کالم:امیر محمد کلوڑ
بے شک اللہ کے ہر کام میں حکمت پوشیدہ ہے اور وہ سب سے بڑا حکیم ہے۔ جدید دنیا آج ”لیڈر شپ“ پر ہزاروں کتابیں لکھ رہی ہے۔ ہارورڈ اور آکسفورڈ سے لے کر جدید نفسیات اور کارپوریٹ ٹریننگ تک ہر جگہ یہ سوال زیرِ بحث ہے کہ ایک اچھا رہنما کیسے بنتا ہے؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ جدید قیادت کی نفسیات (leadership psychology) آج جن صفات کو عظیم قیادت کی بنیاد قرار دے رہی ہے، وہی صفات صدیوں پہلے انبیاءکرام کی زندگیوں میں موجود تھیں، اور ان صفات کی ابتدائی تربیت کا ایک عجیب مگر گہرا ذریعہ ”بکریاں چرانا“ تھا۔ جدید نفسیات کہتی ہے کہ فطرت کے قریب رہنا، خاموشی میں وقت گزارنا، کمزور مخلوق کی نگرانی کرنا، اور مسلسل مشاہدہ انسان کے اندر صبر، برداشت، ہمدردی اور جزباتی توازن پیدا کرتا ہے۔ آج ”Animal Assisted Therapy “، ”Mindfulness“ اور ”Servant Leadership“ جیسے تصورات دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں پڑھائے جا رہے ہیں۔ مغربی مصنفین اب یہ لکھ رہے ہیں کہ دنیا کو صرف حکم چلانے والے رولر نہیں بلکہ نگہبانی کرنے والے چرواہے درکار ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندوں کو نبوت سے پہلے چرواہے کی زندگی سے گزارا۔ صحیح بخاری کی مشہور حدیث میں نبی اکرم جو کہ اس کائنات کے کامل ترین انسان ہیں، انہوں نے فرمایا: ”اللہ نے جتنے نبی بھی بھیجے، سب نے بکریاں چرائیں“۔ صحابہؓ نے عرض کیا: ”یارسول اللہ! آپ نے بھی؟“ فرمایا: ”ہاں، میں بھی مکہ والوں کی بکریاں چند سکوں کے بدلے چرایا کرتا تھا“۔
یہ محض ایک پیشہ نہیں تھا بلکہ ایک تربیتی مرحلہ تھا۔ بکریاں چرانا آسان کام نہیں۔ بکریاں جلد منتشر ہو جاتی ہیں، بعض ضدی ہوتی ہیں، بعض کمزور، بعض پیچھے رہ جاتی ہیں۔ چرواہے کو ہر وقت بیدار رہنا پڑتا ہے۔ وہ شور مچا کر نہیں بلکہ خاموش نگرانی اور مسلسل موجودگی سے ریوڑ کو سنبھالتا ہے۔ جدید نفسیات اسے ”situational awareness“ اور ”calm leadership“ کہتی ہے۔ حیرت انگیز طور پر یہی خصوصیات انبیاءکرام میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔ قرآنِ مجید میں سیدنا موسیٰ علیہ سلام کا ذکر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پوچھا: ”اے موسیٰ! تمہارے ہاتھ میں کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”یہ میری لاٹھی ہے، میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں“۔ گویا نبوت سے پہلے موسیٰ نے بھی چرواہے کی زندگی گزاری۔ اسی طرح اسلامی روایات میں سیدنا داودکے متعلق بھی آتا ہے کہ وہ بکریاں چرایا کرتے تھے۔سوال یہ ہے کہ آخر انبیاءہی کیوں؟ اس کی حکمت شاید یہ تھی کہ جو انسان کمزور جانوروں کی حفاظت کرنا سیکھ لے، وہ بعد میں انسانوں کی رہنمائی بھی رحمت کے ساتھ کرتا ہے۔ چرواہا ریوڑ کو ڈنڈے سے نہیں چلاتا بلکہ اعتماد سے چلاتا ہے۔ اگر وہ گھبرا جائے تو پورا ریوڑ بکھر جاتا ہے۔ اسی لیے اچھا چرواہا پ رسکون رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاءشدید ترین حالات میں بھی متوازن، نرم مزاج اور صابر رہے۔ جدید مغربی کتاب ”The Modern Shepherd“ میں مصنف نے ایک بہت خوبصورت جملہ لکھا ہے: ”قوموں کی قیادت سے پہلے انبیائ نے کمزور مخلوق کو دشوار راستوں سے گزارنا سیکھا“۔ یہ دراصل نبوی نفسیات کی بنیاد ہے۔ نبی صرف حکم دینے والا نہیں ہوتا بلکہ سنبھالنے والا، جوڑنے والا، اور کمزور کا خیال رکھنے والا ہوتا ہے۔ اسلام میں ”راعی“ یعنی چرواہے کا تصور بہت وسیع ہے۔ حدیث میں آتا ہے: ”تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہے“۔ یہاں حاکم بھی راعی ہے، باپ بھی راعی ہے، استاد بھی راعی ہے۔ گویا اسلام میں قیادت کا اصل مطلب حکومت نہیں بلکہ نگہبانی ہے۔
سورہ? الانعام بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ”الانعام“ کا مطلب چرنے والے چوپائے ہیں۔ قرآن ان جانوروں کو محض معاشی فائدے کی چیز نہیں بلکہ اللہ کی نشانی قرار دیتا ہے۔ انسان جب صحرا، خاموشی، آسمان، اور ریوڑ کے درمیان وقت گزارتا ہے تو اس کے اندر کی انا ٹوٹتی ہے۔ وہ صبر سیکھتا ہے، تحمل سیکھتا ہے، اور یہ سمجھتا ہے کہ طاقت کا اصل مقصد کمزور کی حفاظت ہے۔
آج کی دنیا کا المیہ یہ ہے کہ ہمارے پاس منیجربہت ہیں مگر چرواہے کم ہیں۔ لوگ حکم دینا چاہتے ہیں مگر سنبھالنا نہیں چاہتے۔ حالانکہ انبیائ کی سنت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ عظیم قیادت طاقت سے نہیں بلکہ شفقت، صبر اور ذمے داری سے پیدا ہوتی ہے۔ آج AI اور ربوٹکس میں بھی ”shepherding“ کا تصور استعمال ہو رہا ہے۔ مثلاً swarm robotics میں ایک intelligent guide پورے گروہ کو منتشر ہونے سے بچاتا ہے۔ یہ تقریباً وہی اصول ہے کہ، ایک دانا رہنما کمزور اور منتشر گروہ کو سمت دیتا ہے۔ شاید اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کو پہلے بکریوں کا چرواہا بنایا، پھر انسانیت کا رہنما بنایا۔

Leave a Reply