کالم:قاضی جاوید
پہلے ایک بات کہہ کر پھر اس سے مکر جانا، اور پھر وہی کام کر کے اس کے معنی کو اس طرح بدلنا کہ ”ہمارا مطلب یہ نہیں بلکہ وہ تھا“؛ یہ صرف اسرائیل ہی کا خاصہ نہیں ہے بلکہ دنیا کے طاقتور ممالک میں اسی قسم کے چلن کو سفارت کاری کا عروج سمجھا جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح کی عادت اور طریقہ کار اسرائیل کے موجودہ وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کا بھی ہے۔ 23 جون 2026ءکو نیتن یاہو نے کوئی ایسا باقاعدہ اعلان نہیں کیا تھا کہ اسرائیل کا دفاع لازمی طور پر تلمود (Talmud) کے احکامات کے مطابق ہی چلایا جائے گا۔ اس کے برعکس، انہوں نے قومی سلامتی پر اپنی ایک حالیہ تقریر کے دوران پیشگی حملے اور جنگ میں پہل کرنے کی اسرائیلی پالیسی کا دفاع کیا تھا۔ اس کے لیے انہوں نے تلمود کی ایک مشہور کہاوت کا حوالہ دیا۔ تلمود کا یہ حوالہ محض ان کی دفاعی حکمت ِ عملی کو منطقی طور پر مضبوط ثابت کرنے کے لیے تھا، نہ کہ تمام دفاعی کارروائیوں کو مستقل طور پر تلمود کے احکامات کے تابع کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان تھا۔
نیتن یاہو اور ان کے دفاعی کارپردازوں کو یہ بات بھی اچھی طرح معلوم ہونی چاہیے کہ اسی جارحانہ پالیسی کے تحت یہودی بار بار بخت نصر پر حملہ کرتے تھے، جس کے بعد بخت نصر نے یہودیوں کو وہاں سے نکال باہر کیا تھا۔ پھر ہزاروں سال گزرنے کے بعد، 1948ءمیں برطانوی سازش کے تحت یہاں ایک ناجائز ریاست قائم کر دی گئی اور آج وہی ریاست اپنے ارد گرد کے پڑوسی ممالک مثلاً مصر، شام، اردن، قطر، غزہ اور اب لبنان پر بلاجواز حملے کر رہی ہے۔ وہ اس ناجائز ریاست کو ”گریٹر اسرائیل“ میں تبدیل کرنے کی مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔ میں یہ بات پہلے ہی واضح کر چکا ہوں کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ معاہدے کا اسرائیل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اس کی بنیادی وجہ وہ اعلان ہے جو اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو، ملٹری چیف اور اسرائیلی وزیر دفاع نے 24 جون کو اپنی ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں واضح کر دیا ہے۔ انہوں نے یہودی مذہبی کتاب کے سبق اور فلسفہ ِ تلمود کے نفاذ کا ایک طرح سے اعلان کر دیا ہے۔ اس کے تحت اب وہ ”پہلے انہیں قتل کر دو“ (FIRST KILL THEM) کے فلسفے پر عمل پیرا ہوں گے۔ اس سے قبل اسرائیل کا بنیادی فلسفہ ”پھر کبھی نہیں“ (NEVER AGAIN) ہوا کرتا تھا، جس کا مطلب اور مقصد یہ تھا کہ اسرائیلی قوم اب اپنے ساتھ ایسی دردناک صورتحال کو دوبارہ کبھی پیدا نہیں ہونے دے گی، جیسی صورتحال کا سامنا یہودیوں کو ماضی میں جرمنی کے ایڈولف ہٹلر کے ہاتھوں کرنا پڑا تھا۔
23 جون 2026ءکو عالمی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ میں یہ ہولناک انکشاف کیا گیا ہے کہ غزہ کی جنگ کے دوران اور اب لبنان میں ہزاروں فلسطینی اور لبنانی بچوں کی اموات محض کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہیں، بلکہ یہ سب باقاعدہ دانستہ اور سوچی سمجھی کارروائیوں کا نتیجہ ہیں۔ اقوام متحدہ کے ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن نے منگل 23 جون 2026ءکو واضح طور پر کہا ہے کہ اسرائیلی حکام اور ان کی سیکورٹی فورسز نے فلسطین اور لبنان میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا۔ یہ تفصیلی رپورٹ ’مقبوضہ فلسطینی علاقوں، بشمول مشرقی بیت المقدس اور اسرائیل سے متعلق اقوام متحدہ کے ’آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن‘ کی جانب سے جاری کی گئی ہے، جس میں سات اکتوبر 2023ءکے بعد سے شروع ہونے والی اسرائیل کی فوجی کارروائی کے آغاز سے لے کر بعد کی تمام صورت حال کا انتہائی باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، غزہ میں اسرائیلی حملوں میں مارے جانے والوں کی تقریباً 30 فی صد تعداد صرف معصوم بچوں کی ہے، جبکہ سات اکتوبر 2023ءسے لے کر سات اکتوبر 2025ءکے دو سالہ عرصے کے درمیان کم از کم 20 ہزار 179 بچوں کی دردناک اموات ریکارڈ کی گئیں۔
اقوام متحدہ کے کمیشن کا مزید کہنا ہے کہ معصوم بچوں کے قتل کا یہ موجودہ تناسب ماضی میں ہونے والے تمام تنازعات کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہت زیادہ ہے۔ مثال کے طور پر، سال 2008- 2009ءاور سال 2014ءکے تنازعات میں بچوں کی اموات مجموعی اموات کا تقریباً 24 فی صد تھیں، مگر موجودہ دور میں یہ حد سے زیادہ بڑھ چکی ہیں۔ رپورٹ میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ اسرائیلی افواج نے گنجان آباد انسانی بستیوں اور علاقوں میں بھاری اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے مہلک ہتھیاروں کا استعمال مسلسل جاری رکھا، وہ یہ بات اچھی طرح جانتے تھے کہ ان ہتھیاروں کے استعمال سے بچوں کی اموات میں خوفناک اضافہ ہو رہا ہے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے بمباری نہیں روکی۔ یہ اب بھی پوری شدت سے جاری ہے اور اب اس دائرے میں لبنان کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ اسرائیل نے اب لبنان کے بھی تقریباً 40 فی صد علاقے پر اپنا ناجائز قبضہ جما لیا ہے اور دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس ناجائز اسرائیلی قبضے کو ختم کروانے کے بجائے اپنا پورا دھیان ایران کے خلاف مرکوز رکھے ہوئے ہیں، جس کا اصل مقصد یہی دکھائی دیتا ہے کہ ایک طرف ایران کے ساتھ امن معاہدہ کر لیا جائے اور دوسری طرف لبنان پر اسرائیلی قبضے کو مزید مضبوط اور مستحکم بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ہی حزب اللہ کو مکمل طور پر غیر مسلح کر دیا جائے اور اگر کچھ نہ ہو سکے تو کم از کم اس کو اس قدر کمزور اور تنہا کردیا جائے کہ وہ اسرائیل کے سامنے کھڑے ہونے کے قابل ہی نہ رہے، تاکہ اسرائیل کو پورے لبنان اور پھر ترکیہ پر حملے کے لیے تیار کیا جا سکے۔پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ نے گزشتہ دنوں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی سفارتی پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے اور فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات کے عمل کو جلد از جلد مکمل کریں تاکہ ایک ’پائیدار، قابل ِ تصدیق اور قابل ِ قبول‘ حل تک پہنچا جا سکے۔ یہ چار ملکی گروپ مارچ کے مہینے سے مسلسل ملاقاتیں کر رہا ہے۔ ان چار اہم ممالک کا یہ مشترکہ بیان اس وقت سامنے آیا جب پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکی اور ایرانی مذاکرات کار اتوار کے روز سوئٹزرلینڈ میں اہم مذاکرات میں مصروف تھے، جس کا بنیادی مقصد ان کی طویل عسکری اور سیاسی جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنا ہے۔ پاکستانی، سعودی، ترکیہ اور مصری وزرائے خارجہ نے قاہرہ میں اس ملاقات کے دوران ایران امریکا معاہدے کے ممکنہ نفاذ پر تفصیلی بات چیت کی تاکہ خطے کے سیاسی استحکام، توانائی کی عالمی مارکیٹوں، بین الاقوامی بحری راستوں، عالمی سپلائی چین اور بین الاقوامی تجارت کے پہیے کو بحال اور محفوظ رکھا جا سکے۔ مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب تک اسرائیل اس خطے میں اپنی پوری عسکری قوت، امریکی پشت پناہی اور فوجی طاقت کے بل بوتے پر موجود رہے گا، خلیج اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کا خواب کبھی حقیقت نہیں بن سکے گا۔ امریکا اور یورپی ممالک نے اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم کرنے کے لیے پیدا نہیں کیا اور نہ ہی خود اسرائیل یہ سمجھتا ہے کہ خطے میں امن قائم ہونے سے اس کا مکارانہ مقصد پورا ہو سکتا ہے۔ امریکا اور یورپی ممالک دنیا کو دکھانے کے لیے اسرائیل کو کھلے عام گالیاں بھی دیں گے یا اس پر تنقید بھی کریں گے، لیکن وہ اس کی عسکری، دفاعی اور اقتصادی مدد سے کبھی بھی دستبردار نہیں ہوں گے۔
روزنامہ ’جسارت‘ کے قارئین کو یہ اہم بات لازمی معلوم ہونی چاہیے کہ موجودہ جنگ سے پہلے تک امریکا کا دفاعی نظام اسرائیل کے دفاع سے الگ سمجھا جاتا تھا؛ لیکن امریکی سینیٹ کے آرٹیکل 221B میں کی جانے والی حالیہ تبدیلی کے بعد اب اسرائیل کا دفاع خود امریکی دفاع سے الگ نہیں رہا۔ دفاعی اور عسکری طور پر اب یہ دونوں ممالک عملی طور پر ایک ہی اکائی بن چکے ہیں۔ یہی وہ اہم تقاضا اور دہائی ہے جو عالم ِ اسلام کے عوام اپنے حکمرانوں سے کر رہے ہیں۔ پاکستان، سعودی عرب، ایران، ترکیہ اور مصر کا ایک مضبوط دفاعی اور عسکری اتحاد ہی اصل میں اسرائیل کی اس جارحیت کو لگام لگا سکتا ہے۔
لیکن نہ جانے مسلمانوں کا یہ دیرینہ خواب کب حقیقت کا روپ دھارے گا؟
اسرائیل کا دفاعِ ”تلمود“ بچوں کا دانستہ قتل؟
adminshuja
← پچھلی خبر
ٹینڈر مطلوب ہیں DPRQ # 132

Leave a Reply