Daily Shujaat Quetta
June 20, 2026
🌤 Quetta,pk --°
تازہ خبریں
ایپل کے چیف ایگزیکٹو کا آئی فونز کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہکیا اسمارٹ فون کو چارجنگ کے دوران استعمال کرنے سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے؟میٹا نے فیس بک میں بہت بڑی تبدیلیاں کر دیںجی میل میں اے آئی سمریز کا فیچر دنیا بھر کے صارفین کیلئے متعارفگوگل ارتھ کی خفیہ فلائٹ سمولیٹر گیم اب تمام صارفین کو مفت دستیابانسٹا گرام میں اب ہر فوٹو یا ویڈیو پوسٹ میں کیپشن تحریر کرنا ممکنپسنی کے قریب فجیرہ سے آنے والے آئل ٹینکر میں کریو کے رہائشی حصے میں لگنے والی آگ بجھا دی گئیالیکشن کمیشن نےگلگت بلتستان انتخابات کےسرکاری نتائج کا اعلان کردیاپیٹرول پر فی لیٹر لیوی 40 روپے 49 پیسے کم کردی گئی، ذرائع پیٹرولیم ڈویژنکیا آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے کسی بیماری کا نتیجہ ہوسکتے ہیں؟ایپل کے چیف ایگزیکٹو کا آئی فونز کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہکیا اسمارٹ فون کو چارجنگ کے دوران استعمال کرنے سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے؟میٹا نے فیس بک میں بہت بڑی تبدیلیاں کر دیںجی میل میں اے آئی سمریز کا فیچر دنیا بھر کے صارفین کیلئے متعارفگوگل ارتھ کی خفیہ فلائٹ سمولیٹر گیم اب تمام صارفین کو مفت دستیابانسٹا گرام میں اب ہر فوٹو یا ویڈیو پوسٹ میں کیپشن تحریر کرنا ممکنپسنی کے قریب فجیرہ سے آنے والے آئل ٹینکر میں کریو کے رہائشی حصے میں لگنے والی آگ بجھا دی گئیالیکشن کمیشن نےگلگت بلتستان انتخابات کےسرکاری نتائج کا اعلان کردیاپیٹرول پر فی لیٹر لیوی 40 روپے 49 پیسے کم کردی گئی، ذرائع پیٹرولیم ڈویژنکیا آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے کسی بیماری کا نتیجہ ہوسکتے ہیں؟

ہائی بلڈ پریشر سے تحفظ فراہم کرنے والی بہترین 16 غذائیں

فشار خون یا ہائی بلڈ پریشر کے شکار اکثر افراد کو اس سے لاعلم رہتے ہیں کہ وہ اس مرض کا شکار ہوچکے ہیں اور اسی وجہ سے اسے خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کی علامات عموماً اسی وقت ظاہر ہوتی ہیں جب اس کی شدت بہت زیادہ بڑھ چکی ہو۔

ہائی بلڈ پریشر سے ہارٹ اٹیک یا فالج جیسے جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

صحت کے لیے فائدہ مند طرز زندگی سے اس بیماری کا شکار ہونے سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔

دل کی صحت کے لیے مفید غذائیں بلڈ پریشر کو صحت مند سطح پر رکھنے کے لیے بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔

پوٹاشیم اور میگنیشم سے بھرپور غذائیں اس حوالے سے زیادہ بہترین ثابت ہوتی ہیں۔

ایسی ہی غذاؤں کے بارے میں جانیں جو بلڈ پریشر کو صحت مند سطح پر رکھنے میں مدد فراہم کرسکتی ہیں۔

ان پھلوں میں وٹامنز، منرلز اور نباتاتی مرکبات موجود ہوتے ہیں جو دل کو صحت مند رکھنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں اور اس طرح ہائی بلڈ پریشر سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ کچھ مقدار میں پھل کھانے سے بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد ملتی ہے اور اس حوالے سے ترش پھل زیادہ مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

گریپ فروٹ اور مالٹے کا جوس پینے سے بھی بلڈ پریشر کو کم رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ہر ہفتے 2 بار مچھلی کھانے کی عادت سے امراض قلب بشمول ہائی بلڈ پریشر سے متاثر ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

پالک یا ایسی ہی دیگر سبزیوں میں نائٹریٹ کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جس سے بلڈ پریشر کی سطح صحت مند رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

پستے، اخروٹ اور کدو کے بیج سمیت دیگر گریاں اور بیج بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لیے بہترین ہوتے ہیں۔

بیشتر گریوں اور بیجوں میں فائبر اور ایسے غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں جو بلڈ پریشر کو بڑھنے سے روکنے کے لیے اہم تصور کیے جاتے ہیں۔

دالوں کا زیادہ استعمال بھی بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح میں کمی لاتا ہے۔

ان میں موجود میگنیشم اور پوٹاشیم جیسے اجزا بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

بیریز صحت کے لیے بہت زیادہ بہترین ثابت ہوتی ہیں، خاص طور پر امراض قلب سے متاثر ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

بیریز میں اینٹی آکسائیڈنٹس کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جس سے بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

زیتون کا تیل صحت کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے خاص طور پر دل کی صحت بہتر ہوتی ہے اور بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

گاجروں میں ایسے نباتاتی مرکبات کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو جسم کے مختلف افعال جیسے بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔

انڈے بھی بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے بہترین ثابت ہوسکتے ہیں۔

ٹماٹر میں پوٹاشیم اور لائیکوپین جیسے اجزا موجود ہوتے ہیں۔ تحقیقی رپورٹس کے مطابق ٹماٹر کھانے سے بلڈ پریشر کو مستحکم رکھنے میں مدد ملتی ہے جس سے امراض قلب کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

دہی کھانے کی عادت سے بھی بلڈ پریشر کی سطح کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے درحقیقت اس کو کھانے سے ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہونے سے بچنا بھی آسان ہوجاتا ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

adminshuja

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *