کالم:بابا الف
امریکا اور ایران جنگ میں چین اور روس محض تماشائی نہیں ہیں بلکہ دو بڑے مہرے ہیں جو پردے کے پیچھے رہ کر امریکا اور ایران کے جنگی غبار اور دھند کو مزید گہرا اور پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ بڑی طاقتوں کے اس جنگ کا حصہ بننے نے جنگ کے دائرہ کار اور اس کی بے یقینی اور شدت میںکئی گنا اضافہ کردیا ہے۔چین کا اس جنگ میں پس پردہ کردار کا حقیقی محرک اور بنیادی مقصد مشرق وسطیٰ میں اپنے معاشی مفادات مثلاً بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو اور امریکی بالادستی کو چیلنج کرنا ہے۔ چین کا بنیادی فلسفہ اس کی اقتصادی بالادستی کو قائم رکھنا ہے۔ اپنی معاشی سلطنت کے فائدے کے لیے وہ ایران پر عائد امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران کو مہرے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اپنے مفادات کشید کرتا رہا ہے۔ چین دنیا میں تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ امریکی پابندیوں کے باوجود چین ایران سے بڑی مقدار میں سستا ترین تیل خریدتا رہا ہے۔ ایران کا معاشی طور پر زندہ رہنا چین کی سستی انرجی لائن کا رہین ِ منت ہے۔ ایران چین کے کھربوں ڈالرکے منصوبے ون بیلٹ ون روڈ کا ایک مرکزی حصہ ہے۔ ایران کے ذریعے چین کی رسائی مشرق وسطیٰ، یورپ اور بحیرہ? روم تک ممکن ہو جاتی ہے۔امریکا ایران جنگ سے چین کا سب سے بڑا پوشیدہ مفاد یہ ہے کہ امریکا مشرق وسطیٰ اور ایران کی دلدل میں دھنسا رہے تاکہ وہ اپنی پوری عسکری طاقت اور توجہ تائیوان کی طرف منتقل نہ کرسکے۔ جب تک امریکا ایران سے نمٹنے میں مصروف ہے چین کو تائیوان کے گرد اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کا کھلا وقت مل رہا ہے۔ چین نے ایران اور روس کے ساتھ مل کر بحر ہند اور عمان کی خلیج میں کئی مشترکہ بحری مشقیں کی ہیں۔ چین کا عسکری مفاد یہ ہے کہ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کے اہم ترین سمندری راستوں پر امریکا کی یکطرفہ کمانڈ کو کمزور کیا جائے، جہاں سے دنیا کی 20 فی صد تیل کی سپلائی گزرتی ہے۔ چین اپنی ضروریات کا 40 سے 50 فی صد تیل آبنائے ہرمز کے راستے سے حاصل کرتا ہے جو اسے اس آبی گزرگاہ پر سب سے زیادہ انحصار کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک بناتا ہے۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے عالمی تیل کا 37.7 فی صد حصہ تنہا چین خریدتا ہے۔ چین ایران کو براہ راست اسلحہ فروخت نہیں کرتا لیکن وہ ایران کو مائیکرو چپس، ڈرون کے پرزے اور سیٹلائٹ نیویگیشن ڈیٹا فراہم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کی ڈرونز اور میزائل ٹیکنالوجی اتنی جدید ہو چکی ہے کہ وہ امریکا سے ہراساں ہونے کے بجائے اسے جنگ کی دعوت دیتا ہے کہ ”آﺅ“۔روس کے لیے امریکا ایران جنگ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ واشنگٹن کی توجہ اور فوجی وسائل یوکرین کی جنگ سے ہٹ کر مشرق وسطیٰ پر مرکوز ہو گئے ہیں۔ چین اور روس مل کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے خلاف سفارتی مذمت میں پیش پیش ہیں۔ وہ اس جنگ کو امریکی جارحیت کے طور پر پیش کرکے دنیا کو ایک متبادل کثیر القطبی نظام کی طرف راغب کررہے ہیں۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں جس سے روس کے تیل کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافی آمدنی کی وجہ سے روس پر مغربی اقتصادی پابندیوں کا اثر کم ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کی وجہ سے بیجنگ نے بھی اب روس سے محفوظ زمینی راستوں کے ذریعے تیل اور گیس کی درآمدات میں اضافہ کردیا ہے جس سے دونوں ممالک کی معاشی وابستگی مضبوط ہوئی ہے۔روس اور چین ایران کے ساتھ مل کر امریکی ڈالر کے مالیاتی متبادل نظام (چینی یوآن اور روسی روبل) میں تجارت کو فروغ دے رہے ہیں جس سے مستقبل میں دنیا کا ڈالر پر انحصار کم ہو جائے گا۔ امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق روس اور چین پس پردہ ایران کو سیٹلائٹ اور سگنلز انٹیلی جنس فراہم کررہے ہیں۔ جن کی مدد سے ایران امریکی اہداف پر درست نشانے لگانے اور امریکی دفاعی نظام کو چکمہ دینے میں کامیاب ہورہا ہے۔ روس اور چین کے لیے امریکا اور ایران جنگ ایک ٹیسٹنگ گراﺅنڈ ہے جہاں وہ دیکھ رہے ہیں کہ امریکی دفاعی نظام جیسے پٹریاٹ، جدید ہائپر سونک میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف کیسے کام کرتا ہے۔ روس نے یوکرین جنگی محاذ پر ایرانی شاہد ڈرونز کو اپ گریڈ کیا ہے۔ اب وہ یہ معلومات ایران کے ساتھ شیئر کررہا ہے۔
امریکا اور اسرائیل کے خلاف ایران اب اکیلا نہیں ہے۔ چین اور روس نے مل کر ایران کے ارد گرد ایک ایسی محافظ چھتری بنادی ہے جس کی وجہ سے امریکا کے لیے ایران پر حملہ کرنے کی لا گت اتنی زیادہ ہو چکی ہے کہ پینٹا گون کے کمپیوٹرز بھی اس کے نتائج کی درست پیش گوئی کرنے میں ناکام ہیں۔ روس اپنے جدید ترین جاسوسی سیٹلائٹس کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں امریکی اور اسرائیلی افواج کی نقل وحرکت کا ڈیٹا براہ راست ایران کو فراہم کررہا ہے جس کی وجہ سے ایران کسی بھی امریکی حملے سے پہلے الرٹ ہو جاتا ہے۔ روس نے ایران کو اپنے جدید ترین فضائی دفاعی نظام (جیسے S400) اور الیکٹرونک وار فیئر ٹیکنالوجی فراہم کرنا شروع کردی ہے۔ یہ ہائبرڈ اتحاد موجودہ دنیا کی سیاست اور جنگ کا سب سے پیچیدہ ر±خ ہے۔
پاکستان اس پورے بحران میں سب سے زیادہ مشکل جغرافیائی اور سیاسی پوزیشن میں ہے۔ ایک طرف اس کی ایران کے ساتھ 900 کلو میٹر طویل سرحد ہے جب کہ دوسری طرف اس کے امریکا اور خلیجی ممالک کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں۔ پاکستان کی معیشت کا دارو مدار خلیجی ممالک کی مالی امداد اور امریکا کے ساتھ تجارت پر ہے۔ اس کے باوجود پاکستان کسی بھی صورت ایران کے خلاف کسی اتحاد کا حصہ نہیں بن سکتا کیو نکہ اس سے پاکستان کے اندرونی امن وامان اور سیکورٹی پر تباہ کن اثرات پڑیں گے۔
چین پاکستان کا سب سے قریبی اسٹرٹیجک پارٹنر ہے۔ چونکہ چین اور روس ایران کے پیچھے کھڑے ہیں اس لیے پاکستان کی پالیسی بھی فطری طور پر چین کے محور کے گرد گھومتی ہے۔ واشنگٹن میں بیٹھے پالیسی ساز اس مخمصے میں ہیں کہ اگر ایران امریکا جنگ پھیلتی ہے تو کیا پاکستان اپنی مغربی سرحد پر ایران کے خلاف یا ایران کی نگرانی کے لیے کوئی خفیہ انٹیلی جنس یا لاجسٹک مدد فراہم کرے گا۔ پاکستان ہمیشہ اس کی تردید کرتا ہے۔ پاکستان کی 90 فی صد سے زائد بحری تجارت اور تیل کی درآمدات آبنائے ہرمز کے راستے ہوتی ہیں۔ جنگ کی شدت میں اضافے سے پاکستان کی اپنی معیشت مفلوج ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف پاکستان اس وقت شدید معاشی چیلنجز اور اندرونی دہشت گردی جیسے بی ایل اے اور ٹی ٹی پی سے نمٹ رہا ہے۔ پاکستان کسی بھی نئی جنگ میں شرکت کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ جنگ میں کودنے کی صورت میں پاکستان کے لیے تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ سیاسی منظر نامہ بین الاقوامی تعلقات کا سب سے دلچسپ دور ہے۔ مشرق وسطیٰ کی بساط پر سیاست اور جنگ اس طرح باہم ہو چکے ہیں کہ فتح اور شکست کے پیمانے بدل چکے ہیں۔ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا۔ دنیا اعصاب شکن تذبذب کے غبار میں سانس روکے کھڑی ہے۔
امریکا اور ایران: پس پردہ مہرے اور تزویراتی مخمصہ(3)
adminshuja
اگلی خبر →
اگلے آقا: جنید صفدر اور میر حاکم محمود

Leave a Reply