پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ کے جاری کردہ پریس ریلیز میںکہا گیا ہے کہ کوئٹہ تا چمن ریلوے ٹریک پر بار بار ٹرین سروس کی بندش نہ صرف مسافروں بلکہ اس روٹ کے ساتھ آباد ہزاروں شہریوں، تاجروں، طلبہ، مزدوروں اور ملازمین کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔ کوئٹہ سے چمن تک مختلف ریلوے اسٹیشنز اور ملحقہ علاقوں کے عوام کا روزگار، سفری سہولت اور تجارتی سرگرمیاں اس ٹرین سروس سے وابستہ ہیں لیکن آئے روز بندش کے فیصلوں نے عوام کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر ریلوے، چیئرمین ریلوے، گورنر بلوچستان اور ڈی ایس ریلوے کے احکامات اور کاوشوں سے یہ ٹرین سروس بحال ہوئی تھی جس پر عوام نے اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا تھا تاہم ایک بار پھر اس کی بندش نے لوگوں میں تشویش اور مایوسی پیدا کر دی ہے۔ کوئٹہ،کچلاغ، بوستان، پشین ، سرانان،گلستان، قلعہ عبداللہ ، شیلاباغ اور چمن سمیت اس روٹ پر واقع مختلف اسٹیشنز کے مکینوں کے لیے ٹرین سفر کا سب سے سستا محفوظ اور قابلِ اعتماد ذریعہ ہے۔سڑک کی آئے روز بندش کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ ٹرین کی بندش سے طلبہ اپنی تعلیمی سرگرمیوں، مریض اپنے علاج، مزدور اپنے روزگار اور تاجر اپنی کاروباری سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ خاص طور پر کم آمدن والے افراد کے لیے متبادل سفری ذرائع مہنگے اور ناقابلِ برداشت ہیں۔اسی طرح کوئٹہ تا چمن ٹرین سروس کی بندش سے جہاں عوام کو سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہیں پاکستان ریلوے کو بھی مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

Leave a Reply