چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں تعلیم کیلئے 96 ارب روپے اور صحت کیلئے 197 ارب روپے مختص کیے جانا ایک انتہائی اہم اور خوش آئند اقدام ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صوبائی حکومت نے انسانی ترقی کے دو بنیادی شعبوں کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ تاہم اس بڑے مالیاتی پیکیج کی حقیقی کامیابی کا انحصار صرف فنڈز کے حجم پر نہیں بلکہ ان کے شفاف، دیانت دارانہ اور میرٹ پر مبنی استعمال پر ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا لیکن ترقی کے اعتبار سے پسماندہ صوبہ ہے۔ یہاں ہزاروں سرکاری اسکول بنیادی سہولیات سے محروم ہیں جبکہ کئی علاقوں میں اساتذہ کی کمی، جدید لیبارٹریوں کا فقدان اور تعلیمی معیار کی کمزوری ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اگر 96 ارب روپے کی رقم درست منصوبہ بندی کے تحت خرچ کی جائے تو سرکاری بوائز اور گرلز اسکولوں، کالجوں اور جامعات کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جا سکتا ہے۔ ڈیجیٹل کلاس رومز، سائنسی لیبارٹریاں، تربیت یافتہ اساتذہ اور جدید نصاب بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے ترقی کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح صحت کے شعبے کیلئے 197 ارب روپے کی خطیر رقم صوبے کے عوام کی دیرینہ مشکلات کم کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔ بلوچستان میں آج بھی متعدد اضلاع میں جدید طبی سہولیات کا فقدان ہے۔ خصوصاً کینسر، ٹراما، دل اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کے مریضوں کو علاج کیلئے کراچی اور لاہور منتقل کرنا پڑتا ہے جس سے مریضوں اور انکے خاندانوں پر بھاری مالی اور ذہنی بوجھ پڑتا ہے۔ اگر صوبے میں جدید کینسر اسپتال، ٹراما سینٹرز، خصوصی تشخیصی مراکز اور جدید طبی آلات فراہم کیے جائیں تو ہزاروں افراد کو اپنے ہی صوبے میں معیاری علاج میسر آ سکتا ہے۔

Leave a Reply