اگر آپ اپنے بچوں کو بازار میں ملنے والے چینی سے بنے جوس پلاتے ہیں تو یہ عادت جوانی میں ان کی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔
درحقیقت بچپن میں پھلوں کے جوسز کا استعمال جوانی میں ہائی بلڈ پریشر جیسے مرض کا شکار بنا سکتا ہے۔
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
ہائی بلڈ پریشر ایسا خاموش قاتل مرض ہے جس نے دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد افراد کو شکار بنایا ہوا ہے اور سالانہ 94 لاکھ اموات ہوتی ہیں جبکہ اس سے ہارٹ اٹیک، فالج اور دیگر امراض قلب کا خطرہ بڑھتا ہے۔
رنل سرکولیشن میں شائع تحقیق میں 25 ہزار سے زائد جوان افراد کو شامل کیا گیا اور ان کی صحت کا جائزہ 25 سال تک لیا گیا۔
تحقیق میں دریافت ہوا کہ بچپن میں میٹھے مشروبات جیسے سافٹ ڈرنکس اور 100 فیصد فروٹ جوسز کا استعمال جوانی میں ہائی بلڈ پریشر سے متاثر ہونے کا خطرہ نمایاں حد تک بڑھا دیتا ہے۔
اس کے مقابلے میں پھلوں کے استعمال سے ہائی بلڈ پریشر سے متاثر ہونے کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔
اس سے قبل تحقیقی رپورٹس میں غذاؤں اور بلڈ پریشر کے درمیان تعلق پر کام تو کیا گیا مگر ان میں بالغ افراد پر توجہ مرکوز کی گئی۔
مگر اس تحقیق میں جن افراد کو شامل کیا گیا، آغاز میں ان کی عمر 12 سال تھی اور پھر دہائیوں تک ان کی صحت کا جائزہ لیا گیا۔
اس تحقیق میں امریکا بھر سے تعلق رکھنے والی نرسوں کے بچوں 1996 سے 2004 کے درمیان شامل کیا گیا۔
ان افراد کی صحت کا جائزہ اوسطاً 36 سال کی عمر تک لیا گیا اور ہر 4 سال کے دوران ان افراد سے غذا، ورزش، نیند اور صحت کے حوالے سے تفصیلی سوالنامے بھروائے گئے۔
2021 میں تحقیق کے اختتام پر 6.3 فیصد افراد میں ہائی بلڈ پریشر کی تشخیص ہوئی۔

Leave a Reply