کالم:سیّد شکیل انور
پاکستان کو تشکیل ہوئے اگرچہ آٹھ دہائیاں گزرچکی ہیں لیکن کوئی ایسے آٹھ کام سرانجام نہیں پائے جن کی مثالیں ہم اپنا سینہ پھلاکر دے سکیں‘ یہ ضرور ہے کہ ہم اپنا سر جھکا کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا ایک باز±و کٹ گیا ہے اور ہمارا دوسرا باز±و (کشمیر) بھارت کے شکنجے میں ہے۔ ہم سیاچن کی کمر سے لگے کھڑے ہیں جبکہ بھارت ا±س کے سَر پر سوار نظر آرہا ہے۔ یہ سب کچھ کیسے ہوگیا بلکہ کیسے ہورہا ہے‘ کیا ہم اپنی دفاع کے لیے کچھ خرچ کرنے پر آمادہ نہیں ہیں یا ہماری مردانگی کسی حکیم کی تلاش میں ہے۔ یہ معاملہ حکمت اور حکیموں کے درمیان چھوڑتا ہ±وں۔ فی الحال میری سمجھ میں یہ بات آتی ہے کہ پیٹ اگر خالی ہو تو کندھے پر مشین گن سنبھالا نہیں جاسکتا ہے اور ہم پاکستانیوں کے ساتھ ایسا ہی معاملہ ہے کہ ہمارے پاس ایٹمی قوّت ضرور ہے لیکن ہمارے پیٹ خالی ہوتے چلے جارہے ہیں۔ ایک طرف غذائیں ہماری دسترس سے د±ور ہوتی جارہی ہیں اور دوسری طرف علاج ومعالجے اور دواو¿ں کا حصول مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔یہ کہنے کے لیے نہ تو سقراط اور بقراط یا افلاطون کے فرامین کا حوالہ دینا ضروری ہے کہ کسی قوم کو پنپنے اور پھلنے پھولنے کے لیے ا±سے معاشی اور مالی طَور پر مستحکم ہونا اشد ضروری ہے‘ یہ پڑھے لکھے لوگوں کا زمانہ ہے اور وہ جانتے ہیں کہ معاشی اور معاشرتی ترقّیات کے لیے صنعت و حرفت اور کارخانوں کے علاوہ زراعت کی طرف توجّہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ م±لک و ملّت کی فلاح وبہبود اور ترقّیات کے کام حکمران سرانجام دیتے ہیں اور حکرانوں کا انتخاب عوام کی ذمّے داری ہوتی ہے۔یہاںپاکستانی قوم کی خوش قسمتی اور بدقسمتی کو زیر ِ بحث لائے بغیر کلام مجید کی یہ بات سمجھنے کی کوشش ہونی چاہیے کہ اَللہ تعالیٰ ا±س کے ساتھ نہیں ہے جو کوشش نہیں کرتا ہے اور کوشش کی تصریح یہ ہے کہ آدمی نہ صرف یہ کہ وہ اپنے گردو پیش پر گہری نظر رکھے بلکہ پیش بینی کی بھی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہے کہ ا±س کے کس عمل کے نتیجے میں اچھا نتیجہ برآمد ہوسکتا ہے اور کیا نہ کرنے یا کوئی غلط کام کرنے سے کیا نقصان ہوجانے کا احتمال ہوسکتا ہے۔ آدمی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ا±س کی قیادت ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں آجائے جو خود غرض اور غیر سنجیدہ مزاج رکھتے ہوں کیونکہ یہ انجن کی مانند ہیں جہاں انجن جائے گا لامحالہ بوگیاں بھی وہیں پہنچیں گی۔
یہ تو نہیں کہنا چاہیے کہ پ±وری پاکستانی قوم ہی بے حِسی کا شکار ہوچکی ہے کیونکہ کچھ لوگ انسانی فلاح اور بھلائی کے کام بھی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں خاص طَور سے انتخابات کے دنوں میں حسّاس لوگوں کی کوشش اور خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی باگ ڈور جن لوگوں کے ہاتھوں میں پکڑانے والے ہیں وہ م±لک وملّت کی د±کھوں کا مداوا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا وہ اپنا آپ بنانے کی نیّت لے کر آئے ہیں۔ چشم ِ بینا اور نابینا میں محض یہ فرق نہیں ہے کہ ایک دیکھتا ہے اور دوسرا دیکھتا نہیں ہے۔ ایک پیدائشی نابینا سے پوچھا گیا کہ ا±سے کیسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جہاں پر مقیم ہے وہاں رات ہوگئی ہے یا یہ دن کا وقت ہے۔ نابینا مسکرایا اور کہنے لگا کہ گھر میں چھائی ہوئی خاموشی سے وہ اندازہ کرتا ہے کہ یہ رات کا وقت ہے اور کام کاج کی آواز س±ن کر وہ دن کے ہونے کا گمان کرتا ہے۔ہمارے ساتھ اِن دنوں معاملہ کچھ اور نوعیت کا ہے‘ ہمیں یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ہم بینا ہیں کہ نابینا ہیں کیونکہ ہمیں دن رات یکساں نظر آنے لگا ہے‘ کام کاج کرنے کا نہ تو ماحول دکھائی دیتا ہے اور نہ داد وتحسین کی آوازیں ہی ہمیں سنائی دیتی ہیں لیکن شورو غوغا اور ہائے واویلا بہت سنائی دیتا ہے مثلاً فلاں علاقے میں ایک بچّہ گٹر میں ڈ±وب گیا ہے اور فلانے شخص کے بیٹے کو اغوا کرلیا گیا ہے۔ ایک شخص کو ا±س کی اہلیہ کے سامنے قتل کردیا گیا ہے اور نشاندہی ہوجانے کے باوجود قاتل آزاد گھوم رہا ہے اور مقتول کی بیوہ عدالت کے چکّر کاٹ رہی ہے‘ باِلآخر مقتول کی بیوہ ہی نے قاتل کو کیفرِ کردار تک پہنچاکر خود کو حکّام کے حوالے کردیا ہے۔ یہ خبر بھی سننے کو ملی کہ فلاں پ±ل بنے ہوے کچھ ہی روز گزرے ہیں اور آج وہ پ±ل منہدم ہوتا ہ±وا دکھائی دے رہا ہے۔ شمالی علاقے کے لوگ دس روز سے پانی اور بجلی سے محروم ہیں جبکہ جنوبی علاقے کی سڑکیں اور
گلیاں نکاسی آب نہ ہونے کے باعث تعفّن کا شکار ہیں۔ سہراب گوٹھ سے متصل علاقے میں ایک نوجوان موٹر سائیکل سوار کو ڈمپر نے روند ڈالا ہے۔ ایک افسوسناک خبر یہ موصول ہ±وئی ہے کہ ایک گھر میں ڈاکوو¿وں نے ساڑھے تین گھنٹے ل±وٹ مار کرنے کہ علاہ دو خواتین کی عصمت دری بھی کی ہے۔ یہ وہ شورو غوغا ہے جو ہمیں چوبیس گھنٹے سننے کو ملتا رہتا ہے۔ سننے کو ہمیں اگر نہیں ملتا ہے تو یہ ہے کہ فلاں علاقے کی بوسیدہ سڑک مرمّت کردی گئی ہے اور فلاں علاقے میں پانی کی ترسیل شروع کردی گئی ہے۔ کورنگی میں دو سو بستروں پر مشتمل ایک اسپتال تعمیر کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جو اگلے دوسال میں کام شروع کردے گا اور نادار مریضوں کو مفت علاج معالجے کی خدمات فراہم کرے گا۔ جنوبی علاقے سے تعلق رکھنے والے اراکین ِ اسمبلی نے باہمی اشتراک کرکے دس ٹرکوں میں اناج اور پانچ ٹرکوں میں سبزیاں غریبوں میں مفت تقسیم کی ہیں اور علاقے کے لوگوں سے دعائیں لی ہیں۔ وزیر ِ اعلیٰ نے کراچی کے مضافات میںپچاس ہینڈ پمپز (نلکے) تنصیب کرنے کا اعلان کیا ہے جو چھے ماہ میں فعال ہوجائے گا۔ وزیرِاعظم نے اعلان کیا ہے کہ جس علاقے میں چوری اور ڈکیتی ہوگی ا±س علاقے کے تھانے دار کو نوکری سے برخواست کردیا جائے گا۔ حکومت نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ کھانے پینے میں ملاوٹ کرنے اور جعلی دوائیں بنانے اور فروخت کرنے والوں کو سرِعام پھانسی دے دی جائے گی۔ ایسے بہت سارے خواب وخیال ہیں جو میری طرح قارئین کے دلوں میں بھی پَل رہے ہوں گے۔
انقلابی کے بعد احتسابی‘ حاصل جمع ک±ل خرابی
adminshuja
← پچھلی خبر
پاکستان اور بھارت کے درمیان بیک ڈور ڈپلومیسی

Leave a Reply