نیشنل پارٹی کے مرکزی صدراور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا ہے کہ نیشنل پارٹی کے کارکنوں کو ذاتی اور گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفادات، قومی سیاست اور قومی سوچ کو اپنانا ہوگا۔یہ با ت انہوں نے نیشنل پارٹی کیچ کی ضلعی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان اس وقت مختلف نوعیت کی انتہاپسندی اور بدامنی کا شکار ہے، جس کے باعث عام شہری شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ ایک جانب نوشکی اور دیگر علاقوں میں لوگوں کو اپنے گھروں سے منتقل کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں اور باغات کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب قومی شاہراہوں کی بندش، ناکوں کے قیام، پلوں کو نقصان پہنچانے اور شہریوں کی گاڑیاں چھیننے کے واقعات بھی تشویشناک ہیں۔انہوں نے کہا کہ قیمتی گاڑیوں کو نذرِ آتش کرنے، عام شہریوں، نوجوانوں اور ملازمین کو اغوا کرنے، ان پر مبینہ طور پر انسانیت سوز تشدد کرنے اور تاوان وصول کرنے جیسے واقعات نے بلوچستان کے عوام میں شدید خوف اور بے چینی پیدا کر دی ہے۔ شہریوں سے گاڑیاں اور ایمبولینسیں چھیننے کے واقعات بھی قابلِ مذمت ہیں۔رہنماو¿ں نے کہا کہ ایسے اقدامات کے نتیجے میں بلوچستان کے عوام سنگین معاشی اور سماجی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔ نوجوانوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے، کاروبار تباہ ہو رہے ہیں اور اندرونِ بلوچستان آمدورفت کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام شہریوں کو کسی بھی صورت تشدد، بدامنی اور عدم تحفظ کا نشانہ نہیں بننا چاہیے۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ ملک اس وقت شدید معاشی دباو¿ اور امن و امان کی خراب صورتحال سے دوچار ہے، لیکن حکمران ان بنیادی مسائل کے حل پر توجہ دینے کے بجائے ملک کو مزید تقسیم کرنے کی پالیسیوں پر گامزن نظر آتے ہیں۔

Leave a Reply