مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر ر عبدالرحیم کاکڑ، حضرت علی اچکزئی،میر یاسین مینگل، عمران ترین، حاجی سعداللہ اچکزئی، حاجی ہاشم کاکڑ، محمد جان آغا درویش، عبدالخالق آغا، حاجی ظفر کاکڑ، جانگھر لانگو، نعمت ترین، نقیب کاکڑ، بسم اللہ ترین، کلیم کمالزئی، اللہ داد اچکزئی، نعمت آغا، حاجی صالح نورزئی اور دیگر کابینہ اراکین نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی مسلسل بگڑتی ہوئی صورتحال، قومی شاہراہوں پر دہشت گردوں کی آزادانہ نقل و حرکت، تاجروں اور ٹرانسپورٹروں پر حملوں، مال بردار گاڑیوں کو نذرِ آتش کرنے اور مسافروں کو نشانہ بنانے کے واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ حکومت بلوچستان اور متعلقہ سیکیورٹی ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ صوبے میں عملاً حکومتی رٹ ختم ہوچکی ہے جبکہ قومی شاہراہیں دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے رحم و کرم پر چھوڑ دی گئی ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ قومی شاہراہوں پر مسلسل بدامنی کے باعث پرچون گڈز ٹرانسپورٹرز کی جاری ہڑتال نے بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں اشیائے خوردونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاءکی ترسیل کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ آٹا، چینی، گھی، دالیں، ادویات اور دیگر ضروری اشیائ کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے، جس کے باعث کئی اضلاع میں قلت اور قیمتوں میں اضافے کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اگر حکومت نے فوری اور مو¿ثر اقدامات نہ کیے تو آنے والے دنوں میں بلوچستان کو اشیائے ضروریہ کی شدید قلت، مہنگائی اور تجارتی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کا براہِ راست نقصان عام شہریوں کو اٹھانا ہوگا

Leave a Reply