Daily Shujaat Quetta
June 28, 2026
🌤 Quetta,pk --°
تازہ خبریں
قبل از وقت بال سفید ہونے کا باعث بننے والی 4 وجوہاتبچپن میں فروٹ جوسز اور میٹھے مشروبات کا استعمال جوانی میں ہائی بلڈ پریشر کا شکار بناسکتا ہے، تحقیقایران، پاکستان کی مختلف بندرگاہوں میں پھنسے 13 سے 18 ہزار کنٹینرز کا منتظرخاران اور مستونگ میں فورسز کی کارروائیاں، فتنہ الہندوستان کے 8 دہشتگرد ہلاکپاکستان میں یکم جولائی سے مون سون کا آغاز ہونے کا امکانآزادکشمیر کے تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کا 29 جون سےکاروبار شروع کرنےکا اعلانسفارتی محاذ پر پاکستان کی تاریخی پذیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹوکرپشن کے بغیر سندھ میں کوئی کام نہیں ہوتا، سرکاری افسران کمیشن کو حق سمجھتے ہیں: اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلیکراچی میں دہشتگرد حملے میں شہید ہونیوالے رینجرز کے جوانوں کی نماز جنازہ ادا کردی گئیوینزویلا میں زلزلے کے بعد توانائی کی لہریں بلوچستان اور کے پی میں بھی زلزلےکا باعث بن رہی ہیں: چیف میٹرولوجسٹقبل از وقت بال سفید ہونے کا باعث بننے والی 4 وجوہاتبچپن میں فروٹ جوسز اور میٹھے مشروبات کا استعمال جوانی میں ہائی بلڈ پریشر کا شکار بناسکتا ہے، تحقیقایران، پاکستان کی مختلف بندرگاہوں میں پھنسے 13 سے 18 ہزار کنٹینرز کا منتظرخاران اور مستونگ میں فورسز کی کارروائیاں، فتنہ الہندوستان کے 8 دہشتگرد ہلاکپاکستان میں یکم جولائی سے مون سون کا آغاز ہونے کا امکانآزادکشمیر کے تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کا 29 جون سےکاروبار شروع کرنےکا اعلانسفارتی محاذ پر پاکستان کی تاریخی پذیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹوکرپشن کے بغیر سندھ میں کوئی کام نہیں ہوتا، سرکاری افسران کمیشن کو حق سمجھتے ہیں: اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلیکراچی میں دہشتگرد حملے میں شہید ہونیوالے رینجرز کے جوانوں کی نماز جنازہ ادا کردی گئیوینزویلا میں زلزلے کے بعد توانائی کی لہریں بلوچستان اور کے پی میں بھی زلزلےکا باعث بن رہی ہیں: چیف میٹرولوجسٹ

ایران، پاکستان کی مختلف بندرگاہوں میں پھنسے 13 سے 18 ہزار کنٹینرز کا منتظر

ایران پر مسلط امریکی جنگ کے دوران مختلف ممالک سے ایرانی بندرگاہوں کو جانیوالے کنٹینرز کی غیرمعمولی تعداد پاکستان میں پھنسی ہوئی ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہےکہ وہ ترجیحی بنیادوں پران کنٹینرز کی واپسی کے خواہاں ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے سینیئر عہدیدار نے بتایا کہ پاکستان کی مختلف بندرگاہوں میں پھنسے ان کنٹینرز کی تعداد بڑھ کر 13 ہزار سے 18 ہزار تک جا پہنچی ہے۔

اس کارگو کے ٹریڈرز کا تعلق نجی سیکٹر سے ہے اور ان کی خواہش ہے کہ یہ کنٹینرز جلد ازجلد ایران پہنچیں تاکہ وہ اپنا معمول کا کاروبار جاری رکھ سکیں، لوگوں کو ان کی بنیادی ضرورت کی اشیا مہیا کریں اور صنعتوں کا پہیہ پوری رفتار سے چلایا جاسکے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے حکام کے مطابق ان کنٹینرز میں لازمی ضرورت کی چیزیں، صنعتوں میں استعمال ہونے والی مشینری کے پرزہ جات اور دیگر اشیا ہیں۔

ذرائع کے مطابق چین سمیت مختلف ممالک سے ایران جانیوالے ان کنٹینرز میں چھوٹی اور درمیانی درجہ کی صنعتوں میں استعمال ہونے والی بنیادی اور عمومی اشیا ہیں جن میں آٹوموٹیو پرزہ جات، گھریلو استعمال کی مشینری، زراعت اور آبپاشی کا سامان، زرعی کیڑے مار ادویات، موبائل فونز کی مرمت کرنے کا سامان، ہیوی ٹرکوں کے ٹائر، لیپ ٹاپس، کمپیوٹرز، غذائی اجناس، طبی اور سرجیکل سامان شامل ہے۔

جنگ کے دوران مختلف ممالک سے ایران اور دیگر ممالک کو جانیوالا بعض کارگو پاکستان بھی منتقل کیا گیا تھا جسے کراچی پورٹ، بن قاسم پورٹ یا گوادر بندرگاہ منتقل کیے جانے کی اطلاعات ہیں تاہم ایرانی حکام نے بتایا کہ ایرانی بندرگاہوں کو جانیوالے زیادہ تر کنٹینر کراچی پورٹ پرموجود ہیں۔

اس سوال پر کہ ایران اتنی بڑی تعداد میں ان کنٹینرز کی جلد از جلد واپسی کیلئے کیا اقدامات کررہا ہے؟  وزارت خارجہ کے ذرائع نے بتایا کہ کوشش ہے کہ سامان کی منتقلی کا تیز ترین راستہ یعنی سمندر کو استعمال کیا جائے۔

اس بات پر کہ بعض اطلاعات کے مطابق کنٹینرز کو پہلے گوادر منتقل کیا جائے گا جہاں سے جہازوں کے ذریعے ایران منتقلی ہوگی، سینیئر ایرانی اہلکار نے کہا کہ یہ بھی ایک متبادل تجویز ہے تاہم منطقی طور پر یہی بہتر ہوگا کہ تمام کنٹینرز کو کراچی سے چاہ بہار براہ راست منتقل کردیا جائے جو کہ وقت اور قیمت دونوں ہی کے لحاظ سے زیادہ موزوں ہوگا۔

ایرانی حکام نے امید ظاہر کی صدرمسعود پزشکیان کےحالیہ دورہ پاکستان کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات کی مضبوطی کا یہ عملی اشارہ ہوگا کہ پاکستانی حکام کی مدد سے ان کنٹینرز کو جلد از جلد ایرانی بندرگاہوں کو روانہ کیا جائے۔

شیئر کریں: WhatsApp

adminshuja

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *