جگر کو تندرست رکھنا مجموعی صحت کے لیے اہم ہوتا ہے۔
جگر کے متاثر ہونے سے اس عضو کے امراض کے ساتھ ساتھ میٹابولک ڈس آرڈر کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔
ہر سال 19 اپریل کو جگر کے امراض کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لیے عالمی دن منایا جاتا ہے۔
جگر ہمارے جسم کا سب سے بڑا اندرونی عضو ہے اور وہ متعدد افعال کو سرانجام دیتا ہے۔
یہ بلڈ کلاٹنگ کو کنٹرول کرتا ہے، خون میں موجود زہریلے مواد کو خارج کرتا ہے، بائل نامی سیال کو بننے میں مدد فراہم کرتا ہے اور بھی متعدد اہم کام کرتا ہے۔
درحقیقت جگر ہمارے جسم میں کسی بڑی فیکٹری یا کارخانے کی طرح کام کرتا ہے جو 500 سے زائد میٹابولک افعال میں مدد فراہم کرتا ہے
مثال کے طور پر جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو غذا معدے میں ہضم ہوتی ہے اور اس میں موجود غذائی اجزا براہ راست جگر میں پہنچ جاتے ہیں، جہاں جگر انہیں مختلف کاموں کے لیے استعمال ہونے کے قابل بناتا ہے۔
مگر کسی بیماری یا طرز زندگی کی عادات کے نتیجے میں جگر کو نقصان پہنچتا ہے اور اس کے افعال متاثر ہوتے ہیں۔
جگر کے امراض میں متعدد ایسی بیماریوں کو شامل کیا جاتا ہے جو جگر کے افعال کو متاثر کرتی ہیں۔
جگر پر چربی چڑھنا، ہیپاٹائٹس یا کینسر سمیت جگر کے امراض کی تعداد کافی زیادہ ہے۔
اس اہم عضو کو صحت مند رکھنے کے لیے وہ آسان طریقے جانیں جو ڈاکٹروں کی جانب سے تجویز کیے گئے ہیں

Leave a Reply