا۔ کہنے کو وہ خود مختار بادشاہ تھا مگر وہ علما کے مشورے کے بغیر ایک قدم بھی نہیں ا±ٹھاتا تھا۔ چنانچہ پاکستان کو اور کچھ نہیں تو ”اورنگ زیب مرکز“ تو ہونا چاہیے تھا۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح خود ایک عظیم شخصیت تھے۔ ان کے سوانحِ نگار اسٹینلے ولپرٹ نے لکھا ہے کہ تاریخ میں ایسے لوگ کم ہوئے ہیں جنہوں نے تاریخ کے دھارے کا ر±خ بدلا ہے۔ ایسے لوگ اور بھی کم ہوئے ہیں جنہوں نے جغرافیہ بدلا ہے اور ایسا تو شاید ہی کوئی ہو جس نے ایک قومی ریاست تخلیق کی ہو۔ قائداعظم نے بیک وقت یہ تینوں کام کیے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کو قائداعظم مرکز تو ہونا ہی چاہیے تھا۔ مگر ایسا بھی نہیں ہوسکا۔ پاکستان کا کوئی رہنما قائداعظم کا دو فی صد بھی ثابت نہ ہوسکا۔ نہ جرنیل نہ سیاست دان۔
دنیا کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ لینن نے سوشلزم کی بنیاد پر روس میں انقلاب برپا کیا۔ چنانچہ لینن اور بعد میں آنے والے ہر حکمران نے روس کو سوشلزم مرکز بنائے رکھا۔ سوشلزم کا تصورِ معاشرہ یہ تھا کہ سوشلسٹ ریاست میں تعلیم کی سہولتوں کو مفت ہونا چاہیے۔ چنانچہ روس میں 70 سال تک اسکول سے یونیورسٹی کی سطح تک تعلیم مفت تھی اور اس کا بوجھ ریاست خود ا±ٹھاتی تھی۔ سوشلزم کے فلسفے کے تحت ریاست نے صحت کی سہولتیں بھی سب کو مفت فراہم کی ہوئی تھیں۔ سوشلزم کے نظریے کے تحت کوئی شخص بے گھر نہیں تھا۔ کوئی شخص بیروزگار نہیں تھا۔ روس کے حکمرانوں نے نہ صرف یہ کہ 70 سال تک سوشلزم کو خود گلے سے لگائے رکھا بلکہ انہوں نے سوشلزم کو آدھی دنیا میں ”برآمد“ بھی کیا۔ چنانچہ دنیا میں سوشلسٹ ریاستوں کا ایک ”بلاک“ وجود میں آگیا تھا۔ روس کیا پوری سوشلسٹ دنیا میں سوشلزم ہر چیز پر غالب تھا۔ چنانچہ سوشلسٹ معاشروں کی معیشت بھی سوشلسٹ تھی۔ ان کا ادب بھی سوشلسٹ تھا۔ یہاں تک کہ روس میں سائنس کو بھی صرف سائنس نہیں کہا جاتا تھا۔ بلکہ اسے ”سوویت سائنس کا نام دیا جاتا تھا۔ سوشلسٹ انقلاب کوئی ”سستی چیز“ نہیں تھا۔ روس میں سوشلسٹ انقلاب کے لیے 80 لاکھ لوگ قربان ہوئے تھے۔
چین میں بھی سوشلسٹ انقلاب برپا ہوا۔ یہاں انقلاب کی قیادت ماﺅزے تنگ نے کی۔ اس انقلاب کی ”قیمت“ یہ تھی کہ اس میں تین کروڑ لوگ مارے گئے۔ چین نے بھی چالیس سال تک اپنی ہر چیز کو سوشلزم کے نظریے کے تابع رکھا۔ ڈینگ زیاوپنگ کا زمانہ آیا تو انہوں نے سوشلزم کے نظریے میں ایک ترمیم کی۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ بلّی سفید ہو یا کالی اسے چوہے پکڑنے والا ہونا چاہیے۔ چنانچہ انہوں نے چینی سوشلزم میں سرمایہ داری کی پیوند کاری کرکے چینی معیشت کو سرمایہ دارانہ اصولوں پر استوار کیا۔ اور آج چینی چین کے نظام کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ ”سوشلزم“ ہی ہے مگر چینی خصوصیات کے ساتھ اس نظریے کے تحت چین نے اپنی معاشرت میں بڑے بڑے انقلابات برپا کیے ہیں۔ چین کی آبادی ایک ارب 45 کروڑ ہے یہ پوری آبادی خواندہ بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے۔ چین نے 40 سال میں 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا ہے۔ چین کے پاس 3 ہزار ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر ہیں۔ ہانگ کانگ کے ایک ہزار زرمبادلہ کے ذخائر کو بھی ملا لیا جائے تو چین کے پاس 4 ہزار ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر ہیں جبکہ چین کا مقابلہ کرنے والا امریکا زرمبادلہ کے بڑے ذخائر رکھنے والے دس اوّلین ملکوں میں بھی شامل نہیں۔ چین کی ترقی کا یہ عالم ہے کہ آج سے دس سال پہلے اے آئی کے شعبے میں چین امریکا سے 10 سال پیچھے تھا اور اب وہ امریکا سے صرف چند ماہ پیچھے ہے اور اس نے امریکا سے کہیں زیادہ سستا اے آئی ماڈل دنیا کے سامنے پیش کردیا ہے۔ یہ سب نظریے کے کرشمے ہیں۔ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے۔ مگر اس ریاست کا بھی ایک نظریہ ہے۔ یہ کہیں یہودیت ہے اور کہیں صہیونیت ہے۔ اسرائیل کی آبادی صرف ایک کروڑ ہے۔ یہ پوری آبادی خواندہ ہے۔ اسرائیل کی برآمدات 169 ارب ڈالر ہیں اور اسرائیل کے پاس زرمبادلہ کے 239 ارب ڈالر کے ذخائر ہیں۔
پاکستان کا نظریہ روس، چین اور اسرائیل کے نظریے سے اربوں گنا بڑا نظریہ تھا۔ یہ نظریہ کھربوں لوگوں کو خدا اور جنت تک پہنچا سکتا ہے۔ مگر پاکستان کے حکمرانوں نے اس نظریے کی قدر ہی نہیں کی۔ اس نظریے کو نہ پاکستان کے فوجی آمروں نے گلے لگایا نہ سول حکمرانوں نے اس نظریے کو ریاست پر غالب کرنے کے لیے کچھ کیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستانیوں کی عظیم اکثریت کی زندگی نہ خدا مرکز ہے، نہ رسول مرکز، نہ ہمارے لیے ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ اور علیؓ کی خلافت کا کوئی مفہوم ہے۔ ہمارے معاشرے میں نہ عدل ہے، نہ تعلیم عام ہے، آزادی کے 79 سال بعد بھی پاکستان کی شرح خواندگی صرف 60 فی صد ہے۔ ہم نہ بڑے عالم پیدا کررہے ہیں، نہ بڑے شاعر و ادیب، نہ بڑے سائنس دان، نہ ٹیکنالوجی کے دائرے میں کمال کرنے والے۔ ہماری 40 فی صد آبادی خط ِ غربت سے نیچے کھڑی ہے۔ ہمارے 70 فی صد لوگوں کو علاج معالجے کی سہولت حاصل نہیں۔ کراچی ملک کا سب سے ترقی یافتہ شہر ہے اور اس کا حال یہ ہے کہ اس کے پاس نہ پینے کا پانی ہے، نہ نکاس آب کا مناسب نظام ہے، کراچی کی 70 فی صد سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں۔ کراچی میں صرف ایک عام سرکاری یونیورسٹی ہے، یعنی جامعہ کراچی، حد تو یہ ہے کہ کراچی کی آبادی کو بھی پورا نہیں گنا جاتا۔ کراچی کی آبادی ساڑھے تین کروڑ ہے مگر مردم شماری میں کراچی کی آبادی صرف ڈیڑھ پونے دو کروڑ ظاہر کی گئی ہے۔ ہمارے حکمرانوں کے نظریاتی تشخص کا عالم یہ ہے کہ جنرل ایوب 11 سال تک پاکستان پر سیکولر ازم مسلط کرنے کے لیے کوشاں رہے۔ جنرل یحییٰ کا نظریہ ”عورت بازی“ تھا۔ بھٹو صاحب اسلامی سوشلزم ایجاد کرکے بیٹھ گئے، حالانکہ اسلام اور سوشلزم ایک دوسرے کی ضد تھے۔ جنرل ضیا الحق اسلام کا نام ضرور لیتے تھے مگر وہ یہ کام اپنے اقتدار کو طول دینے لیے کرتے تھے۔ نواز شریف، بے نظیر بھٹو اور عمران خان کا کوئی نظریہ ہی نہیں ہے۔ جنرل پرویز لبرل تھے اور وہ معاشرے کو 9 سال تک لبرل بنانے کی سازش کرتے رہے۔ یہ صورت حال بتارہی ہے کہ نظریے سے غداری کرکے ہم نہ دنیا کما سکے نہ آخرت۔ یعنی ہماری حالت نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم والی ہے۔
دنیا بھر میں جرنیل قوم اور ریاست کا ”حصار“ ہیں مگر پاکستان میں جرنیل قوم اور ریاست کا ”محاصرہ“ بن گئے ہیں۔ 1958ئ سے آج تک ملک کی سیاست پر جرنیل ہی غالب ہیں۔ اس غلبے کی وجہ سے نہ ہم بڑے سیاست دان پیدا کرسکے، نہ ہم حقیقی جمہوریت کا تجربہ کرسکے۔ نہ ہمارا پریس آزاد ہے۔ نہ عدالتیں آزادی کے ساتھ فیصلے کرسکتی ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ ہمارے انتخابات بھی آزادانہ نہیں ہوتے۔ جرنیل انہیں جب چاہتے ہیں اغوا کرلیتے ہیں اور جس کو چاہتے ہیں جتا دیتے ہیں، جس کو چاہتے ہیں ہرا دیتے ہیں۔
سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کا یہ عالم ہے کہ پاکستان میں جماعت اسلامی کے سوا کوئی جماعت جمہوری نہیں ہے، نواز لیگ پر شریف خاندان کا قبضہ ہے، پیپلز پارٹی بھٹو خاندان کی میراث ہے، تحریک انصاف عمران خان کے بغیر زیرو ہے، جمعیت علمائے پاکستان پر ایک خاندان کا مستقل غلبہ ہے۔ مگر سیاسی جماعتوں کی یہ جمہوریت دشمنی نہ ذرائع ابلاغ میں ٹھیک طرح سے زیر بحث آتی ہے نہ سیاسی جماعتوں کو اس صورت حال پر شرم آتی ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

adminshuja

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *