Daily Shujaat Quetta
June 20, 2026
🌤 Quetta,pk --°
تازہ خبریں
ایپل کے چیف ایگزیکٹو کا آئی فونز کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہکیا اسمارٹ فون کو چارجنگ کے دوران استعمال کرنے سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے؟میٹا نے فیس بک میں بہت بڑی تبدیلیاں کر دیںجی میل میں اے آئی سمریز کا فیچر دنیا بھر کے صارفین کیلئے متعارفگوگل ارتھ کی خفیہ فلائٹ سمولیٹر گیم اب تمام صارفین کو مفت دستیابانسٹا گرام میں اب ہر فوٹو یا ویڈیو پوسٹ میں کیپشن تحریر کرنا ممکنپسنی کے قریب فجیرہ سے آنے والے آئل ٹینکر میں کریو کے رہائشی حصے میں لگنے والی آگ بجھا دی گئیالیکشن کمیشن نےگلگت بلتستان انتخابات کےسرکاری نتائج کا اعلان کردیاپیٹرول پر فی لیٹر لیوی 40 روپے 49 پیسے کم کردی گئی، ذرائع پیٹرولیم ڈویژنکیا آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے کسی بیماری کا نتیجہ ہوسکتے ہیں؟ایپل کے چیف ایگزیکٹو کا آئی فونز کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہکیا اسمارٹ فون کو چارجنگ کے دوران استعمال کرنے سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے؟میٹا نے فیس بک میں بہت بڑی تبدیلیاں کر دیںجی میل میں اے آئی سمریز کا فیچر دنیا بھر کے صارفین کیلئے متعارفگوگل ارتھ کی خفیہ فلائٹ سمولیٹر گیم اب تمام صارفین کو مفت دستیابانسٹا گرام میں اب ہر فوٹو یا ویڈیو پوسٹ میں کیپشن تحریر کرنا ممکنپسنی کے قریب فجیرہ سے آنے والے آئل ٹینکر میں کریو کے رہائشی حصے میں لگنے والی آگ بجھا دی گئیالیکشن کمیشن نےگلگت بلتستان انتخابات کےسرکاری نتائج کا اعلان کردیاپیٹرول پر فی لیٹر لیوی 40 روپے 49 پیسے کم کردی گئی، ذرائع پیٹرولیم ڈویژنکیا آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے کسی بیماری کا نتیجہ ہوسکتے ہیں؟

آئی ایم ایف کے قرضے: معیشت کی بحالی یا تباہی کا راستہ

کالم:محمد حسین محنتی
پاکستان اس وقت سنگین معاشی بحران سے دو چار ہے، ملک کے خزانے پر اللہ سے جنگ پر مبنی قرضوں اور سود کا ایسا بوجھ آن پڑا ہے جو نسل در نسل بڑھا کر آگے منتقل ہوتا چلا جارہا ہے گویا پاکستان اس وقت ایک ایسے معاشی دلدل میں پھنسا ہوا ہے جہاں سے نکلنے کی ہر کوشش مزید دھنسنے کا باعث بن رہی ہے۔ ہر نئی حکومت کو نہ صرف پرانے قرض ادا کرنے ہوتے ہیں بلکہ نئے قرض لینے کی مجبوری بھی ساتھ ساتھ پیش آتی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ سودی کاروبار اللہ سے جنگ کے مترادف ہے۔ آئی ایم ایف کا سودی نظام کسی ملک کو اصلاح اور ترقی کے بجائے ہوشربا مہنگائی اور بڑھتے چڑھتے سود کے بحران میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اس وقت پاکستان نے آئی ایم ایف سے چوبیسواں بیل آوٹ پیکیج لیا ہوا ہے۔ اس مسلسل سودی قرضوں پر انحصار نے معیشت کو ایک طرف بوجھل بنادیا ہے تو دوسری طرف قومی خود مختاری کو بھی داو پر لگایا ہوا ہے۔ اقتصادی پالیسی، سالانہ بجٹ کی منظور ی۔ ٹیکس پالیسی اور توانائی کی قیمتیں، یہ سب فیصلے اب اسلام آباد میں نہیں بلکہ واشنگٹن میں ہونے لگے ہیں۔ اس لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف سے لیے گئے قرضے اب معیشت کے لیے آکسیجن نہیں بلکہ زہرِ قاتل ثابت ہو رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کے ساتھ بار بار کے گردن توڑ معاہدوں اور ان کے ساتھ لگنے والی کڑی شرائط نے عام پاکستانی کی زندگی کو اجیرن بنادیا ہے۔ سودی معیشت کا عذاب پوری قوم پر آیا ہوا ہے۔ ٹیکسو ں کا بڑھتا ہوا بوجھ بجلی، گیس اور پٹرول کی آسمان کو چھوتی ہوئی قیمتیں، روپے کی گرتی ہوئی قدر اور ہر طرف پھیلی ہوئی مہنگائی نے غریب عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا آئی ایم ایف کے یہ نسخے واقعی پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرسکتے ہیں؟ یا پاکستان کی معیشت کو تباہی کی طرف دھکیل رہے ہی؟ جب بھی پاکستان آئی ایم ایف کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے تو اسے سخت شرائط کا ایک ایسا پلندہ تھما دیا جاتا ہے جسے بظاہر معاشی اصلاحات کا نام دیا جاتا ہے لیکن عملاً عوام کی جیبوں پر ڈاکا ڈالا جاتا ہے۔ ٹیکسوں میں بے تحاشا اضافہ، بجلی و گیس کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ اور پٹرولیم مصنوعات پر لیوی کی بھرمار۔ جی ایسی ٹی ہو یا انکم ٹیکس؛ یہ بوجھ بالآخر اسی غریب اور متوسط طبقے پر آپڑتا جو پہلے ہی دو وقت کی روٹی کے لیے ہاتھ پاوں مار رہا ہے۔
بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے گھریلو بجٹ تباہ کردیا ہے چھوٹے کاروبار، کارخانے اور دکانیں بند ہورہی ہیں۔ کیونکہ بجلی کے دام خطے میں سب سے زیادہ ہیں اور اسے ادا کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ٹرانسپورٹ کے اخراجات کو دوگنا چوگنا کر دیا ہے۔ جس سے ہر چیز مہنگی ہوگئی ہے۔ روپے کی قدر میں جان بوجھ کر کی جانے والی کمی نے درآمدی اشیاءسمیت روز مرہ کی زندگی کی اشیاءاس قدر مہنگی ہو گئیں ہیں کہ خط ِ غربت سے نیچے رہنے والوں کی تعداد میں خوفناک اضافہ ہو رہا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا معیشت کو بچانے کی قیمت صرف غریب کا خون نچوڑ کر ہی ادا کی جا سکتی ہے؟ آئی ایم ایف کی پالیسیوں کا سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ وہ عوام پر بوجھ ڈالنے اور محصولات بڑھانے پر تو اصرار کرتا ہے، لیکن حکومتی اخراجات میں کمی، شاہانہ مراعات اور وی آئی پی کلچر کے خاتمے، اور غیر معمولی بوجھل انتظامی ڈھانچے کی بیخ کنی پر اس کی خاموشی معنی خیز ہے۔ جب تک اشرافیہ کی مراعات اور غیر ضروری سرکاری اخراجات پر کٹ نہیں لگایا جائے گا، تب تک صرف عوام سے قربانی مانگنا نہ صرف غیر منصفانہ عمل ہے بلکہ یہ معاشی طور پر بھی ناکام حکمت ِ عملی ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم آئی ایم کے ”آسان قرض ا±تارنے کے لیے مشکل قرض“ لینے کے چکر میں پھنس چکے ہیں۔ بیرونی اور اندرونی قرضوں میں مسلسل اضافہ خطرناک حد تک پہنچ چکا ہے۔ اس بوجھ نے ملک کی پیداواری صلاحیت کو مفلوج کر دیا ہے۔ کارخانے بند ہورہے ہیں۔ اس کی وجہ سے برآمدات میں کمی آرہی ہے اور درآمدات میں اضافہ ہورہا ہے۔ بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ قرضوں کی واپسی اور سود کی ادائیگیوں میں بجٹ کا آدھے سے زیادہ حصہ نکل جانے کی وجہ سے ترقیاتی منصوبوں، تعلیم اور صحت کے لیے فنڈز کی شدید قلت ہو گئی ہے۔ معیشت عملی طور پر جمود کا شکار ہورہی ہے۔ ملک میں سیاسی و معاشی عدم استحکام کی وجہ سے سرمایہ کاروں کا اعتماد ختم ہو رہا ہے۔ بڑے تاجر اپنا سرمایہ دوبئی اور دیگر جگہوں پر منتقل کر رہے ہیں۔
حکمراں طبقے کے لیے آئی ایم ایف پروگرام ایک بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں انہیں فوری طور پر بڑے پیمانے پر وسائل اور ڈالرز دستیاب ہوجاتے ہیں۔ یہ رقم گرتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے اور دیوالیہ ہونے کے خطرے کو ٹالنے کے کام آتی ہے۔ اس وقتی ریلیف پر حکمراں جشن تو مناتے ہیں مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ رقم کسی پیداواری مقصد یا صنعتی ترقی کے لیے نہیں بلکہ پرانے قرضے ا±تارنے کے لیے لی جارہی ہے یہ حکمت عملی لگی ہوئی ”آگ فوری بجھانے“ کے مترادف تو ہوسکتی ہے لیکن گھر کی بنیادیں تو کمزور سے کمزور تر ہوتی چلی جارہی ہیں۔ حقیقتاً آئی ایم ایف کے قرضوں اور سود کے بوجھ کے نتیجے میں ہماری معیشت شدید بھونچال اور بڑی تباہی کا شکار نظر آرہی ہے۔ بڑی بڑی گاڑیوں اور سامان تعیشات کی درآمد پر زرمبادلہ ضائع کیا جارہا ہے اس طرح درآمدات میں کمی کے بجائے اس میں روز افزوں غیر ضروری اضافہ ہورہا ہے۔ ہم کاٹن پیدا کرنے والا ملک ہیں لیکن پیداواری لاگت میں اضافے کی وجہ سے برآمدات میں مسلسل کمی ہورہی ہے۔ زرمبادلہ میں کمی کی وجہ سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، چین وغیرہ سے ڈالرز میں قرضہ حاصل کرکے کام چلایا جارہے ہیں۔ ہمارے پڑوسی ممالک بنگلا دیش۔ انڈیا، ایران، افغانستان آئی ایم ایف کے چنگل میں نہ پھنسنے کی وجہ سے ان کی معیشت مستحکم اور کرنسی ہم سے کئی گنا زیادہ مضبوط ہے۔ دوسری طرف ہم آئی ایم ایف کے دام میں پھنسے ہوئے مظلوم ممالک مثلاً مصر، نائجیریا، ارجنٹائن، انڈونیشیا، گھانا، یوکرین کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ممالک بھی ایک عرصے سے ہماری طرح معاشی عدم استحکام کا شکار ہیں۔ مہنگائی، افراط زر، مقامی کرنسی کی بے قدری، اور زرمبادلہ کی کمی کے مسائل نے ان کی معیشت کو کمزور کیا ہوا ہے۔ پاکستان کے غیر ذمے دار اور کرپٹ حکمرانوں نے 1958 سے آئی ایم ایف کا دامن پکڑا ہے۔ اس کے بعد ہماری معیشت نے آج تک کوئی اچھا دن نہیں دیکھا۔ اب وقت آگیا ہے جاگنے کا اور کشکول توڑ کر آئی ایم ایف کی جکڑ بندیوں سے آزاد ہونے کا۔ یہ کام محض نعروں سے نہیں بلکہ سادگی، قربانیوں اور ٹھوس مالیاتی ڈسپلن سے ممکن ہوگا۔ پاکستان کی قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر چند ماہ بعد آئی ایم ایف کی دہلیز پر جانا اپنے ملک کو تباہی اور غلامی کے راستے پر آگے بڑھانا ہی ہے۔پاکستان کی معیشت کو تباہی کی طرف دھکیل رہے ہی؟ جب بھی پاکستان آئی ایم ایف کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے تو اسے سخت شرائط کا ایک ایسا پلندہ تھما دیا جاتا ہے جسے بظاہر معاشی اصلاحات کا نام دیا جاتا ہے لیکن عملاً عوام کی جیبوں پر ڈاکا ڈالا جاتا ہے۔ ٹیکسوں میں بے تحاشا اضافہ، بجلی و گیس کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ اور پٹرولیم مصنوعات پر لیوی کی بھرمار۔ جی ایسی ٹی ہو یا انکم ٹیکس؛ یہ بوجھ بالآخر اسی غریب اور متوسط طبقے پر آپڑتا جو پہلے ہی دو وقت کی روٹی کے لیے ہاتھ پاوں مار رہا ہے۔جب تک ہم اپنی آمدنی سے زیادہ خرچ کرنے کی عادت نہیں چھوڑتے، حکمراں طبقہ اور اشرافیہ اپنی عیاشیاں اور منفعت پسندی کو ترک نہیں کرتے، احتساب کا نظام مخلصانہ طور پر قائم نہیں ہوتا، اس وقت تک آئی ایم ایف سے نجات ممکن نہیں۔ پاکستانی قوم بے پناہ صلاحیتوں کی مالک ہے ضرورت ہے تو صرف ایماندار و مخلص اور خوف خدا رکھنے والی قیادت کی، درست پالیسیوں اور قومی عزم کی۔ قرضوں کی زنجیریں توڑنے کا وقت آگیا ہے۔ یہ زنجیریں تبھی ٹوٹیں گی جب ریاست اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کا عزم کرے گی۔ اگر آج ہم نے اپنی معاشی پالیسیاں اسلامی احکامات اور خصوصاً سود سے پاک ہوکر اور عوامی مفاد میں مرتب کریں، تو آنے والی نسلیں قرض اور سود کی ادائیگیوں سے آزاد ہو جائیں گی۔ اب وقت ہے آئی ایم ایف کو الوداع کہنے کا۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کے حال پر رحم فرمائے اور ہمیں ائی ایم ایف کے سودی شکنجے سے آزاد فرمائے۔ آمین

شیئر کریں: WhatsApp

adminshuja

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *