کالم:دلشاد عالم
کراچی کے انٹر بورڈ آفس پر ایک لسانی تنظیم کے کارکنوں نے جتھوں کی شکل میں احتجاجی جلوس نکالا اور حملہ کیا۔ یہ واقعہ انٹر بورڈ آفس اور پھر شارع نور جہاں تھانے کے قریبی علاقے میں پیش آیا۔ متعدد افراد زخمی ہوئے، ویڈیوز اور تصاویر سوشل اور الیکٹرونک میڈیا پر وائرل ہوئیں۔ طالب علم اسامہ پر انٹر بورڈ کے OSD عمران چشتی کے گارڈز کے ایک طالب علم پر تشدد کسی صورت برداشت نہیں، میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ایک معاشرہ جہاں قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کی پاسداری بنیادی اصول ہوں، وہاں کسی بھی بے گناہ لڑکے پر سیکورٹی گارڈ کا تشدد ناقابل ِ قبول اور انتہائی مذموم عمل ہے۔ اس وحشیانہ واقعے کی شدید مذمت کرنا چاہیے۔ ایک معصوم نوجوان پر ایسا ظلم نہ صرف اس کی جسمانی تکلیف کا باعث بنتا ہے بلکہ معاشرے کے ضمیر کو بھی زخمی کرتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ اس گارڈ کے خلاف فوری کارروائی کریں تاکہ ایسے واقعات کی تکرار نہ ہو اور ہمارے بچوں کو محفوظ ماحول مل سکے۔ تشدد کبھی بھی حل نہیں، بلکہ ایک بڑا جرم ہے جس کی کوئی معافی نہیں۔ مگر مبینہ تشدد کی آڑ میں جو پاور شو کیا گیا۔ اس کا اصل مقصد بورڈ اسٹاف پر دباو ڈالنا، نظام پر قبضہ برقرار رکھنا اور اپنی غنڈہ گردی کو جاری رکھنا تھا۔
یہ کوئی ایک دن کا واقعہ نہیں بلکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے چلنے والے منظم مافیا کا تسلسل ہے۔ 1984 سے پاکستان میں طلبہ یونینز پر پابندی ہے اور 2018 میں ہائیکورٹ نے تعلیمی بورڈز میں سیاسی مداخلت سے صراحتاً منع کیا تھا۔ پھر بھی یہ نام نہاد لسانی تنظیم غیر رسمی طور پر کام کر رہی ہے۔ ان لڑکوں کو کوئی بڑی سیاسی جماعت تسلیم نہیں کرتی۔ ان میں سے کچھ گورنمنٹ کالجوں میں داخل ضرور ہیں مگر کلاسوں سے غیر حاضر رہتے ہیں۔ کچھ پرانے کارکن ہیں جو برسوں سے طلبہ سیاست کے نام پر دھندا چلا رہے ہیں۔ کچھ کا تعلق مدرسوں یا پرائیویٹ انسٹی ٹیوٹس سے ہے جو پرائیویٹ امیدوار کے طور پر بورڈ امتحانات دیتے ہیں۔ انٹر بورڈ آفس پر حملے کے بعد معاملہ شارع نور جہاں تھانے تک پہنچا۔ پولیس کی مبینہ ملی بھگت کے الزامات بھی لگے۔ کارکنوں نے بورڈ آفس کے اندر گھس کر ملازمین کو نشانہ بنایا، زخمی کیا اور دہشت پھیلائی۔ تھانہ شارع نور جہاں اسی علاقے میں ہے جہاں یہ واقعات ہوئے۔ ایجنٹ مافیا اور تھانے کے درمیان مبینہ روابط کے الزامات بار بار سامنے آتے رہے ہیں۔ جب بورڈ حکام شفافیت کی طرف بڑھتے ہیں تو ایسے حملے ہوتے ہیں۔ پولیس اور رینجرز کی موجودگی کے باوجود چند سو لڑکوں پر قابو نہیں پایا جا رہا، یہ خود بڑا سوال ہے۔
2023 میں فرسٹ ائیر کے 66 فی صد بچے فیل ہوئے۔ متاثرہ طلبہ اور والدین کے ساتھ پریس کلب پر مظاہرے ہوئے۔ انٹر بورڈ پر مظاہرے کے دوران ایک لڑکے نے خود پیشکش کی کہ مارک شیٹ دو، پیسے بتائیں گے اور ادائیگی کے بعد نئی شیٹ مل جائے گی۔ یہ براہ راست رشوت اور نمبر بڑھانے کا کاروبار تھا۔ متعدد مظاہروں کے بعد فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنی۔ انکشاف ہوا کہ کچھ ایجوکیشن رپورٹرز کے بروکرز طلبہ سے پیسے لے کر نمبر بڑھواتے ہیں، فارم جمع کرواتے ہیں اور فوٹو اسٹیٹ دو سو روپے میں بیچتے ہیں۔ جو والدین پیسے نہیں دیتے ان کے ساتھ غنڈہ گردی، مار پیٹ اور لائن میں کھڑے ہونے والوں کو تنگ کیا جاتا ہے۔ اس لیے انٹر بورڈ کو پوسٹ پیڈ بورڈ کہا جاتا ہے۔ رزلٹ 40 فی صد اعلان ہوتا ہے مگر بعد میں 10 سے 20 فی صد مزید بچے پاس ہو جاتے ہیں۔ 2023 اور 2024 میں مخصوص مضامین میں سب طلبہ کو 15-20 فی صد اضافی نمبر دیے گئے۔ ڈاکٹر سروش لودھی کی سربراہی میں فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے پرچوں کی غلط چیکنگ اور نظام کی غیر شفافیت کی نشاندہی کی تھی۔ امتحانات کے بعد نمبر بڑھانے، جعلی کاپیاں چھپوانے، پرچے آوٹ کرانے اور پوزیشن بیچنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ زیادہ تر یہ لڑکے کٹی پہاڑی، قصبہ اور بلدیہ کالونی سے تعلق رکھتے ہیں۔
لسانی تنظیم کی یہ غنڈہ گردی اب ختم ہونی چاہیے۔ تعلیم کے مقدس ادارے کو ان کی قید سے آزاد کرایا جائے۔ یہ کوئی طلبہ تنظیم نہیں بلکہ ایک منظم مافیا ہے جو نقل، رشوت، دھمکیوں اور طاقت کے بل بوتے پر چل رہا ہے۔ بورڈ آفس میں گھس کر ملازمین کو زخمی کرنا، والدین کو تنگ کرنا، ایماندار افسران پر دباو? ڈالنا اور تھانوں میں کمپلین نہ درج ہونے دینا یہ سب غیر قانونی اور ناقابل برداشت ہے۔ کراچی کے لاکھوں طلبہ کا مستقبل داو? پر لگا ہے۔ شفاف امتحانات کے بغیر تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں۔ پولیس، رینجرز، فوج، اینٹی کرپشن، عدلیہ اور والدین کی نمائندگی پر مشتمل جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم فوری بنائی جائے۔ مکمل تحقیقات ہوں، ملزمان کو قرار واقعی سزا ملے اور مافیا کا نیٹ ورک ختم کیا جائے۔
امتحانی نظام کو مکمل طور پر تبدیل کیا جائے۔ OMR شیٹس، بار کوڈڈ پیپرز، CCTV لائیو اسٹریمنگ، بائیو میٹرک حاضری اور آن لائن امتحانات کا آپشن نافذ کیا جائے۔ اس سے جھنجھٹ، اخراجات اور مافیا کی مداخلت ختم ہو جائے گی۔ بورڈز میں کلاس فور سے افسر سطح تک بھرتیاں میرٹ پر ہوں، سیاسی یا گروہی مداخلت ختم ہو۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے انٹر بورڈ پر یہ قبضہ برقرار ہے۔ پارکنگ کے پیسے سے لے کر پاسنگ کے پیسے تک سب کچھ ان کے کنٹرول میں رہا۔ ایماندار افسران کو تنگ کیا گیا، والدین کو لوٹا گیا اور طلبہ کا مستقبل برباد کیا گیا۔ شارع نور جہاں تھانے کے قریبی واقعے نے ایک بار پھر یہ حقیقت عیاں کر دی کہ مافیا کتنا منظم اور طاقتور ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ منسٹری آف بورڈز اینڈ یونیورسٹیز، بورڈز چیئرمینز اور حکومت مل کر نیا شفاف سسٹم بنائیں۔ کراچی کے بچوں کو اس ناسور سے نجات دلائی جائے۔ لسانی جماعت کی غنڈہ گردی کو روکا جائے اور انٹر بورڈ کو ان کی قید سے آزادی دلائی جائے۔ تعلیم سیاست اور مافیا سے بالاتر ہو، یہ ہم سب کی ذمے داری ہے۔

Leave a Reply