جمعیت علماءاسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینئرنائب امیر مولانا خورشیداحمد، مفتی محمد روزی خان، حاجی بشیراحمد کاکڑ، مولانا محمد ایوب، شیخ مولانا عبدالاحد، حافظ شبیراحمد مدنی، سید حاجی عبدالواحد آغا، سیکرٹری اطلاعات عبدالغنی شہزاد، عبدالصمد حقیار، حافظ مسعود احمد، حاجی قاسم خان خلجی، حاجی ولی محمد بڑیچ، حاجی صالح محمد، مولوی علی جان اور دیگر رہنماو¿ں نے کہا ہے کہ اگر سیکیورٹی ادارے بروقت کارروائی کرتے ہوئے زیارت کے مغوی اہلکاروں کو بازیاب کرا لیتے تو یہ المناک سانحہ رونما نہ ہوتا شہدائے زیارت کا دل خراش واقعہ پوری قوم کے لیے شدید صدمے اور گہرے رنج کا باعث ہے۔انہوں نے کہا کہ نوجوان پولیس اہلکاروں کی بے رحمانہ شہادت امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور حکومتی نااہلی کا واضح ثبوت ہے۔ بلوچستان میں انسانی جانوں کا ضیاع معمول بنتا جا رہا ہے حکومت شہریوں اور اپنے سیکیورٹی اہلکاروں کے جان و مال کے تحفظ میں بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے افسوسناک امر یہ ہے کہ عوام کا خون اس بے دردی سے بہایا جا رہا ہے جیسے انسانی جان کی کوئی قدر ہی باقی نہ رہی ہو۔انہوں نے کہا کہ جو حکومت اپنے محافظوں کو تحفظ فراہم کرنے سے قاصر ہو اس سے عام شہریوں کے تحفظ کی کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ صوبے کے عوام حکومتی کارکردگی سے شدید مایوس ہوچکے ہیں اور امن و امان کے قیام کے لیے سنجیدہ اور فیصلہ کن اقدامات کے منتظر ہیں۔انہوں نے شہدائے زیارت کے لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت علمائ اسلام ان کے غم میں برابر کی شریک ہے اور اللہ تعالیٰ سے شہداءکے بلند درجات زخمیوں کی جلد صحت یابی اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کرتی ہے۔انہوں نے ایک اور بیان میں یہ مطالبہ بھی کیا کہ ہنہ اوڑک کلی ببری سے اغوا کیے گئے 11 افراد کو فی الفور اور بحفاظت بازیاب کرایا جائے انہوں نے کہا کہ اس نہایت حساس معاملے میں کسی بھی قسم کی تاخیر یا غفلت خدا نہ کرے کسی نئے سانحے اور قومی المیے کا سبب بن سکتی ہے۔ لہٰذا اغوا شدگان کی بازیابی کے حوالے سے تاخیری حربوں کے بجائے فوری کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے قبل ان کی بحفاظت رہائی یقینی بنائی جا سکے۔
زیارت سانحہ حکومتی و سیکیورٹی ناکامی کا ثبوت ہے،مولانا عبدالرحمن رفیق

Leave a Reply