Daily Shujaat Quetta
June 24, 2026
🌤 Quetta,pk --°
تازہ خبریں
ایپل کے چیف ایگزیکٹو کا آئی فونز کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہکیا اسمارٹ فون کو چارجنگ کے دوران استعمال کرنے سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے؟میٹا نے فیس بک میں بہت بڑی تبدیلیاں کر دیںجی میل میں اے آئی سمریز کا فیچر دنیا بھر کے صارفین کیلئے متعارفگوگل ارتھ کی خفیہ فلائٹ سمولیٹر گیم اب تمام صارفین کو مفت دستیابانسٹا گرام میں اب ہر فوٹو یا ویڈیو پوسٹ میں کیپشن تحریر کرنا ممکنپسنی کے قریب فجیرہ سے آنے والے آئل ٹینکر میں کریو کے رہائشی حصے میں لگنے والی آگ بجھا دی گئیالیکشن کمیشن نےگلگت بلتستان انتخابات کےسرکاری نتائج کا اعلان کردیاپیٹرول پر فی لیٹر لیوی 40 روپے 49 پیسے کم کردی گئی، ذرائع پیٹرولیم ڈویژنکیا آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے کسی بیماری کا نتیجہ ہوسکتے ہیں؟ایپل کے چیف ایگزیکٹو کا آئی فونز کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہکیا اسمارٹ فون کو چارجنگ کے دوران استعمال کرنے سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے؟میٹا نے فیس بک میں بہت بڑی تبدیلیاں کر دیںجی میل میں اے آئی سمریز کا فیچر دنیا بھر کے صارفین کیلئے متعارفگوگل ارتھ کی خفیہ فلائٹ سمولیٹر گیم اب تمام صارفین کو مفت دستیابانسٹا گرام میں اب ہر فوٹو یا ویڈیو پوسٹ میں کیپشن تحریر کرنا ممکنپسنی کے قریب فجیرہ سے آنے والے آئل ٹینکر میں کریو کے رہائشی حصے میں لگنے والی آگ بجھا دی گئیالیکشن کمیشن نےگلگت بلتستان انتخابات کےسرکاری نتائج کا اعلان کردیاپیٹرول پر فی لیٹر لیوی 40 روپے 49 پیسے کم کردی گئی، ذرائع پیٹرولیم ڈویژنکیا آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے کسی بیماری کا نتیجہ ہوسکتے ہیں؟

کنسٹرکشن کمپنیوں سے ایک ہی بار فائنل ٹیکس لیا جائے، سینیٹر عبدالقادر

سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے روبرو سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ کنسٹرکشن کمپنیوں سے ایک ہی بار فائنل ٹیکس لیا جائے۔سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں فنانس بل پر حتمی سفارشات کا جائزہ لیا گیا ۔کمیٹی ممبر سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ کنسٹرکشن کمپنیاں 20، 25 سال فائنل ٹیکس رجیم میں تھیں، اب آپ کہتے ہیں اس پر آئی ایم ایف والے نہیں مان رہے۔انہوں نے کہا کہ آپ بےشک 400 ارب کی بجائے 450 ارب روپے اکٹھا کریں، کنسٹرکشن کمپنیوں سے ایک ہی بار فائنل ٹیکس لیا جائے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ آپ کہتے ہیں ہمارے ودہولڈنگ ایجنٹس آکر ٹیکس لیں گے، آپ بےشک ایک ڈیڑھ فیصد مزید ٹیکس بڑھا دیں لیکن وہ فائنل ہو۔انہوںنے کہاکہ آپ کنسٹرکشن کمپنیوں پر 8 فیصد ٹیکس بڑھا کر بے شک 8 اعشاریہ5 فیصد کردیں، 15، 20 ہزار چھوٹی کنسٹرکشن کمپنیوں کے لیے تھوڑی آسانی کر دیں۔سینیٹ کمیٹی کے ممبر نے کہا کہ کنسٹرکشن کمپنیاں تعمیراتی سامان پر پہلے ہی ٹیکس دے رہی ہیں، اس طرح تو کمپنیوں پر 4، 5 بار ٹیکس بن جاتاہے۔دوران کمیٹی رکن سینیٹر دلاور خان نے کہا کہ ودہولڈنگ ٹیکس کے بہانے ایف بی آر عملہ چمڑی نکالتا ہے، ہم چاہتے ہیں 4 سو کی بجائے سوا 4 سو ارب اکٹھا کریں، لوگوں کو ہراساں کرنے سے بچائیں اور کمپنیوں کو کام کرنےدیں۔

شیئر کریں: WhatsApp

adminshuja

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *