کالم:وزیر علی جمالی
سندھ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمے داری بچوں کے اغوا کے نیٹ ورک کو توڑنا ہے، لیکن نیٹ ورک توڑنا تو دور کی بات، جب کوئی بچہ یا بچی اغوا ہو جاتی ہے تو اسے بازیاب کروانے میں بھی ریکارڈ نااہلی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ کچھ دن قبل میہڑ شہر سے معصوم بچی آجالا پروین سولنگی کے اغوا کا واقعہ سندھ بھر میں ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے، جس پر اس کے ورثاء، مقامی افراد اور پوری سندھ میں شدید احتجاج کیا جا رہا ہے۔ ہر سال اربوں روپے کا بجٹ خرچ ہونے کے باوجود، درجنوں خفیہ اداروں، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آجالا سولنگی کو زمین نگل گئی ہے یا آسمان اٹھا کر لے گیا ہے؟ آج 25 دن گزر چکے ہیں، میہڑ کے سیندھل مہیسر پاڑے کی ایاز کالونی سے اغوا ہونے والی 6 سالہ بچی آجالا پروین سولنگی اب تک بازیاب نہیں ہو سکی۔ اس کی بازیابی ایک سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ پولیس 23 دن گزرنے کے باوجود نہ تو معصوم بچی کو بازیاب کروا سکی ہے اور نہ ہی ملزمان کو گرفتار کر سکی ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ سندھ میں لاقانونیت اور جنگل کا قانون قائم ہو چکا ہے۔
”محفوظ عورت، مضبوط پاکستان“ کا نعرہ لگانے والی پیپلز پارٹی حکومت میں سندھ کی بیٹیاں غیر محفوظ ہو چکی ہیں، جبکہ سندھ پولیس اس وقت وڈیروں اور بااثر افراد کے پروٹوکول میں مصروف ہے۔ فضیلہ سرکی، پریا کماری اور اب آجالا پروین سولنگی کے اغوا اور عدم بازیابی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ سندھ میں حکومت سمیت تمام ادارے ناکام ہو چکے ہیں۔ یہ واقعہ پولیس، منتخب نمائندوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نااہلی کا واضح ثبوت بھی ہے۔ آجالا سولنگی کی بازیابی کے لیے دادو اور میہڑ میں سیاسی، سماجی تنظیموں اور سول سوسائٹی کی جانب سے کئی روز سے احتجاج، دھرنے اور ریلیاں نکالی جا رہی ہیں، لیکن تین ہفتوں سے زائد وقت گزرنے کے باوجود پولیس آسے بازیاب نہیں کرا سکی، جبکہ اس کے گھر میں کہرام مچا ہوا ہے۔ فضیلہ سرکی، پریا کماری اور اب آجالا سولنگی کے لاپتا ہونے کے بعد سندھ بھر کے والدین شدید خوف اور پریشانی میں مبتلا ہیں، یہاں تک کہ بعض والدین نے اپنے بچوں کو اسکول بھیجنا بھی بند کر دیا ہے۔ میہڑ میں آجالا کے ساتھ پنہور برادری کے دو 10 سالہ سگے کزن بھی لاپتا ہیں۔ عوام کے ٹیکس کے پیسوں پر پلنے والی پولیس نے معصوم بچی کو بازیاب کروانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ دادو کے ایس ایس پی فرماتے ہیں کہ جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اب تک پیش رفت کیا ہوئی ہے؟ سندھ کے مختلف شہروں میں احتجاج جاری ہیں، مگر حکمرانی کو صرف عیاشی سمجھنے والے ہمارے احتجاج پروف حکمران اس معاملے سے لاتعلق بنے ہوئے ہیں۔ دادو کے ایس ایس پی نے بھی ایک ہفتے بعد بمشکل آجالا پروین کے ورثاءکے پاس جانے کی زحمت کی۔ اغوا شدہ آجالا کے گھر میں ماتم برپا ہے، ہر طرف آہ و بکا ہے، اور نااہل پولیس کو معصوم بچی کی ماں کے آنسووں میں ڈوب مرنا چاہیے۔
سندھ میں بچوں کے اغوا کے بڑھتے ہوئے واقعات اب صرف انفرادی جرائم تک محدود نہیں رہے بلکہ ایک منظم نیٹ ورک کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جو معاشرے کے بنیادی ڈھانچے کے لیے سنگین خطرہ بن گیا ہے۔ ہر چند روز بعد کسی نہ کسی شہر یا گاوں سے کسی معصوم بچے کے اغوا کی خبر سامنے آتی ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے، خصوصاً پولیس، عوام کے تحفظ کے بجائے وی وی آئی پیز کی سیکورٹی اور پروٹوکول تک محدود نظر آتی ہے۔ شہروں کی سڑکوں پر بڑی تعداد میں پولیس اہلکار اہم شخصیات کی آمد و رفت کے لیے تعینات کیے جاتے ہیں، جبکہ عام شہری خود کو بے یار و مددگار محسوس کرتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب عوام ٹیکس ادا کرتے ہیں تو پھر انہیں تحفظ کیوں فراہم نہیں کیا جاتا؟ سندھ میں چھوٹے بچوں کے اغوا کے واقعات خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں، لیکن ان کی روک تھام کے لیے کوئی موثر حکمت عملی نظر نہیں آتی۔ کئی واقعات میں مجرموں کو گرفتار کرنا تو دور کی بات، ابتدائی تحقیقات بھی سنجیدگی سے نہیں کی جاتیں۔ نتیجتاً جرائم پیشہ عناصر کے حوصلے بلند ہوتے جا رہے ہیں اور وہ مزید بے خوف ہو کر اپنی کارروائیاں جاری رکھتے ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض واقعات میں متاثرہ خاندانوں کو خود ہی کوششیں کر کے اپنے بچوں کو واپس لانا پڑتا ہے، جو ریاستی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔
سندھ میں بچوں کے تحفظ کے لیے قوانین موجود ہیں، لیکن ان پر عملدرآمد کا فقدان سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ جب قوانین صرف کاغذوں تک محدود رہ جائیں تو ان کی موجودگی بے معنی ہو جاتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروانے کے لیے ذمے دار اداروں کو جوابدہ بنایا جائے۔ اگر کسی بھی سطح پر غفلت یا لاپروائی ثابت ہو تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔ غیر سرکاری تنظیمیں، جو سماجی مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، وہ بھی اکثر فنڈز کے حصول تک محدود نظر آتی ہیں۔ عملی میدان میں کام کرنے کے بجائے صرف رپورٹوں اور منصوبوں تک محدود رہنے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ معصوم آجالا پروین سولنگی کے اغوا سے قبل جیکب آباد کی فضیلہ سرکی اور سکھر کے سنگرار علاقے سے اغوا ہونے والی پریا کماری بھی کئی برسوں سے لاپتا ہیں۔ سندھ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بار بار بازیابی کی یقین دہانیوں کے باوجود وہ بچیاں آج تک بازیاب نہیں ہو سکیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا فضیلہ، پریا کماری اور آجالا کو زمین نگل گئی ہے یا کوئی خلائی مخلوق اٹھا کر لے گئی ہے؟ سندھ حکومت کی جانب سے امن و امان کے دعووں اور ”محفوظ عورت، مضبوط پاکستان“ جیسے نعروں کے باوجود سندھ میں روزانہ کی بنیاد پر کئی افسوسناک واقعات پیش آرہے ہیں۔ خصوصاً خواتین اور بچیوں کے ساتھ زیادتی، کاروکاری جیسی فرسودہ رسم کے نام پر قتل، اور معصوم بچوں کے اغوا کے واقعات مسلسل میڈیا کی زینت بن رہے ہیں۔ محمدی میڈیکل کالج میرپورخاص کی طالبہ فہمیدہ لغاری، سندھ یونیورسٹی کی نائلہ رند، چانڈکا میڈیکل کالج کی نمرتا کماری، نوشین کاظمی، سنیہا کیسوَانی کے مبینہ خودکشی کے واقعات اور چند روز قبل ٹنڈو مستی میں روبینہ چانڈیو اور ہالا میں شمائلہ چانڈیو کے قتل جیسے واقعات سندھ حکومت کے منہ پر زوردار طمانچہ ہیں۔ فضیلہ سرکی جس کی گمشدگی کو بیس سال سے زیادہ عرصہ گزرچکا اس کے والدین ملک کی اعلیٰ ترین عدالت عدالت ِ عظمیٰ تک بھی پہنچے، لیکن صرف انکوائریاں ہی ہوتی رہیں اور کوئی نتیجہ سامنے نہ آسکا۔ اسی طرح چار سال قبل سنگرار سے اغوا ہونے والی معصوم بچی پریا کماری کو بھی اس کے گھر کے باہر سے درندہ صفت افراد اٹھا کر لے گئے، مگر آج تک اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ دوسری جانب پولیس اور سندھ حکومت کے وزراءو مشیر صرف متاثرہ خاندانوں کو تسلیاں دینے تک محدود ہیں۔ وقت کے حکمرانوں سے یہ ایک بڑا سوال ہے کہ آخر یہ بچیاں کب بازیاب ہوں گی؟بچیوں اور خواتین کے خلاف روزانہ پیش آنے والے ظلم و ستم کے واقعات سندھ میں بڑھتی ہوئی درندگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ سندھ میں خواتین محفوظ نہیں رہیں۔ گزشتہ 18 برسوں سے مسلسل پیپلز پارٹی کی حکومت نے سندھ کو بدامنی، دہشت اور خوف کے حوالے کر دیا ہے۔ لوگ روزانہ اغوا اور قتل کا شکار ہو رہے ہیں جبکہ پولیس غفلت کی نیند سوئی ہوئی ہے اور اپنی ذمے داریاں ادا کرنے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے۔ اس سنگین مسئلے کو سنجیدگی سے لینے اور اجتماعی کوششوں سے اس کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ پولیس نظام میں اصلاحات لا کر عوامی تحفظ کو ترجیح بنایا جائے۔ پروٹوکول ڈیوٹیوں کو محدود کر کے زیادہ اہلکار عام شہریوں کی سیکورٹی کے لیے تعینات کیے جائیں۔ بچوں کے اغوا کے معاملات کے لیے خصوصی ٹاسک فورس قائم کی جائے، جو جدید ٹیکنالوجی اور تربیت سے لیس ہو اور فوری کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہو۔ قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور مجرموں کو جلد از جلد سزا دی جائے۔
تاکہ وہ دوسروں کے لیے عبرت بن سکیں۔ اسکولوں، میڈیا اور سماجی اداروں کے ذریعے والدین اور بچوں میں آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کر سکیں۔
فضیلہ سرکی، پریا کماری کے بعد آجالا سولنگی کا اغو!!
adminshuja
← پچھلی خبر
بکریاں چرانے کی حکمت اور انبیاءکی سنت

Leave a Reply