ڈھاکا: شیخ حسینہ دورحکومت میں ہونے والے ایک سیاست دان کے مبینہ ماورائے عدالت قتل کے الزام میں بنگلادیشی فوجی افسر کو حراست میں لے لیا گیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ قتل 2018 میں حسینہ واجد حکومت کی جانب سے شروع کی گئی انسداد منشیات مہم کے دوران ہوا تھا، جس میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں سے کئی ہلاکتوں کے بارے میں الزام لگایا گیا تھا کہ وہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ مبینہ جعلی مقابلوں میں ہوئیں۔
بنگلادیشی کرائم ٹربیونل نےگزشتہ ہفتے جنوب مشرقی ضلع کاکس بازار کےکونسلر اکرم الحاق کے قتل سے متعلق 11 حکام کے خلاف درخواست منظور کی تھی، جن میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ، ایک سابق پولیس سربراہ اور 6 حاضر سروس و ریٹائرڈ فوجی افسران شامل ہیں۔
بنگلادیشی میڈیا کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں بریگیڈیئر جنرل مفتاح الدین احمد بھی شامل ہیں، جنہیں بنگلادیشی فوج کی جانب سے حراست میں لیا گیا ہے۔
بنگلادیشی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ایک عہدیدار نے بریگیڈیئر جنرل مفتاح الدین احمد کو حراست میں لینے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف مزید قانونی کارروائی قانون کے مطابق کی جا رہی ہے۔
ان کی گرفتاری شیخ حسینہ واجد کے دور حکومت میں ہونے والے اقدامات سے متعلق ٹربیونل کی اب تک کی اہم ترین کارروائیوں میں سے ایک سمجھی جا رہی ہے۔

Leave a Reply