امریکی محکمہ دفاع نے ایران جنگ کے بعد خلیج میں امریکی فوجی موجودگی کم کرنے پر غور شروع کردیا۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکام اور معاملے سے باخبر دیگر افراد سمیت متعدد ذرائع کے مطابق پینٹاگون مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی کا جائزہ لے رہا ہے جو اس بات کی ابتدائی علامت ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ خطے میں امریکی موجودگی کو تبدیل کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔
اخبار کے مطابق اس حوالے سے پینٹاگون میں جاری جائزے سے باخبر 2 افراد نے بتایا کہ محکمہ دفاع جن اہم پہلوؤں پر غور کررہا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ آیا خلیج فارس سے فوجیوں کو واپس بلایا جائے یا نہیں۔
خیال رہے کہ خلیج میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو ایران جنگ کے دوران ایرانی حملوں کے باعث شدید نقصان پہنچا ہے۔
اخبار کے مطابق ان تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کے باعث پینٹاگون کو خطے میں اپنی موجودگی پر نظرِ ثانی کرنے کا موقع ملا ہے اور محکمہ دفاع پہلے ہی اشارہ دے چکا ہے کہ وہ شاید تنازعے سے پہلے کی طرح اپنے اڈوں کو دوبارہ تعمیر نہ کرے۔
اخبار کا کہنا ہے کہ اس جائزے کی ذمہ داری پینٹاگون کے پالیسی آفس کے پاس ہے تاہم پینٹاگون کے ایک سینیئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جوائنٹ اسٹاف اور امریکی سینٹرل کمانڈ بھی اس معاملے پر غور کررہے ہیں۔
عہدیدار کے مطابق امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے تاحال خطے میں امریکی فوجی موجودگی کے باضابطہ جائزے کا حکم نہیں دیا ہے اس کے بجائے، عہدیدار نے اس جائزے کو ’محتاط منصوبہ بندی‘ قرار دیا جو بالآخر انتظامیہ کو اس بات کا فیصلہ کرنے میں مدد دے سکتی ہے کہ آیا جنگ کے دوران تباہ ہونے والے اڈوں کو دوبارہ تعمیر کیا جائے یا نہیں۔
مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی کارروائیوں کی نگرانی امریکی سینٹرل کمانڈ کرتی ہے جس کے تحت عام طور پر اردن سے عمان تک 1500 میل کے دائرے میں تقریباً 20 مقامات پر 40 ہزار کے قریب فوجی تعینات ہوتے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں امریکا کے سب سے بڑے اور مستقل فوجی اڈے بھی خلیج فارس میں واقع ہیں، بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کا ہیڈکوارٹر موجود ہے اور کویت جیسی دیگر ریاستوں میں بھی فوج اور فضائیہ کے اثاثے موجود ہیں۔
اخبار کا بتانا ہے کہ پینٹاگون میں جاری جائزے سے باخبر افراد کا کہنا ہے کہ اس مسئلے سے امریکی انتظامیہ کے اندر بھی ان دو دھڑوں کے درمیان بحث تیز ہونے کا امکان ہے جن میں سے ایک فوجی مداخلت کی حمایت کرتا ہے اور دوسرے کا ماننا ہے کہ پینٹاگون کو اپنی کچھ کارروائیاں کم کرنی چاہئیں تاکہ وہ امریکی سرزمین کے دفاع یا چین جیسے زیادہ طاقتور مخالفین کا مقابلہ کرنے پر توجہ مرکوز کر سکے۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر ممکنہ طور پر امریکی فوجیوں کو خلیج فارس سے مغرب کی جانب منتقل کرنے کے حامی ہیں۔
اخبار کے مطابق پینٹاگون میں جاری تجزیے سے باخبر متعدد افراد نے خبردار کیا ہے کہ امریکی فوجی موجودگی میں کسی بھی قسم کی مستقل تبدیلیاں ابھی دور کی بات ہے اور اس طرح کے کسی بھی حتمی فیصلے کے لیے انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کی باقاعدہ منظوری درکار ہوگی۔

Leave a Reply