پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ میں محمود کی حیثیت سے جو عہدہ میرے پاس ہے اس کی حیثیت سے انتہائی نرم الفاظ میں آپ سے کہتا ہوں کہ حکومت واضح طور پر بتائے عمران خان کی ملاقات کب ہو گی؟ عمران خان کی مرضی سے فیملی کی مرضی کے ہسپتال علاج کروانا ہے یا نہیں؟ 3 دن کا وقت ہمیں بتایا جائے ورنہ سوموار سے یہ اسمبلی اگر نہیں چلے گی تو ہم ذمہ دار نہیں ہوں گے، ملک میں پنکی منکی ہو رہی ہے پیپلز پارٹی کے ہاتھ مروڑنے کی بھی باتیں ہو رہی ہیں۔
واضح رہے کہ محمود خان اچکزئی کی اسمبلی میں تقاریر مسلسل سنسر کی جارہی ہے ۔ محمود خان اچکزئی نے گزتشتہ روز اسمبلی اجلاس سے خطاب میں کہا کہ عمران خان وزیر اعظم رہ چکا ہے اس ملک کے کروڑوں عوام کے دل کی وہ آواز ہے، آپ خود آپ ہمیں پش کر رہے ہیں کہ ہم پھر ہنگاموں کی طرف جائیں؟ ہم پھر یہاں کسی کو بولنے نہ دیں؟ دنیا کا قانون ہے کہ بدترین قاتلوں، ڈاکو¶ں، ڈرگ ٹریفکرز ، بدکار انسانوں کو جیلوں میں بند کیا جاتا ہے لیکن ان کے ملاقات پر پابندی نہیں ہوتی۔عمران خان اس ملک کا سب سے پاپولر لیڈر ہے، بہنیں منت کر رہی ہیں، سیاسی لوگ منت کر رہے ہیں، دنیا منت کر رہی ہے، آپ ملاقات کی اجازت نہیں دیتے۔ آپ ہمیں کہاں لے جا رہے ہیں؟ اگر آپ کا فیصلہ ہے، شہباز اور اس کے دوستوں کا فیصلہ ہے، یہ نہیں چلے گا کہ بس ہم سب کھڑے ہوں کہ جی شہباز، تم لوگوں کا سر رہے سلامت قومی نشان ہمارا۔ ایسے نہیں ہو گا جناب اسپیکر، یہ پارلیمنٹ پاکستان کی طاقت کا سرچشمہ تھا۔ دکھ ہوتا ہے میں کسی کا نام نہیں لیتا، وہ پارٹیاں جو چھوٹے صوبوں کی نمائندگی کرتی ہیں

Leave a Reply