Daily Shujaat Quetta
June 25, 2026
🌤 Quetta,pk --°
تازہ خبریں
ایپل کے چیف ایگزیکٹو کا آئی فونز کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہکیا اسمارٹ فون کو چارجنگ کے دوران استعمال کرنے سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے؟میٹا نے فیس بک میں بہت بڑی تبدیلیاں کر دیںجی میل میں اے آئی سمریز کا فیچر دنیا بھر کے صارفین کیلئے متعارفگوگل ارتھ کی خفیہ فلائٹ سمولیٹر گیم اب تمام صارفین کو مفت دستیابانسٹا گرام میں اب ہر فوٹو یا ویڈیو پوسٹ میں کیپشن تحریر کرنا ممکنپسنی کے قریب فجیرہ سے آنے والے آئل ٹینکر میں کریو کے رہائشی حصے میں لگنے والی آگ بجھا دی گئیالیکشن کمیشن نےگلگت بلتستان انتخابات کےسرکاری نتائج کا اعلان کردیاپیٹرول پر فی لیٹر لیوی 40 روپے 49 پیسے کم کردی گئی، ذرائع پیٹرولیم ڈویژنکیا آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے کسی بیماری کا نتیجہ ہوسکتے ہیں؟ایپل کے چیف ایگزیکٹو کا آئی فونز کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہکیا اسمارٹ فون کو چارجنگ کے دوران استعمال کرنے سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے؟میٹا نے فیس بک میں بہت بڑی تبدیلیاں کر دیںجی میل میں اے آئی سمریز کا فیچر دنیا بھر کے صارفین کیلئے متعارفگوگل ارتھ کی خفیہ فلائٹ سمولیٹر گیم اب تمام صارفین کو مفت دستیابانسٹا گرام میں اب ہر فوٹو یا ویڈیو پوسٹ میں کیپشن تحریر کرنا ممکنپسنی کے قریب فجیرہ سے آنے والے آئل ٹینکر میں کریو کے رہائشی حصے میں لگنے والی آگ بجھا دی گئیالیکشن کمیشن نےگلگت بلتستان انتخابات کےسرکاری نتائج کا اعلان کردیاپیٹرول پر فی لیٹر لیوی 40 روپے 49 پیسے کم کردی گئی، ذرائع پیٹرولیم ڈویژنکیا آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے کسی بیماری کا نتیجہ ہوسکتے ہیں؟

موت تو مقدّر ہے لیکن ا±س کا ایک وقت مقرّر ہے

کالم:سیّد شکیل انور

مَیں یہ مضمون حالیہ عالمی تناظر کو دیکھ کر تحریر کر رہا ہ±وں اور چاہتا ہ±وں کہ زندگی اور مَوت کے درمیان میں جو فاصلہ ہے ہر آدمی کو ا±س کا اعتراف کرتے ہوئے اور کسی گھبراہٹ کا شکار ہوئے بغیر اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ بہرکیف! ابتدا ایک قصّے سے کرتا ہ±وں کہ: ایک صاحب نے فوجی چھاو¿نی کے علاقے میں ایک محل نما مکان بنالیا اور خوش خرّم زندگی گزارنے لگے، ا±ن کی خوشی کی دو بڑی وجوہات تھیں ایک یہ کہ ا±ن کا مکان کافی کشادہ اور ہرطرح کے آسائش سے مزّین تھا دوسرے یہ کہ وہ فوجی علاقے میں مقیم ہونے کی وجہ سے اپنے تئیں ہر طرح سے محفوظ سمجھ رہے تھے۔ وہ بڑے فاخرانہ انداز میں اپنے دوستوں سے کہتے پھرتے تھے کہ ا±نہوں نے اپنی رہائش فوجی علاقے میں اِس لیے رکھی ہے تاکہ وہ چوری چکاری اور جھگڑے فساد سے محفوظ رہیں اِس کے علاوہ بجلی اور پانی کی سہولتیں بھی ا±ن کو بلا روک ٹوک فراہم ہوتی رہیں۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ عامی لوگوں کے علاقوں کی طرح لوڈشیڈنگ سے ا±ن کو بھی واسطہ پڑے اور پٹرول پھونک کر روشنی اور ٹھنڈی ہَوا حاصل کرنے کی نوبت آئے۔ وہ یہ بھی جاننا نہیں چاہتے تھے کہ پانی کی قلّت کیوں اور کیسے ہوتی ہے۔ جب تک مزے کرنے کا حصّہ ا±ن کا تھا سو ا±نہوں نے گزرا پھر مَوت نے دستک دینی شروع کردی۔ مَوت کی دستک کا مطلب یہ نہ لیجیے گا کہ موصوف بوڑھے ہوگئے تھے یا کسی م±وذی بیماری نے ا±ن کو آلیا تھا۔ دراصل علاقائی تنازع کے باعث پڑوسی م±لک نے جنگ کرنے کی دھمکی دینا شروع کردی تھی‘ فوجی علاقے میں رہائش رکھنے والے تمام لوگ تو نہیں مگر کچھ لوگ اِس پریشانی میں مبتلا ہوگئے کہ جنگ ہوجانے کی صورت میں دشمن سب سے پہلے فوجی علاقوں کو ہی اپنے نشانے پر لیتے ہیں۔ ا±ن پریشان لوگوں میں یہ صاحب بھی نمایاں نظر آنے لگے ا±ن کا کھانا پینا واجبی سا ہونے لگا اور ا±ن کی نیندیں ا±ڑتی چلی گئیں۔ وہ جس کسی سے ملتے تو کہتے کہ پچھلے وقتوں میں جنگیں سرحدوں پر لڑی جاتی تھیں اب تو میزائل اور راکٹ بلکہ ڈرون نامی ہتھیاروں نے بھی مَوت کے پیغامات دینے شروع کردیے ہیں۔ قصّہ مختصر یہ کہ وہ صاحب فوجی علاقہ چھوڑ کر کسی ایسی جگہ اپنی رہائش اختیار کرنا چاہتے تھے جہاں ا±نہیں دشمن کی جانب سے حملے کا کوئی خوف نہ ہو‘ جناب موصوف نے اپنا یہ خوف اپنے دل ہی تک محدود نہ رکھا بلکہ وہ اپنے ا±س خوف کا اظہار برملا بھی کرنے لگے۔ قارئین یہ جانتے ہیں کہ بعض لوگ بزدلوں کا مذاق ا±ڑانے کا موقع ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ ظریف مزاج طبیعت رکھنے والے ایک شخص نے یہ خبرسن کر برجستہ کہا: ”قبرستان سب سے بہترین جگہ ہے جہاں نہ تو چوری چکاری کا خدشہ ہوتا ہے اور نہ دشمن کے حملے کا ہی خوف ہوتا ہے۔
خیر! یہ باتیں تو ازراہِ تفنّن تھیں، سمجھانے کی بات یہ ہے کہ آدمی کو مَوت سے کبھی خوف نہیں کھانا چاہیے کیونکہ یہ وہ شے ہے جس سے ہم اگر خوف کھائیں تو بھی آئے گی اور خوف اگر نہ کھائیں تو بھی یہ لازمی آئے گی۔ تاریخ کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو مَوت کے حصار سے نکل کر اور طویل عمر گزار کر دنیا سے رخصت ہوئے ہیں۔ اِس کی ایک بڑی مثال جاپان کے ایک شخص کی ہے جو ہیروشیما پر ۶?اگست ۱۹۴۵ءکو گرائے جانے والے ایٹم بم کی زَد میںآجانے کے باوجود مرنے سے بچ گیا تھا، ا±سی شخص کے حوالے سے دوسری دلچسپ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ دو دنوں کے بعد ناگاساکی چلا گیا تھا وہاں بھی امریکا بدمعاش ۹اگست ۱۹۴۵ءکو ایٹم بم سے حملہ آور ہوگیا تھا جس کے باعث کافی ہلاکتیں ہوئی تھیں لیکن ہیروشیما میں بچ جانے والا وہ شخص محفوظ رہا اور ۲۰۱۰ءمیں طبعی مَوت سے ہمکنار ہ±وا۔ہندوستان کی تقسیم اور مشرقی پاکستان کو بنگلا دیش بناتے ہوئے قتلِ عام کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں بے شمار ہلاکتیں ہ±وئی تھیں لیکن متعدد لوگ ایسے بھی ہیں جو مَوت کے م±نہ میں جاتے جاتے رہ گئے ہیں۔ ایک صاحب کی نگاہوں کے سامنے ا±ن کے خاندان کے کم وبیش دس افراد شہید کردیے گئے لیکن وہ قاتلوں کی نگاہوں سے اوجھل ہوگئے اور زندہ بچ کر بھاگ نکلے۔ اِن دنوں وہ پاکستان میں مقیم ہیں۔ ایک لڑکی کو تین بار رائفل کی گولیوں سے ہلاک کرنے کی کوششیں کی گئیں لیکن کوئی ایک گولی بھی نہ چل سکی، قاتل جھلّا گیا اور ا±س نے رائفل کے سِرے پر لگے ہوئے خنجر سے لڑکی کا پیٹ پھاڑ کر چلا گیا۔ وہ زخمی لڑکی لاشوں کے درمیان پڑی ہ±وئی کراہ رہی تھی کہ کچھ نیک طینت اور خدا ترس نوجوان ا±س طرف آنکلے اور ا±س لڑکی کو ا±ٹھا کر اسپتال لے گئے، اِن دنوں وہ لڑکی تین بچّوں کی ماں ہے اور وہ بچّے بھی اب جوان ہوچکے ہیں۔
اِسلامی تاریخ کے حوالے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ سیدنا خالد بِن ولید کی قیادت میں لڑنے والے مجاہدین نے کچھ جنگج±و عیسائیوں کو اپنے گھیرے میں لے لیا تھا اور ا±ن سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ا±ن عیسائیوں کا ایک نمائندہ پادری سیدنا خالد بِن ولید کے ر±وبرو آیا اور کہنے لگا کہ اِسلامی فوج نے اپنا حصار اگر ختم نہ کیا تو وہ اپنے ہاتھوں میں پڑا ہ±وا زہر کھالے گا تاکہ ا±س کا خون آپ کی گردن پر آجائے‘ سیدنا خالدؓ نے کہا کہ ہر شخص کی مَوت کا وقت مقرّر ہے، اگرکسی کی مَوت کا وقت نہیں آیا ہے تو زہر کھا لینے کے باوجود وہ نہیں مرے گا۔ سیدنا خالدبِن ولیدؓکی بات س±ن کر عیسائی رہنما کہنے لگا کہ اگر یہ بات درست ہے تو وہ یعنی سیدنا خالد بِن ولیدؓ زہر کھا کر دیکھ لیں! آپ نے عیسائی رہنما سے زہر کی پ±ڑیا لے کر کھالیا۔ جب آپ کو کچھ بھی نہ ہ±وا اور وہ بدستور گفت شنید میں مشغول رہے تب عیسائی رہنما یہ تماشا دیکھ کر بوکھلاہٹ کا شکار ہوگیا اور اپنے ساتھیوں سمیت وہاں سے فرار ہوگیا۔
آخر میں یہ بتلاتا چلوں کہ مَیں نے اپنا یہ مضمون ا±ن لوگوں کے لیے تحریر کیا ہے جو ہر وقت مَوت سے خائف رہتے ہیں، یہ ضرور ہے کہ جنگ کرنے کی خواہش نہیں کی جانی چاہیے لیکن دشمن اگر جنگ مسلّط کردے تو مَوت سے ڈر کر بھاگنا نہیں چاہیے۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ مَوت انسان کی دوسری بلکہ ابدی اور حقیقی زندگی کی پہلی دہلیز ہے۔ (اِس مضمون کے تحریر کرنے کا میرا بنیادی مقصداپنے عوام کو حوصلہ دینا ہے کہ اگرچہ دنیا اِس وقت صرف جنگ کی زَد میں نہیں بلکہ ایٹمی جنگ کی زَد میں ہے لیکن ہمّت کو مستحکم رکھ کر زندگی گزارنے کی کوشش کیجیے۔)

شیئر کریں: WhatsApp

adminshuja

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *