اگر آپ رات گئے تک جاگنے کے عادی ہیں تو علم ہوگا کہ ذاتی زندگی اور دفتری امور کے درمیان توازن برقرار رکھنا کافی مشکل ہوتا ہے۔
اب دریافت ہوا ہے کہ رات گئے تک جاگنے کے عادی افراد کو دماغی صحت سے جڑے مسائل کا سامنا صبح جلد جاگنے والوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔
یہ بات فن لینڈ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
ایسٹرن فن لینڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں 2266 افراد کو شامل کیا گیا تھا۔
ان افراد کو 3 گروپس میں تقسیم کیا گیا، جن میں سے ایک گروپ صبح جلد جاگنے والے افراد پر مشتمل تھا، دوسرا گروپ رات گئے تک جاگنے والوں کا تھا جبکہ تیسرے گروپ میں وہ افراد تھے جو نہ تو صبح جلد اٹھتے تھے اور نہ ہی رات گئے تک جاگتے تھے۔
ان افراد میں انزائٹی اور ڈپریشن کی علامات کا تجزیہ کیا گیا اور دیکھا گیا کہ ان کی دفتری ذمہ داریاں کس حد تک ان کے فارغ وقت پر اثرانداز ہوتی ہیں۔
تحقیق کے نتائج میں بتایا گیا کہ رات گئے تک جاگنے والے افراد میں دماغی صحت کے مسائل زیادہ عام ہوتے ہیں۔
درحقیقت رات گئے جاگنے والے افراد کو انزائٹی کا سامنا ہوتا ہے کیونکہ ان کے لیے دفتری اور ذاتی زندگی کے درمیان توازن برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ کام اور ذاتی زندگی کے درمیان توازن دماغی صحت کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل سلیپ ہیلتھ میں شائع ہوئے۔
اس سے قبل جون 2026 میں امریکا کی بریگھم ینگ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بھی بتایا گیا تھا کہ رات گئے تک جاگنے والے افراد میں انزائٹی کی سطح نمایاں حد تک زیادہ ہوتی ہے جبکہ رات کو تنہائی کا احساس اس دماغی مرض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔
اس تحقیق میں 442 افراد کو شامل کیا گیا تھا اور ان کی نیند کی عادات کی تفصیلات سوالنامے کے ذریعے حاصل کی گئی تھیں۔

Leave a Reply