کالم:غزالہ عزیز
وہ جانتی تھیں کہ اس راہ میں خلوص سے بڑھ کر اہم کوئی شہ نہیں سو انہوں نے اسی کو دانش مندی سے تھام لیا وہ اسلام کی مخلص داعیہ، علم و ہدایت کے درخشاں مثال تھیں دل غم سے بھرے ہیں آنکھیں اشک بار ہیں کہ محترمہ امت الرقیب خالہ جان چھے جولائی 2026 اللہ کے حضور پیش ہو گئیں۔ ان کی عمر کتنی تھی یہ تو حساب لگانا آسان نہیں ہے یوں بھی خواتین کی عمر کے معاملے میں زیادہ چھان بین نہیں کرنا چاہیے لیکن یہ بات سچ ہے ان کا تجربہ ان کی عمر سے زیادہ تھا کیونکہ انہوں نے بزرگوں کی ساری نصیحتیں اپنے پلو سے مضبوطی سے باندھ رکھیں تھیں۔ میں نے ان کا نام بچپن سے سنا تھا اور امی کے ساتھ ان کو میں نے کراچی میں سرگرم عمل بھی دیکھا تھا۔ 1979 کے آخر میں جب ہماری والدہ (روشن نسرین) کا انتقال ہوا تو اس وقت میں چھوٹی تھی امی کا جانا میرے لیے زندگی کا سب سے بڑا غم تھا ان کے جانے کے دو دن بعد کی بات ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں گھر میں باورچی خانے میں بیٹھی ہوئی ہوں اور امی آسمان سے جیسے ایک چمکدار ہالے میں صحن میں ا±تریں اور میرے پاس آکر کہنے لگیں میں امت الرقیب کو لینے آئی ہوں اور پھر میری آنکھ کھل گئی یہ خواب مجھے عرصہ یاد رہا اس دوران ایک دفعہ جب ان سے ملاقات ہوئی تو میں نے اپنے اس خواب کا ذکر ان سے بھی کیا تھا کہ امی آسمان سے ا±تر کر آپ کو لینے آئیں تھیں۔
وہ مسکرا کے کہنے لگیں ”لیکن میرا ابھی جانا بنتا نہیں تھا شاید اس لیے میں ابھی موجود ہوں“ جس کے لیے جو وقت لکھا ہوتا ہ وہ اسی وقت اللہ کے حضور حاضر ہوتا ہے۔ انہوں نے ایک لمبی عمر دین کی اقامت اور دعوت وتعلیم کے لیے لگائی وہ اپنے پیچھے ایک قافلہ صدقہ جاریہ کے طور پر چھوڑ گئیں جو ہمیشہ تربیت اور تعلیم کے معاملے میں ان کا احسان مند رہے گا۔وہ جب جماعت اسلامی میں آئیں تو بہت سے معاملات ایسے تھے جس میں ان کو آسانیاں تھیں جیسے کہ ان کو گھر میں اتنی روک ٹوک نہیں تھی پورے خاندان کی پشت پناہی حاصل تھی، ان کی بہن جو ان کی جیٹھانی تھیں ان کے بچوں کو اچھی طرح دیکھ لیتی تھیں لیکن ایسا معاملہ تو بہت سارے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی طرح کی آسانیاں لوگوں کو میسر آتی ہیں لیکن ان آسانیوں کو ہر ایک ایسے دین کے کام کے لیے استعمال نہیں کرتا۔ وہ ہمیشہ لوگوں کو اپنے حساب سے نہیں ان کے حساب سے دیکھتی تھیں۔ معصومانہ مسکراہٹ کے ساتھ بہت پیارے انداز میں لوگوں سے باتیں کرتی تھیں ان کے گھریلو معاملات کے بارے میں سوال کرتی تھیں اور جب وہ سوال کرتیں تو اس سوال سے کسی کو برا نہیں لگتا تھا نہ یہ محسوس ہوتا کہ وہ کوئی کھوج کرید کر رہی ہے۔ بہت ہی پرخلوص انداز میں وہ مشکل معاملات میں مشورے دیتیں۔ بات صرف پہچان کی تھی جب انہوں نے اپنے مقصد کو پہچان لیا تو تن من دھن سب کے ساتھ اس کے حضور میں مصروف ہو گئیں اور زندگی کے آخری لمحے تک مصروف رہیں۔
اپنے گھر اور اسکول کے بارے میں وہ بتاتی تھیں کہ ہمارا گھرانہ بہت سادہ تھا اس زمانے میں لوگ بھی بڑے سادے ہوتے تھے ہمارا دیندار گھرانہ تھا امی تہجد گزار تھیں اور کبھی ہم نے انہیں بے پردہ نہ دیکھا، امی نے کبھی کسی کی برائی بچوں کے سامنے نہیں کی خاندان میں اختلافات تو ہوتے رہتے ہیں مگر اس کا ذکر کبھی نہیں سنا نہ کبھی کوئی لڑائی جھگڑا ہوا ہم نے اپنے گھر سے یہی سیکھا محبت کا ماحول بڑوں کی عزت اور چھوٹوں سے شفقت کا معاملہ ہم چار بہنیں اور دو بھائی تھے۔ اسکول میں بھی یہ عالم تھا کہ ہیڈ مسٹریس نماز کی پابندی اس طرح کرواتی تھیں کہ ہم سے پوچھتی تھی کہ کل آپ نے کتنی نمازیں پڑھیں ہیں اور ساتھ ہی اسکول کی چپراسی کو گھر بھیج کر معلومات کرواتی تھی کہ بچے نے کتنی نماز پڑھیں اور اگر ہم نے غلط کہا ہوتا تو پٹائی ہوتی تھی اس طرح بہت ساری لڑکیاں نماز پابندی سے پڑھ لیتی تھیں جس کی بعد میں عادت ہو جاتی۔
کہتی تھیں کہ میرے ساس کی ایک دوست تھیں انہوں نے مجھ سے کہا کہ چلو میں تمہیں ایسی جگہ لے چلتی ہوں جہاں تفسیر پڑھائی جاتی ہے اس وقت میری ساس جو میری خالہ بھی تھیں ان کا انتقال ہو گیا تھا میں ان کے ساتھ تفسیر پڑھنے عائشہ منور کی کلاس میں جانے لگی تحسین فاطمہ بھی میری استاد تھیں میں نے ان سے بھی پڑھا انہوں نے میری تربیت کی میں ان کی کوئی کلاس نہ چھوڑتی تھی۔ جب جامع? المحصنات کی ذمے داری مجھے دی گئی تو میں نے اللہ کے حکم سے کوئٹہ، اکوڑا خٹک، لاڑکانہ، مانسہرہ، کراچی، اسلام آباد، بلوچستان اور سندھ کے مختلف مقامات پر جامع? المحصنات تعمیر کروائیں پھر انہیں کے ذریعے ہم نے دین کی طرف لوگوں کو بلایا جو طالبہ بھی فارغ التحصیل ہوتی تھی ہم ا±س سے کہتے تھے کہ وہ جا کر اپنے علاقے میں اپنا ذیلی ادارہ کھولے پھر ہم جا کر اس کے ساتھ اس کی مدد کرتے تھے اور اس کی ذمے داری بھی ہماری ہی ہوتی تھی۔ 2018 میں جب میں محصنات سے فارغ ہوئی تب تک 163 ذیلی اور 19 بڑی جامعات بن چکی تھیں۔
یہ محض تعلیمی ادارے نہیں تھے بلکہ تربیت گاہیں تھیں جس میں ہزاروں طالبات دینی کردار اور دعوت کے جذبے کے ساتھ تیار ہو کر نکلیں اور نکلتی رہیں گی۔ مختصر یہ ہے کہ امت الرقیب صرف منتظم نہیں تھیں بلکہ ایک ماں اور ایک رہنما کی طرح ہر بچی کی رہنمائی کرتی تھیں اور چھوٹی سے چھوٹی بات سے لے کر بڑی سے بڑی بات کی طرف توجہ دیتی تھیں، انہوں نے اپنے ادارے اینٹ اور پتھر سے نہیں بلکہ اخلاص، محبت اور قربانی کے گارے سے تیار کیے اپنے شاگردوں کے لیے وہ سراپا محبت اور شفقت تھیں ان کی پوری زندگی تعلیم، تربیت اور خدمت کے مشن سے عبارت تھی یقینا یہ ایک ایسا بڑا صدقہ جاریہ ہے کہ اس پر ہم سب کا رشک کرنا بنتا ہے۔
ام المحصنات۔۔ امت الرقیب
adminshuja
← پچھلی خبر
نئے صوبے،ببول سے گلاب کی توقع

Leave a Reply