کالم:ڈاکٹر عالمگیر آفریدی
اکیسویں صدی جس کا آغاز افغانستان اور عراق پر یکطرفہ فوج کشی اور بعد ازاں شام، لیبیا اور یمن کو تختہ مشق بناتے ہوئے عالمی بساطِ سیاست پر امریکا کی سپریم پاور کی حیثیت سے ہوا تھا، ربع صدی گزرنے کے بعد یہ دنیا ایک نئے موڑ پر کھڑی نظر آتی ہے جہاں طاقت کے مراکز بدل رہے ہیں، اتحاد ازسرِنو تشکیل پا رہے ہیں اور علاقائی تنازعات اب صرف جغرافیائی حدود تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی معیشت، توانائی اور سلامتی کے نظام کو براہِ راست متاثر کر رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کا کردارجو طویل عرصے تک ایک خطے تک محدود اور کسی حد تک متنازع سمجھا جاتا تھا اب بتدریج ایک وسیع تر جغرافیائی و تزویراتی تناظر میں ابھر رہا ہے خصوصاً گلوبل ساوتھ، جنوبی ایشیا، مغربی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے تناظر میں یہ کردار کئی حوالوں سے اہمیت کا حامل بن چکا ہے۔حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے پس منظر میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات، خواہ حتمی معاہدے پر منتج نہ بھی ہو سکے لیکن اس حقیقت کو نمایاں کر گئے کہ پاکستان اب محض ایک فریق یا تماشائی نہیں بلکہ ایک فعال سفارتی کھلاڑی کے طور پر سامنے آرہا ہے۔ یہ پیش رفت اس امر کی عکاس ہے کہ دنیا ایک کثیر القطبی (Multipolar) نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں درمیانی طاقتیں بھی فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اس پس منظر میں پاکستان کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی یہی ہے کہ اس نے دو ایسے ممالک کو اپنے ہاں ایک میز پر بٹھایا جن کے درمیان دہائیوں سے براہِ راست رابطہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ اس عمل نے نہ صرف پاکستان کی غیر جانبداری کو تقویت دی بلکہ اس کی سفارتی ساکھ کو بھی مستحکم کیا۔ اہم بات یہ ہے کہ دونوں فریقین نے پاکستان کے کردار کو سراہاہے جو کسی بھی ثالث کے لیے بنیادی شرط ہوتی ہے۔ دو بڑے اور روایتی حریف ممالک کا یہ اعتماد محض اتفاق نہیں ہے بلکہ پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے۔ ایک طرف اسلام آباد کے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئی ہے تو دوسری جانب تہران کے ساتھ ہمسایہ ہونے کی بنیاد پر گہرے روابط برقرار ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب، ترکیہ اور چین جیسے اہم علاقائی و عالمی کھلاڑیوں کے ساتھ پاکستان کی ہم آہنگی اسے ایک منفرد سفارتی پوزیشن فراہم کرتی ہے۔گلوبل ساوتھ کے تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کا یہ کردار اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ عالمی جنوبی ممالک طویل عرصے سے مغربی طاقتوں کے زیر ِ اثر عالمی نظام میں اپنی آواز بلند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے میں اگر پاکستان جیسے ممالک تنازعات کے حل میں فعال کردار ادا کرتے ہیں تو یہ نہ صرف اس کی اپنی اہمیت کو بڑھاتا ہے بلکہ گلوبل ساوتھ کی اجتماعی طاقت کو بھی تقویت دیتا ہے۔ ماضی میں جنوبی ایشیا میں پاکستان کا کردار ہمیشہ سے سیکورٹی کے زاویے سے دیکھا جاتا رہا ہے لیکن اب یہ دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔ بھارت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو کم تر ظاہر کرنے کی کوششیں دراصل اس بدلتے ہوئے توازنِ طاقت کی عکاسی کرتی ہیں۔ تاہم عالمی سطح پر پاکستان کو ملنے والی پذیرائی اس بات کا ثبوت ہے کہ سفارت کاری میں خاموش اور متوازن حکمت عملی اکثر جارحانہ بیانیے پر سبقت لے جاتی ہے۔
یہ امر قابل توجہ ہے کہ حالیہ اسلام آباد مذاکرات سے مغربی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کی اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ ایک طرف پاکستان ایران کے ساتھ طویل سرحد رکھنے کے علاوہ قریبی دوستانہ تعلقات رکھتا ہے تو دوسری طرف سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے ساتھ اس کے گہرے دفاعی اور معاشی تعلقات ہیں۔ یہی جغرافیائی اور تزویراتی حیثیت اسے ایک ”پل“ (Bridge State) بناتی ہے، ایک ایسا ملک جو مختلف بلاکس کے درمیان رابطہ قائم کر سکتا ہے۔ تاہم اس کردار کے ساتھ خطرات بھی وابستہ ہیں۔
اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو پاکستان ایک مشکل صورتِ حال سے دوچار ہو سکتا ہے۔ ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون اور دوسری طرف ایران کے ساتھ ہمسائے گی، پاکستان کو ایک نازک توازن برقرار رکھنے پر مجبور کرتی ہے۔ کسی ایک جانب جھکاو? نہ صرف سفارتی نقصان کا باعث بن سکتا ہے بلکہ داخلی سطح پر بھی فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دے سکتا ہے۔
معاشی اعتبار سے بھی اس تنازع کے اثرات پاکستان کے لیے کم اہم نہیں ہیں۔ توانائی کی عالمی منڈی میں ا±تار چڑھاو?، آبنائے ہرمز کی بندش اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست پاکستانی معیشت کو متاثر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے لیے امن محض ایک اخلاقی یا سفارتی مقصد نہیں بلکہ ایک معاشی ضرورت بھی ہے۔ یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ آیا پاکستان واقعی ایک ثالث ہے یا محض ایک سہولت کار؟ حقیقت شاید ان دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے۔ موجودہ مرحلے پر پاکستان بنیادی طور پر ایک ”فسیلیٹیٹر“ (Facilitator) کے طور پر کام کر رہا ہے یعنی ایسا ملک جو فریقین کے درمیان رابطہ قائم رکھتا ہے، اعتماد سازی میں مدد دیتا ہے اور مذاکرات کے لیے ماحول فراہم کرتا ہے۔ لیکن اگر یہ عمل کامیابی سے آگے بڑھتا ہے تو یہی کردار ایک مو?ثر ثالثی میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ تاریخی طور پر بھی پاکستان نے ایسے کردار ادا کیے ہیں۔ 1970 کی دہائی میں امریکا اور چین کے درمیان خفیہ سفارت کاری میں پاکستان کا کردار ایک اہم مثال ہے۔ آج کا عالمی منظرنامہ اگرچہ مختلف ہے لیکن اصول وہی ہیں یعنی اعتماد، توازن اور بروقت مداخلت۔
اسلام آباد میں ہونے والے امریکا ایران مذاکرات اور ان سے پہلے چار فریقی اور بعد ازاں چین سمیت کثیرالجہتی سفارتی رابطے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان اب ایک وسیع تر علاقائی فریم ورک کا حصہ بن رہا ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر جیسے بااثر اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر پاکستان ایک ایسے سفارتی بلاک کی تشکیل میں کردار ادا کر سکتا ہے جو خطے میں استحکام اور ڈی اسکیلیشن کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ مزید برآں، چین کے ساتھ پاکستان کی شراکت داری اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI) میں اس کا کردار اسے عالمی اقتصادی و تزویراتی نظام میں ایک اہم مقام دیتا ہے۔ اگر پاکستان اپنی سفارت کاری کو معاشی حکمت عملی کے ساتھ جوڑنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ اس کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔
حرفِ آخر یہ کہ پاکستان اس وقت ایک ”ہائی رسک، ہائی ریوارڈ“ سفارتی مرحلے سے گزر رہا ہے۔ کامیابی کی صورت میں یہ نہ صرف اپنی عالمی ساکھ بہتر بنا سکتا ہے بلکہ معاشی اور سیکورٹی فوائد بھی حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن ناکامی کی صورت میں اسے تزویراتی دباو?، معاشی مشکلات اور داخلی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لہٰذا بدلتی ہوئی دنیا میں پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ اپنے اس ابھرتے ہوئے کردار کو کس حد تک مستقل اور مو?ثر بنا پاتا ہے۔ اگر وہ توازن، تدبر اور دوراندیشی کے ساتھ اپنی خارجہ پالیسی کو آگے بڑھاتا ہے تو وہ نہ صرف اس خطے اور عالم اسلام بلکہ گلوبل ساو?تھ میں بھی ایک کلیدی کھلاڑی کے طور پر اپنی جگہ مستحکم کر سکتا ہے۔
بدلتا عالمی منظر نامہ اور پاکستان
adminshuja
اگلی خبر →
اعلیٰ تعلیمی ادارے یا بچیوں کے مقتل؟
← پچھلی خبر
آبنائے ہرمز پرخونریز جنگ کا خطرہ!

Leave a Reply