پشاور۔گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے کی موجودہ سیاسی صورتحال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے سیاسی سرگرمیوں اور نمائشی اقدامات پر توجہ دی جا رہی ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسمبلی اجلاس کے انعقاد پر اٹھنے والے اخراجات کو اگر یونیورسٹی ملازمین کی تنخواہوں پر خرچ کیا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔گورنر کے پی نے کہا کہ آئین میں اختیارات تو موجود ہیں، تاہم یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ حالیہ اجلاس حکومت کے خلاف تھا یا اسپیکر کے خلاف، کیونکہ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اپنے ہی خلاف اجلاس بلا لیا گیا۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ گراو¿نڈز نوجوانوں کی سرگرمیوں کے لیے بنائے جاتے ہیں، لیکن انہیں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جو افسوسناک ہے۔فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ صوبے میں سیاسی جماعت کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ چکے ہیں اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کرپشن کا بازار گرم ہے اور بعض عناصر تاحیات مراعات لینے کی باتیں کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے صوبے کے مسائل پر توجہ دیں اور عوام کی فلاح کے لیے اقدامات کریں، نہ کہ غیر ضروری سیاسی سرگرمیوں میں وقت ضائع کریں۔ان کا کہنا تھا کہ صرف بیانات دینے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا سرمایہ کاری، ترقی اور جدید کاروباری سرگرمیوں کے لیے ایک سازگار اور پرکشش خطہ ہے۔

Leave a Reply