Daily Shujaat Quetta
August 25, 2026
🌤 Quetta,pk --°
تازہ خبریں
ٹیبل ٹینس فیملی کا سفر، والدین کے بعد طہٰ بلال بھی ایشین گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کیلئے تیارایران نے میرے ایک بیٹے کو قتل کرنے کی کوشش کی: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا دعویٰعالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کردیعمران خان کی قید اور مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھائيں: جمائما کا برطانوی حکومت سے مطالبہسپریم کورٹ میں توہین عدالت کا جواب وزیراطلاعات یا وزیرقانون نہیں بلکہ وزیر داخلہ دیں گے، رانا ثنااللہٹرمپ کا دورہ تہران سے قبل فیلڈ مارشل کو فون، ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے اثر و رسوخ استعمال کی درخواست کی: رائٹرزدورہ ایران میں فیلڈ مارشل کی ایرانی رہنماؤں سے ملاقاتیں، کشیدگی میں مزید اضافے کی روک تھام، آبنائے ہرمز کھولنے پر تبادلہ خیالمحنت کش پاکستانیوں کا خون بہانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں،میرسرفرازبگٹیشہریوں کے تحفظ کےلئے جدید نگرانی کے نظام کومزید علاقوں تک وسعت دی جائےگی، سرفراز بگٹینیب بلوچستان کی جانب سے شکایات کنندگان کیلئے کھلی کچہری کا انعقادٹیبل ٹینس فیملی کا سفر، والدین کے بعد طہٰ بلال بھی ایشین گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کیلئے تیارایران نے میرے ایک بیٹے کو قتل کرنے کی کوشش کی: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا دعویٰعالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کردیعمران خان کی قید اور مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھائيں: جمائما کا برطانوی حکومت سے مطالبہسپریم کورٹ میں توہین عدالت کا جواب وزیراطلاعات یا وزیرقانون نہیں بلکہ وزیر داخلہ دیں گے، رانا ثنااللہٹرمپ کا دورہ تہران سے قبل فیلڈ مارشل کو فون، ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے اثر و رسوخ استعمال کی درخواست کی: رائٹرزدورہ ایران میں فیلڈ مارشل کی ایرانی رہنماؤں سے ملاقاتیں، کشیدگی میں مزید اضافے کی روک تھام، آبنائے ہرمز کھولنے پر تبادلہ خیالمحنت کش پاکستانیوں کا خون بہانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں،میرسرفرازبگٹیشہریوں کے تحفظ کےلئے جدید نگرانی کے نظام کومزید علاقوں تک وسعت دی جائےگی، سرفراز بگٹینیب بلوچستان کی جانب سے شکایات کنندگان کیلئے کھلی کچہری کا انعقاد

سفیر ِ امن، بحرانِ کشمیر میں حافظ نعیم الرحمن کا قائدانہ کردار

کالم:میر بابر مشتاق
قیادت کا اصل امتحان اقتدار حاصل کرنے میں نہیں بلکہ بحرانوں کو ٹالنے، قوم کو تقسیم ہونے سے بچانے اور تصادم کو مکالمے میں تبدیل کرنے میں ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف طاقت سے نہیں بلکہ سیاسی بصیرت، تدبر اور مفاہمت سے آگے بڑھتی ہیں۔ جب ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنے لگیں، جب احتجاج اور طاقت آمنے سامنے کھڑے ہوں، تب ایسے رہنماﺅں کی ضرورت ہوتی ہے جو دونوں کے درمیان اعتماد کا پل بن سکیں۔ آزاد کشمیر میں حکومت اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان پیدا ہونے والا ڈیڈ لاک بھی اسی نوعیت کا ایک بحران ہے۔ راولاکوٹ میں جاری دھرنا، ریاست گیر شٹر ڈاﺅن، کاروباری سرگرمیوں کی معطلی، تعلیمی اداروں کی بندش اور بڑھتی ہوئی کشیدگی اس امر کی نشاندہی کر رہی تھی کہ اگر بروقت سیاسی مداخلت نہ ہوئی تو صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ ایسے ماحول میں امیر جماعت ِ اسلامی پاکستان، حافظ نعیم الرحمن نے جس انداز سے مصالحتی کردار ادا کیا، اس نے امید کی ایک نئی کرن پیدا کی۔گزشتہ چند روز سے وہ مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین سے ملاقاتیں کر رہے ہیں، جماعت ِ اسلامی کے وفد کو جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماﺅں کے پاس بھیجا گیا، جبکہ دیگر سیاسی شخصیات کو بھی راولاکوٹ جا کر مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی ترغیب دی گئی۔ یہ اقدامات اس بات کی علامت ہیں کہ سیاسی مسائل کا حل سیاسی مکالمے ہی میں پوشیدہ ہوتا ہے، نہ کہ محض طاقت کے استعمال میں۔
کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ یہ صرف ایک جذباتی نعرہ نہیں بلکہ پاکستان کی قومی پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔ گزشتہ تقریباً آٹھ دہائیوں سے پاکستان نے کشمیری عوام کے حق ِ خود ارادیت کی حمایت کی ہے اور اس موقف پر ہر عالمی فورم پر آواز اٹھائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والی ہر سیاسی صورتحال پورے پاکستان کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان اور کشمیر کا رشتہ صرف جغرافیے کا نہیں بلکہ تاریخ، قربانی، عقیدے اور مشترکہ جدوجہد کا رشتہ ہے، جو ناقابل ِ تقسیم ہے۔ آزاد کشمیر میں عوامی تحریک نے بھی یہ ثابت کیا
کہ عوام اپنے مطالبات کے حوالے سے کتنے سنجیدہ ہیں۔ تاﺅبٹ سے لے کر بھمبر تک جس یکجہتی کا مظاہرہ کیا گیا، وہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ تاجروں نے کاروبار بند رکھا، طلبہ نے تعلیمی سرگرمیاں معطل کیں، خواتین نے گھروں سے نکل کر احتجاج میں شرکت کی، اور مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے۔ یہ سب اس بات کا اظہار تھا کہ عوام اپنے حقوق کے لیے متحد ہیں۔تاہم ہر عوامی تحریک میں ایک ایسا مرحلہ بھی آتا ہے جہاں جذبات کے ساتھ حکمت کی ضرورت ہوتی ہے۔ احتجاج کا مقصد عوامی آواز کو حکومت تک پہنچانا اور مطالبات کو منوانا ہوتا ہے، لیکن جب حالات طویل تعطل کی طرف بڑھنے لگیں تو قیادت کی ذمے داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ عوام کی قربانیوں کو ایک مثبت سیاسی کامیابی میں تبدیل کرے۔ کامیاب قیادت وہی ہوتی ہے جو مناسب وقت پر مذاکرات کی راہ اختیار کرے اور تصادم سے گریز کرے۔ اسی تناظر میں حافظ نعیم الرحمن کا کردار اہمیت اختیار کرتا ہے۔ انہوں نے کسی فریق کے خلاف اشتعال انگیز زبان استعمال کرنے کے بجائے مفاہمت کی سیاست کو فروغ دیا۔ ان کی کوشش یہی رہی کہ حکومت، سیاسی جماعتیں اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی ایک ایسے حل پر متفق ہوں جس میں نہ عوام کا نقصان ہو، نہ ریاستی وقار متاثر ہو اور نہ ہی حالات کسی ناخوشگوار رخ کی طرف جائیں۔
بدقسمتی سے پاکستان کی سیاست میں مفاہمت کے بجائے محاذ آرائی کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ اکثر سیاسی جماعتیں بحرانوں کو حل کرنے کے بجائے انہیں اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی سیاسی رہنما مختلف جماعتوں سے رابطے کرے، اختلافات کم کرنے کی کوشش کرے اور قومی مفاد کو جماعتی مفاد پر ترجیح دے تو یہ ایک مثبت روایت ہے جس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جب سیاسی قیادت خاموش رہتی ہے تو خلا غیر سیاسی قوتیں پ?ر کرتی ہیں، اور اس کے نتائج اکثر جمہوری عمل کے لیے خوش آئند نہیں ہوتے۔ مضبوط جمہوریتوں میں اختلافات کے باوجود سیاسی جماعتیں قومی مفاد کے معاملات پر ایک دوسرے سے رابطے رکھتی ہیں۔ یہی روایت پاکستان میں بھی مضبوط ہونی چاہیے۔ اس پورے بحران میں حکومت پر بھی بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ عوامی احتجاج کو صرف طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش وقتی سکون تو پیدا کر سکتی ہے، لیکن مسائل کی جڑ ختم نہیں کرتی۔ پائیدار استحکام صرف انصاف، اعتماد اور مکالمے سے حاصل ہوتا ہے۔ اسی طرح جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر بھی ذمے داری ہے کہ وہ عوام کی بے مثال قربانیوں کو ایک مثبت اور باوقار سیاسی نتیجے تک پہنچائے۔ اگر قومی سطح پر مذاکرات کی راہ کھل رہی ہے تو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
کشمیر کا مسئلہ ہمیشہ سے پاکستان کے قومی شعور کا حصہ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی صرف حکومت کی ذمے داری نہیں بلکہ پوری قوم کی ذمے داری ہے۔ سیاسی جماعتوں کو بھی اس معاملے میں بالغ نظری اور اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ دنیا کو یہ پیغام جائے کہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان متحد ہے۔ حافظ نعیم الرحمن کی حالیہ سرگرمیوں نے کم از کم یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ سیاست صرف احتجاج، تنقید اور الزام تراشی کا نام نہیں بلکہ قومی بحرانوں میں راستہ نکالنے کا فن بھی ہے۔ اگر سیاسی قیادت عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد بحال کرنے میں کامیاب ہو جائے تو یہی جمہوریت کی اصل کامیابی ہوتی ہے۔
آج پاکستان کو ایسی ہی سیاست کی ضرورت ہے جو نفرت کے بجائے امید پیدا کرے، تقسیم کے بجائے اتحاد کو فروغ دے اور تصادم کے بجائے مکالمے کی روایت قائم کرے۔ یہی وہ سیاست ہے جو ریاست کو مضبوط، عوام کو مطمئن اور جمہوریت کو مستحکم بناتی ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ آزاد کشمیر کا موجودہ بحران بھی سیاسی تدبر، تحمل اور مذاکرات کے ذریعے حل ہوگا۔ حکومت عوامی مطالبات کو سنجیدگی سے سنے گی، جوائنٹ ایکشن کمیٹی قومی مفاد کو پیش ِ نظر رکھتے ہوئے دانشمندانہ فیصلے کرے گی اور تمام سیاسی قوتیں مل کر ایک ایسا راستہ اختیار کریں گی جو عوام، ریاست اور جمہوریت تینوں کے مفاد میں ہو۔ تاریخ ہمیشہ انہی رہنماو?ں کو یاد رکھتی ہے جو بحرانوں میں قوم کو تقسیم نہیں ہونے دیتے بلکہ اختلافات کو مکالمے میں بدل کر مستقبل کی راہیں ہموار کرتے ہیں۔ اگر موجودہ صورتحال میں بھی سیاسی بصیرت غالب آتی ہے تو یہ صرف ایک بحران کے خاتمے کی کامیابی نہیں ہوگی بلکہ پاکستان میں ذمے دار، بالغ نظر اور مفاہمتی سیاست کے فروغ کی ایک روشن مثال بھی بنے گی۔ کشمیر پاکستان کا ہے اور پاکستان کشمیر کا۔ یہ رشتہ صرف جغرافیے کا نہیں بلکہ قربانی، نظریے، تاریخ اور مشترکہ مستقبل کا رشتہ ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ِ کشمیر کو امن، انصاف اور استحکام عطا فرمائے، اور پاکستان کی سیاسی قیادت کو ایسے فیصلے کرنے کی توفیق دے جو قومی وحدت، جمہوری استحکام اور عوامی فلاح کے ضامن ہوں۔

شیئر کریں: WhatsApp

adminshuja

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *