انزائٹی اور ڈپریشن نے دنیا بھر میں ذہنی امراض کے شکار افراد کی تعداد کو ایک ارب 20 کروڑ تک پہنچا دیا ہے۔
دی جرنل لانسیٹ میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ گزشتہ 30 برسوں کے دوران ذہنی امراض کے شکار افراد کی تعداد میں لگ بھگ دوگنا اضافہ ہوا ہے۔
تحقیق کے مطابق اس کی بنیادی وجہ دنیا بھر میں انزائٹی اور ڈپریشن کے کیسز کی شرح میں نمایاں اضافہ ہونا ہے۔
تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ 2023 میں ایک تخمینے کے مطابق دنیا بھر میں ایک ارب 20 کروڑ افراد کسی ایک ذہنی مرض کا شکار تھے۔
1990 سے 2023 کے دوران ذہنی امراض کی شرح میں 95 فیصد اضافہ ہوا، خاص طور پر ڈپریشن اور انزائٹی امراض میں، جن کے کیسز میں بالترتیب 131 اور 158 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔
اس طرح یہ دونوں دنیا بھر میں سب سے عام ذہنی امراض بن گئے ہیں۔
محققین نے بتایا کہ دنیا بھر کے افراد کی ذہنی صحت کے مسائل کے حوالے سے ردعمل ظاہر کرنے کی ضرورت ہے، خاص طور پر جو زیادہ خطرے کی زد میں ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ اگرچہ دنیا بھر میں ذہنی امراض کی شرح بڑھ رہی ہے مگر خواتین اس سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔

Leave a Reply