فائن آرٹ کی استاد کونچیٹا اینٹیکو کا کہنا ہے کہ جب اُنھیں یہ احساس ہوا کہ اُن کے طلبہ وہ رنگ نہیں دیکھ سکتے جو وہ خود دیکھتی سکتی ہیں، تو وہ چونکے بنا نہ رہ سکیں۔
اینٹیکو کہتی ہیں کہ وہ روزمرہ کی چیزوں میں ’بے شمار رنگ‘ دیکھتی ہیں، جیسے کہ سائے میں، جہاں زیادہ تر لوگ صرف ایک ہی رنگ دیکھنے کی بات کرتے ہیں۔
وہ سمجھتی تھیں کہ ہر کوئی دنیا کو اسی طرح دیکھتا ہے جیسے وہ دیکھتی ہیں، لیکن بعد میں اپنے طلبہ سے بات کر کے ان پر واضح ہوا کہ ایسا نہیں ہے۔
وہ یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں ’میں نے بعد میں کسی سے پوچھا: آپ نے کبھی کچھ کہا کیوں نہیں؟ اس نے جواب دیا، آپ استاد ہیں۔ ہم نے بس یہ سمجھا کہ آپ کوئی فنکارانہ کام کر رہی ہیں۔‘
بعد میں اینٹیکو کو جینیاتی جائزے کے ذریعے معلوم ہوا کہ ان میں ٹیٹراکرو میسی یعنی رنگ دیکھنے کی ایک بہتر صلاحیت کی حیاتیاتی استعداد موجود ہے، جو ممکنہ طور پر کسی فرد کو ایسے رنگ دیکھنے کی اجازت دے سکتی ہے جو دوسرے لوگ نہیں دیکھ سکتے۔
زیادہ تر لوگوں کی آنکھوں میں مخصوص خلیوں کی تین اقسام ہوتی ہیں جنھیں کونز کہا جاتا ہے۔
اس کی ہر قسم روشنی کی مختلف لہروں سے متحرک ہوتی ہے، جو تقریباً سرخ، سبز اور نیلے رنگ سے مطابقت رکھتی ہیں۔
اس کے بعد یہ خلیے اپنے سگنل دماغ کو بھیجتے ہیں اور ہم جو مخصوص رنگ دیکھتے ہیں وہ اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ دماغ کو مختلف کونز سے ملنے والے سگنلز کا مجموعہ کیا ہے۔

Leave a Reply