Daily Shujaat Quetta
June 26, 2026
🌤 Quetta,pk --°
تازہ خبریں
ایران جنگ میں اللہ نے پاکستان سے کام لیا، دنیا ہمیں پیس میکر کے نام سے جانتی ہے: اسحاق ڈارملک بھر میں 9 محرم الحرام کے جلوس اور مجالس کا انعقادنیتن یاہو کی مشکلات میں مزید اضافہ، ٹرمپ امریکا ایران ڈیل کو اسرائیلی مؤقف پر ترجیح دینے لگےامریکا کا ایرانی پاسدارانِ انقلاب کیساتھ براہ راست رابطے کا فیصلہایپل کے چیف ایگزیکٹو کا آئی فونز کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہکیا اسمارٹ فون کو چارجنگ کے دوران استعمال کرنے سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے؟میٹا نے فیس بک میں بہت بڑی تبدیلیاں کر دیںجی میل میں اے آئی سمریز کا فیچر دنیا بھر کے صارفین کیلئے متعارفگوگل ارتھ کی خفیہ فلائٹ سمولیٹر گیم اب تمام صارفین کو مفت دستیابانسٹا گرام میں اب ہر فوٹو یا ویڈیو پوسٹ میں کیپشن تحریر کرنا ممکنایران جنگ میں اللہ نے پاکستان سے کام لیا، دنیا ہمیں پیس میکر کے نام سے جانتی ہے: اسحاق ڈارملک بھر میں 9 محرم الحرام کے جلوس اور مجالس کا انعقادنیتن یاہو کی مشکلات میں مزید اضافہ، ٹرمپ امریکا ایران ڈیل کو اسرائیلی مؤقف پر ترجیح دینے لگےامریکا کا ایرانی پاسدارانِ انقلاب کیساتھ براہ راست رابطے کا فیصلہایپل کے چیف ایگزیکٹو کا آئی فونز کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہکیا اسمارٹ فون کو چارجنگ کے دوران استعمال کرنے سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے؟میٹا نے فیس بک میں بہت بڑی تبدیلیاں کر دیںجی میل میں اے آئی سمریز کا فیچر دنیا بھر کے صارفین کیلئے متعارفگوگل ارتھ کی خفیہ فلائٹ سمولیٹر گیم اب تمام صارفین کو مفت دستیابانسٹا گرام میں اب ہر فوٹو یا ویڈیو پوسٹ میں کیپشن تحریر کرنا ممکن

معرکہ حق اور آپریشن سنیدور، ایک سال کی کہانی

کالم:وجیہ احمد صدیقی
پہل گام کے سرسبز میدان میں 22 اپریل 2025 کی دوپہر جب سیاحوں پر گولیاں چلیں اور 25 بھارتی شہریوں سمیت ایک نیپالی سیاح کی جان گئی تو بھارت نے چند گھنٹوں میں ہی بلا تحقیق انگلی پاکستان کی طرف اٹھا دی۔ نئی دہلی نے اس خونریز واقعے کو عالمی برادری کے سامنے ”سرحد پار دہشت گردی“ کا تازہ ثبوت بنا کر پیش کیا اور دعویٰ کیا کہ حملہ آوروں کا تعلق کالعدم تنظیموں سے ہے جن کے تانے بانے سرحد کے اس پار ملتے ہیں۔ پاکستان نے فوری طور پر اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے عالمی سطح پر غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا، مگر بھارتی میڈیا اور سفارت خانوں نے اگلے دو ہفتے دنیا کے ہر دارالحکومت میں پاکستان کو ”دہشت گردی کا سرپرست“ ثابت کرنے کی مہم چلائی۔ اس مہم کے عین عروج پر 7 مئی 2025 کی رات بھارت نے ”آپریشن سیندور“ لانچ کر دیا۔ بھارتی فضائیہ اور میزائل یونٹوں نے رات ایک بج کر چوالیس منٹ پر بہاولپور، مریدکے، کوٹلی، مظفرآباد سمیت نو مقامات پر حملے کیے۔ بہاولپور کی جامع مسجد سبحان اللہ کا مینار ملبے کا ڈھیر بن گیا، مریدکے میں ایک مدرسے کی چھت گرنے سے سات بچے شہید ہوئے اور کوٹلی کے ایک گاﺅں میں بارات پر میزائل کا ٹکڑا گرنے سے دلہا سمیت گیارہ افراد جاں بحق ہوئے۔ پاکستان نے 31 شہری شہادتوں کی تصدیق کی اور اسے ”کھلی جارحیت“ قرار دیا۔ عالمی میڈیا نے دونوں بیانیوں کو رپورٹ کیا، مگر بھارتی چینلز پر اینکرز وردیوں میں نمودار ہو کر ”سو سے زائد دہشت گرد ہلاک“ کے بینر چلاتے رہے۔
پاکستان نے سات مئی کی صبح ہی بھارتی جارحیت کا کنٹرول لائن پر بھرپور جواب دیا۔ پونچھ، راجوری اور کپواڑہ سیکٹرز میں گولہ باری سے بھارتی فوج کی اگلی چوکیوں کو نقصان پہنچا۔ اصل ضرب 10 مئی کی صبح لگی جب پاک فضائیہ نے ”معرکہ حق“ کے تحت آپریشن بنیان مرصوص شروع کیا۔ ملکی ساختہ کروز میزائل اور ڈرونز نے اودھم پور ائربیس کے رن وے کو ناکارہ بنایا، پٹھان کوٹ میں ہینگرز کو آگ لگ گئی اور آدم پور میں ریڈار سائٹ تباہ ہوئی۔ بھارتی فضائیہ نے جواباً سرگودھا، جیکب آباد اور بھولاری پر حملے کی کوشش کی مگر پاکستانی ائر ڈیفنس نے بیش تر میزائل فضا میں ہی مار گرائے۔ معرکہ حق کے دوران بھارتی فضائیہ کو پہنچنے والے نقصان پر عالمی میڈیا نے سرکاری بھارتی موقف سے مختلف تفصیلات شائع کیں۔ فرانسیسی اخبار لی موند نے 11 مئی 2025 کی رپورٹ میں دفاعی ذرائع کے حوالے سے لکھا کہ بھارت کے تین رافیل جنگی طیارے تباہ ہوئے، جن میں سے ایک کا ملبہ بھٹنڈہ کے کھیتوں میں ملا اور اس کی دم پر BS-001 سیریل نمبر واضح تھا۔ امریکی سی این این نے پینٹاگون کے ایک سابق اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ”کم از کم دو رافیل، ایک سخو ئی30-MKI اور ایک مگ-29 بھارتی حدود میں گرے“۔ برطانوی ٹیلی گراف نے 12 مئی کو آدم پور ائربیس کی سیٹل ائٹ تصاویر جاری کیں جن میں ایک جیگوار طیارے کا جلا ہوا ڈھانچہ اور ایک ہیرون ڈرون کا ملبہ دکھائی دیا۔ اسی طرح رائٹرز نے بھارتی پنجاب کے مقامی حکام کے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی کہ سرسا کے قریب ایک مگ-21 بھی کریش ہوا۔ چینی گلوبل ٹائمز نے PL-15 میزائل کے ٹکڑے کی تصویر شائع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہی میزائل تیسرے رافیل کو 300 کلومیٹر دور سے مار گرانے میں استعمال ہوا۔ قطری الجزیرہ نے جموں کے عینی شاہدین کے انٹرویوز چلائے جنہوں نے 10 مئی کو ”دو دھماکوں کے ساتھ آسمان سے آگ کے گولے گرتے“ دیکھے۔ یوں عالمی میڈیا کی مجموعی رپورٹنگ کے مطابق بھارت کے کم از کم سات جنگی اثاثے تباہ ہوئے: 3 رافیل، 1 سخوئی-30 MKI، 1 مگ-29، 1 مگ-21، 1 جیگوار اور 1 ہیرون ڈرون۔ بھارتی وزارت دفاع نے ان تمام خبروں کو ”بے بنیاد اور پاکستانی پروپیگنڈا“ کہہ کر مسترد کیا، مگر آج تک نہ تو ملبے کی آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات کی اجازت دی گئی اور نہ ہی تمام رافیل طیاروں کو ایک ساتھ میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا، جس سے عالمی صحافتی حلقوں کے سوالات اپنی جگہ برقرار ہیں۔
جنگ بندی کے بعد سوال اٹھا: جیتا کون؟ بھارتی حکومت آج تک ”آپریشن سیندور“ کو فیصلہ کن کامیابی کہتی ہے۔ دس مئی کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے قوم سے خطاب میں اسے ”نیا نارمل“ قرار دیا کہ اب دہشت گرد اور ان کے مبینہ سرپرست برابر کے مجرم ہوں گے۔ بھارتی ائر چیف نے دعویٰ کیا کہ ہم نے تین سو کلومیٹر دور سے پاکستان کے پانچ لڑاکا طیارے اور ایک اواکس گرا دیا۔ مگر زمینی شواہد اور آزاد تجزیہ کار اس بیانیے کو چیلنج کرتے ہیں۔ فرانسیسی انٹیلی جنس کے حوالے سے لیک ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت کے تین رافیل طیارے تباہ ہوئے جن میں سے ایک کا ملبہ بھٹنڈہ کے کھیتوں میں ملا۔ سوشل میڈیا پر بھارتی صارفین نے ”جہاں رافیل گرا تھا“ کے مقام کی جیو لوکیشن شیئر کی، جسے بعد میں بھارتی حکومت نے ”فیک“ کہہ کر مسترد کر دیا۔
دوسری طرف پاکستان نے عسکری کامیابی کو سفارتی محاذ پر بھی کیش کرنے کی کوشش کی۔ دفتر خارجہ نے او آئی سی، یورپی یونین اور اقوام متحدہ میں بھارتی جارحیت کے ثبوت پیش کیے۔ نیویارک میں پاکستان کے مستقل مندوب نے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست دی اور بہاولپور مسجد کی سیٹلائٹ تصاویر دکھا کر پوچھا کہ کیا یہ دہشت گرد کیمپ تھا؟ چین اور ترکی نے پاکستان کے موقف کی حمایت کی، جبکہ امریکا نے ”فریقین سے تحمل“ کی روایتی اپیل کی۔ اہم پیش رفت یہ ہوئی کہ پہلی بار کئی مغربی دارالحکومتوں نے پبلک سطح پر کہا کہ ”کشمیرکا تنازعے کا حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی کنجی ہے“۔ یہ بھارتی بیانیے کے لیے دھچکا تھا جو کشمیر کو ”دوطرفہ معاملہ“ قرار دے کر عالمی مداخلت سے انکاری رہا ہے۔ مگر کیا ہم صرف ”سفارتی کامیابی“ اور ”بنیان مرصوص“ کے ترانوں پر جشن منا کر بیٹھ جائیں؟ اصل سوال کشمیر کی آزادی اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کا ہے۔آپریشن سیندور کے بعد بھارت نے ایک اور محاذ کھولا: سندھ طاس معاہدہ۔ اپریل 2025 کے آخر میں بھارت نے یکطرفہ طور پر اعلان کیا کہ وہ معاہدہ ”معطل“ کر رہا ہے اور اس کے فوراً بعد دریائے چناب پر بگلیہار ڈیم کے سپل وے کھول کر پاکستان کی طرف پانی کا ریلا چھوڑ دیا گیا جس سے سیالکوٹ کے درجنوں دیہات زیر آب آگئے۔ مئی کے پہلے ہفتے میں مقبوضہ کشمیر کے ڈیموں سے پانی روک کر دریائے جہلم میں بہاو? خطرناک حد تک کم کر دیا گیا، جس سے منگلا ڈیم کی سطح ڈیڈ لیول کے قریب پہنچ گئی۔ یہ آبی جارحیت 1960 کے معاہدے کی صریح خلاف ورزی تھی۔
پاکستان نے اس پرکیا کیا؟ اسلام آباد نے عالمی بینک کو خط لکھ کر ثالثی عدالت بٹھانے کا مطالبہ کیا۔ ہیگ میں مستقل ثالثی عدالت نے پاکستان کی درخواست پر کارروائی شروع کر دی ہے اور بھارت کو نوٹس جاری ہو چکا ہے۔ او آئی سی کے پلیٹ فارم سے بھی قرارداد منظور کرائی گئی جس میں پانی کو ”جنگی ہتھیار“ کے طور پر استعمال کرنے کی مذمت کی گئی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے دونوں ملکوں پر زور دیا کہ معاہدے کا احترام کیا جائے۔ مگر عملی طور پر بھارت نے اب تک ڈیموں کا ڈیٹا شیئر کرنا بند کر رکھا ہے اور ”ایٹمی فلشنگ“ کے نام پر مون سون سے پہلے گاد نکالنے کی آڑ میں اچانک ریلے چھوڑنے کی دھمکی دیتا ہے۔ کشمیر کے حل کے لیے کیا پیش رفت ہوئی؟ معرکہ حق کے بعد پاکستان نے ایک بار پھر عالمی برادری کو یاد دلایا کہ جنوبی ایشیا میں امن کی راہ کشمیر سے ہو کر گزرتی ہے۔ یورپی پارلیمنٹ کی انسانی حقوق کمیٹی نے مقبوضہ کشمیر میں ”آبادیاتی تبدیلی“ یعنی ڈیمو گرافک چینج پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قرارداد منظور کی۔ یہ چھوٹی چھوٹی سفارتی کامیابیاں ہیں، مگر بھارت سلامتی کونسل میں ویٹو پاورز کی پشت پناہی سے فائدہ اٹھا کر کسی بھی بامعنی مذاکرات سے انکاری ہے۔اب سوال بھارت کے لیے بھی ہے اور ہمارے لیے بھی۔ کیا بھارت دوبارہ حملہ کرے گا؟
اس کے پاس سیاسی جرآت تو مودی حکومت کے ”نیو نارمل“ بیانیے میں موجود ہے، مگر زمینی مشکلات پانچ ہیں۔ اوّل، پاکستان کی جوابی میزائل قوت: بنیان مرصوص نے ثابت کیا کہ اسلام آباد دہلی تک نہیں تو آدم پور، امبالہ اور سرسا تک ضرور پہنچ سکتا ہے۔ اگرچہ پاکستان کے وزیر دفاع یہ کہتے ہیں چکے ہیں کہ ہمارے میزائلوں کا رینج کلکتا تک ہے لیکن کلکتا ہمارا نشانہ نہیں ہے بھارت میں آزادی کی تحریکیں جلد ہی اس کی کئی ایسی ریاستوں میں زور پکڑیں گی جو کبھی بھی پہلے بھارت سے آزاد نہیں ہونا چاہتی تھیں۔ یہ تحریکیں بھارت کے جنوب اور مشرق میں زیادہ زور پکڑیں گی۔ دوم، ڈرون سوارم اور سائبر جنگ: دس مئی کو پاکستانی ڈرونز نے جموں میں بھارتی ائر ڈیفنس کو مصروف رکھا، آئندہ جنگ میں یہ صلاحیت اور بڑھے گی۔
سوم، ایٹمی چھتری: دونوں ملکوں کے پاس سیکنڈ اسٹرائیک کیپبلٹی ہے، کوئی بھی محدود جنگ مکمل تباہی میں بدل سکتی ہے اور عالمی برادری اس کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ چہارم، معیشت: بھارت کو پانچ ٹریلین ڈالر اکانومی کا خواب پورا کرنا ہے، جنگ اس خواب کو ریزہ ریزہ کر دے گی۔ پنجم، اندرونی سیاست: رافیل، اگنی پتھ اسکیم اور کسان احتجاج پر پہلے ہی اپوزیشن حملہ آور ہے، ایک اور مہم جوئی مودی کے لیے سیاسی خودکشی بن سکتی ہے۔
پاکستان کے لیے لمحہ فکر یہ ہے کہ ہم عسکری جواب پر اکتفا نہ کریں۔ سندھ طاس معاہدے کو عالمی عدالت انصاف میں لے جانا، کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر فیکٹ فائنڈنگ مشن بلوانا، اور او آئی سی کے ساتھ مل کر ”کشمیر کانٹیکٹ گروپ“ کو سلامتی کونسل میں قرارداد کے لیے متحرک کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ پانی اور خون کا مسئلہ بندوق سے نہیں، قانون اور دلیل سے حل ہوگا۔ ہمیں دنیا کو بتانا ہے کہ دہشت گردی کا لیبل لگا کر کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبایا نہیں جا سکتا، اور دریا کا رخ موڑ کر سترہ کروڑ پاکستانیوں کو پیاسا مارنے کی کوشش جنگی جرم ہے۔ آپریشن سیندور کی راکھ ابھی ٹھنڈی نہیں ہوئی، معرکہ حق کی گونج ابھی فضاو?ں میں ہے، مگر اصل جنگ بیانیے کی ہے۔ اگر ہم کشمیر اور پانی کے مقدمے کو عالمی ضمیر پر دستک بنانے میں کامیاب ہو گئے تو سیندور مٹ جائے گا۔ ورنہ ہم ہر چند سال بعد کسی نئے آپریشن سیندور، اور کسی نئے بالاکوٹ کا سامنا کرتے رہیں گے اور نسلیں سوال کرتی رہیں گی کہ جیت کا جشن کب تک منائیں گے جب تک ہار کی وجہ ’کشمیر‘ جوں کا توں کھڑا ہے؟ فیصلہ ہمیں کرنا ہے: ترانوں پر گزارا، یا تدبر سے تاریخ کو بدلنا ہے؟

شیئر کریں: WhatsApp

adminshuja

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *