Daily Shujaat Quetta
June 27, 2026
🌤 Quetta,pk --°
تازہ خبریں
ایران جنگ میں اللہ نے پاکستان سے کام لیا، دنیا ہمیں پیس میکر کے نام سے جانتی ہے: اسحاق ڈارملک بھر میں 9 محرم الحرام کے جلوس اور مجالس کا انعقادنیتن یاہو کی مشکلات میں مزید اضافہ، ٹرمپ امریکا ایران ڈیل کو اسرائیلی مؤقف پر ترجیح دینے لگےامریکا کا ایرانی پاسدارانِ انقلاب کیساتھ براہ راست رابطے کا فیصلہایپل کے چیف ایگزیکٹو کا آئی فونز کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہکیا اسمارٹ فون کو چارجنگ کے دوران استعمال کرنے سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے؟میٹا نے فیس بک میں بہت بڑی تبدیلیاں کر دیںجی میل میں اے آئی سمریز کا فیچر دنیا بھر کے صارفین کیلئے متعارفگوگل ارتھ کی خفیہ فلائٹ سمولیٹر گیم اب تمام صارفین کو مفت دستیابانسٹا گرام میں اب ہر فوٹو یا ویڈیو پوسٹ میں کیپشن تحریر کرنا ممکنایران جنگ میں اللہ نے پاکستان سے کام لیا، دنیا ہمیں پیس میکر کے نام سے جانتی ہے: اسحاق ڈارملک بھر میں 9 محرم الحرام کے جلوس اور مجالس کا انعقادنیتن یاہو کی مشکلات میں مزید اضافہ، ٹرمپ امریکا ایران ڈیل کو اسرائیلی مؤقف پر ترجیح دینے لگےامریکا کا ایرانی پاسدارانِ انقلاب کیساتھ براہ راست رابطے کا فیصلہایپل کے چیف ایگزیکٹو کا آئی فونز کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہکیا اسمارٹ فون کو چارجنگ کے دوران استعمال کرنے سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے؟میٹا نے فیس بک میں بہت بڑی تبدیلیاں کر دیںجی میل میں اے آئی سمریز کا فیچر دنیا بھر کے صارفین کیلئے متعارفگوگل ارتھ کی خفیہ فلائٹ سمولیٹر گیم اب تمام صارفین کو مفت دستیابانسٹا گرام میں اب ہر فوٹو یا ویڈیو پوسٹ میں کیپشن تحریر کرنا ممکن

سرکاری اداروں کی جانب سے تقریباً ایک ہزار ارب روپے خلاف قواعدکمرشل بینکوں میں رکھنےکا انکشاف

اسلام آباد: سرکاری اداروں کی جانب سے تقریباً ایک ہزار ارب روپے خلاف قواعد کمرشل بینکوں میں  رکھنے اور   سکیورٹیز   اینڈ  ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے افسران پر کروڑوں  روپےکی نوازشات کا انکشاف ہوا ہے۔

 جنگ  اور  دی نیوز  میں شائع مہتاب حیدر کی رپورٹ کے مطابق سرکاری اداروں نے 1000 ارب روپے فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں منتقل کرنے کے بجائے کمرشل بینکوں میں رکھے ہوئے ہیں، جو کہ مبینہ طور پر پبلک فنانس منیجمنٹ ایکٹ 2019 کی خلاف ورزی ہے۔

اس کے علاوہ سکیورٹیز  اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے وزارت خزانہ کی منظوری لیے بغیر اُس وقت کے چیئرمین، کمشنرز، ایگزیکٹو ڈائریکٹرز،  ڈائریکٹرز   اور دیگر افسران کو تنخواہوں، مراعات اور اضافی فوائد کی مد میں ایک  ارب 19 کروڑ  روپے  سے  زائد  ادا کیے۔

 رپورٹ کے مطابق یہ عمل پبلک فنانس منیجمنٹ ایکٹ 2019 کی خلاف ورزی ہے ، یہ تمام مراعات گزشتہ 16 ماہ یعنی یکم جولائی2023 سے31 اکتوبر 2024 کے دوران ایس ای سی پی بورڈ کی منظوری سے دی گئیں۔

ایس ای سی پی کے ترجمان کے مطابق ایس ای سی پی پالیسی بورڈ یہ منظوری دے سکتا ہے ۔

شیئر کریں: WhatsApp

adminshuja

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *