کالم:محمد حسین محنتی
ایک اسلامی تحریک کے لیے تربیت ”روح“ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ افراد کو محض کارکن نہیں بلکہ باکردار، باصلاحیت اور مخلص داعی بناتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن تحریکات نے تربیت کے نظم کو مو?ثر اور مضبوط بنایا، وہی کامیاب رہیں۔ آج بھی ضرورت اس امر کی ہے اسلامی تحریکات اپنی صفوں میں فعال اور موثر تربیتی نظام قائم کریں تاکہ ایک صالح معاشرہ اور مضبوط امت مسلمہ وجود میں آسکے۔ تحریکات کا کام صرف جلسے، جلوس، اجلاس اور سیاسی سرگرمیاں منعقد کرنے پر ختم نہیں ہوجاتا بلکہ اصل مقصد معاشرے کی ہمہ گیر تبدیلی کا ہے۔ کسی نظریاتی تحریک کی کامیابی کا دارومدار اس کے کارکنان اور قائدین کی فکری و اخلاقی ساخت پر ہوتا ہے۔ اسلامی تحریکوں کی تاریخ گواہ ہے کہ جہاں نظریاتی شفافیت اور ٹھوس تربیت کا فقدان رہا، وہاں تحریکیں اپنے مقاصد سے دور ہوگئیں یا مٹ گئیں۔
’تربیت‘ کا لفظ ’ربّ‘ سے نکلا ہے، جس کے معنی نشوونما دینا، پرورشِ کرنا، بتدریج کسی چیز کو کمال تک پہنچانا۔ اصطلاحی طور پر تربیت سے مراد انسان کی پوشیدہ جسمانی ذہنی اخلاقی اور روحانی صلاحیتوں کو ا±جاگر کرنا ہے۔ اس کے اخلاق و کردار کو سنوارنا، اور اس کی فکر کو نظریے کے مطابق ہم آہنگ کرنا ہے تاکہ وہ اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے تابع کر سکیں۔ یہ محض معلومات کی فراہمی نہیں بلکہ شخصیت کی تعمیر کا عمل ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے تربیت کا مقصد صرف علم دینا نہیں بلکہ کردار سازی اور عملی زندگی میں دین کو اخذ کرنا ہے کسی بھی اسلامی تحریک کی کامیابی کا دارومدار اس کے افراد کی تربیت پر ہوتا ہے۔ بغیر تربیت کے نہ قیادت مضبوط رہتی ہے اور نہ کارکنان ثابت قدم۔ قرآن مجید میں بارہا تزکیہ نفس اور تعلیم و تربیت کو انبیاءکی بنیادی ذمے داری قرار دی گئی ہے۔ سور الجمعہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”وہی ہے جس نے امیوں میں ایک ایسا رسول بھیجا جو ان پر اس کی آیات تلاوت کرتا ہے ان کا تزکیہ کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے“۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ فرد کی اصلاح و تربیت اقامت دین کی بنیاد ہے۔ قرآن مجید میں تربیت کو ایمان باللہ، آخرت کی جواب دہی کا احساس، صبر، تقوی اور عمل صالح کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ احادیث میں سیدنا محمدنے فرمایا: ”میں معلم بناکر بھیجا گیا ہوں“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپکا مشن تربیت کا تھا۔ اس آیت میں تعلیم سے پہلے ’تزکیہ‘ تربیت کا ذکر اس کی اہمیت کو ا±جاگر کرتا ہے۔ نبی کریمنے مکی دور کے تیرہ برسوں میں محض ایمان اور اخلاق کی تربیت کے ذریعے ایک ایسی جماعت تیار کی جو بعد میں دنیا کی امامت کے قابل بنی۔ حدیث میں بھی بار بار ’اصلاحِ قلب‘ اور ’حسن ِ خلق‘ پر زور دیا گیا ہے جو کہ تربیت کا بنیادی محور ہے۔ جب تک کارکن کا اپنا تزکیہ نہ ہو، وہ معاشرے کو نہیں بدل سکتا۔ تربیت تحریک کو تین چیزیں فراہم کرتی ہے استقامت، نظم و ضبط اور اخلاص۔ کسی دینی جماعت کو اپنے قائدین اور کارکنان کی تربیت میں سب سے پہلے عقیدہ کی درستی، پھر عبادات کی پابندی اس کے بعد اخلاقی اور سماجی اصلاح شامل ہونی چاہیے۔ تربیت تدریجی، مسلسل اور عملی ہونی چاہیے۔ ایک دینی جماعت کو اپنے افراد کی تربیت کے لیے دو سطحی حکمت عملی اپنانی چاہیے۔
کارکنان کے لیے: مطالعہ قرآن و حدیث میں باقاعدگی، سیرت النبی کا گہرا مطالعہ، اجتماعی عبادات میں باقاعدگی، میدان عمل میں خدمت ِ خلق۔ کارکن کو ’علمی‘ اور ’عملی‘ دونوں محاذوں پر تیار کرنا ضروری ہے۔ قائدین کے لیے ’محاسبہ نفس‘ کا نظام، صبر و استقامت کی مشق، اور دور اندیشی پیدا کرنے کے لیے حالات حاضرہ کا گہرا تجزیاتی مطالعہ لازمی ہے۔ ان کے لیے ’تنہائی‘ میں اپنا محاسبہ اور اللہ تعالیٰ کی یاد تاکہ وہ غرور و تکبر سے بچ سکیں۔ تربیتی کیمپ، دروس، مطالعاتی حلقے، اور اصلاحی نشستیں جس میں خامیاں دور کرنے پر گفتگو ہو سب سے بہترین ذرائع ہیں اس وقت دنیا میں تین بڑی معروف اسلامی تحریکات میدان عمل میں موجود ہیں۔ جن کے نظام تربیت مقامی حالات، جدوجہد اور کشمکش کو سامنے رکھتے ہوئے تشکیل دیے گئے ہیں۔ اس لیے ان تینوں تحریکات نے اپنے معاشرے کو نئے انسان عطا کیے۔ اسے ہم مندرجہ زیل میں بیان کرتے ہیں۔
اخوان المسلمین نے اپنے قیام کے بعد ایک جامع تربیتی نظام قائم کیا جس کی بنیاد ایمان اخلاص اور جہاد فی سبیل اللہ پر رکھی گئی اس کے بانی حسن البنا نے ’نظام اسرہ‘ چھوٹے تربیتی حلقے بمعنی خاندان کا نظام متعارف کرایا۔ پانچ سے دس افراد کا ایک حلقہ، جو ہفتہ وار ملتا ہے، جہاں کارکنان کی فکری روحانی اور عملی تربیت کی جاتی تھی ان حلقوں میں قرآن و احادیث کا مطالعہ، اسلامی تاریخ و تنظیمی شعور پیدا کرنا باہمی محاسبہ اور ایک دوسرے کی مدد شامل ہے۔ ان کا زور ”فرد کی اصلاح“ پر ہے تاکہ وہ معاشرے کا بہترین حصہ بن سکے۔ اس نظام میں اخوان نے مشکل حالات اور آزمائشوں میں اپنا وجود برقرار رکھا اور خاندان کی طرح ایک دوسرے کی امداد کرنا آسان بنادیا۔ تربیت کا ایک موثر طریقہ کتیبہ کا بھی ہے جس میں کئی شب و روز کے لیے شہر سے باہر خیمے نصب کرکے تحریک کے سینئر رہنما کارکنان کو ذہنی اور جسمانی تربیت فراہم کرتے ہیں۔ آج کل ان کی تربیت جیلوں اور اذیت خانوں میں ہورہی ہے۔
جماعت اسلامی نے برصغیر میں ایک منظم تربیتی ماڈل پیش کیا۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی نے فکری تربیت پر خاص زور دیا۔ جماعت کی رکنیت سے پہلے کئی تربیتی مراحل رکھے گئے ہیں جن میں مطالعہ قرآن واحادیث ولٹریچر، ’درسِ قرآن‘ اور تنظیمی اجتماعات اور سرگرمیوں میں شرکت کو بنیاد بنایا ہے۔ جماعت کا تربیتی نظام فکری گہرائی پر مبنی ہے۔ جماعت میں کارکنوں کے لیے کتابوں کا ایک نصاب مقرر ہے جس کے ذریعے وہ تحریک کے ’نظامِ فکر‘ کو سمجھتے ہیں اور عمل بھی کرتے ہیں۔ جماعت میں تربیتی کیمپ اور تربیتی اجتماعات کا انعقاد بھی ہوتا ہے۔ اسٹڈی سرکلز میں اجتماعی مطالعہ اور بحث و مباحثہ کے ذریعے ذہن سازی کی جاتی ہے۔ اسی لیے وزارتوں میں جانے کے باوجود جماعت کے ارکان پر کرپشن کا کوئی دھبہ نہیں۔
حماس: حماس کی تربیت کا عکس طوفان اقصیٰ اور اسرائیل کے سامنے دو سالہ مزاحمت اور قربانیوں میں نظر آیا۔ حماس نے اپنے تربیتی نظام میں ’جہادی روح‘ اور ’ایمانی پختگی‘ اور مالی و جانی قربانی کو یکجا کیا ہے۔ یہ تحریک صرف کتابی مطالعے پر اکتفا نہیں کرتی، بلکہ ان کا قد تربیتی نظام سخت حالات میں عملی جدو جہد، صبر و استقامت، عسکری نظم و ضبط اور مقامی آبادی کے ساتھ خدمت کے رشتے کو جوڑنے پر مرکوز ہے۔ مساجد تعلیمی ادارے اور فلاحی سرگرمیاں اس کے تربیتی نظام کا حصہ ہیں۔ قرآن حفظ کرنا، سمجھنا اور اپنی زندگی کو قرآن کے رنگ میں رنگ لینا۔ ان کا منہج یہ ہے کہ ”اسلامی زندگی کا اطلاق ہی بہترین تربیت ہے“۔
تربیت کسی بھی تحریک کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ محض جذباتیت یا سیاسی بیانات اور نعرے تحریک کو زندہ نہیں رکھ سکتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی تحریکوں میں ’سیاست‘ اور ’تربیت‘ کے توازن کو قائم رکھیں۔ جس دن تربیت کا عمل کمزور پڑے گا، تحریکیں اپنی روح کھو بیٹھیں گی۔ آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ان تینوں تحریکات کو غلبہ دین کی جدو جہد میں کامیابی عطا فرمائے۔ اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے“۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ فرد کی اصلاح و تربیت اقامت دین کی بنیاد ہے۔ قرآن مجید میں تربیت کو ایمان باللہ، آخرت کی جواب دہی کا احساس، صبر، تقوی اور عمل صالح کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ احادیث میں ”میں معلم بناکر بھیجا گیا ہوں“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا مشن تربیت کا تھا۔ اس آیت میں تعلیم سے پہلے ’تزکیہ‘ تربیت کا ذکر اس کی اہمیت کو ا±جاگر کرتا ہے۔ نبی کریمنے مکی دور کے تیرہ برسوں میں محض ایمان اور اخلاق کی تربیت کے ذریعے ایک ایسی جماعت تیار کی جو بعد میں دنیا کی امامت کے قابل بنی۔ حدیث میں بھی بار بار ’اصلاحِ قلب‘ اور ’حسن ِ خلق‘ پر زور دیا۔
ة گیا ہے جو کہ تربیت کا بنیادی محور ہے۔ جب تک کارکن کا اپنا تزکیہ نہ ہو، وہ معاشرے کو نہیں بدل سکتا۔ تربیت تحریک کو تین چیزیں فراہم کرتی ہے استقامت، نظم و ضبط اور اخلاص۔ کسی دینی جماعت کو اپنے قائدین اور کارکنان کی تربیت میں سب سے پہلے عقیدہ کی درستی، پھر عبادات کی پابندی اس کے بعد اخلاقی اور سماجی اصلاح شامل ہونی چاہیے۔ تربیت تدریجی، مسلسل اور عملی ہونی چاہیے۔ ایک دینی جماعت کو اپنے افراد کی تربیت کے لیے دو سطحی حکمت عملی اپنانی چاہیے۔
آمین
تحریکات اسلامی میں نظام تربیت کی اہمیت و عملی تقاضے
adminshuja
اگلی خبر →
پاک بھارت انوکھے تصادم کا ایک سال

Leave a Reply