کالم:عمران احمد سلفی
اے مسلمانو! کیا تم نے سوچا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس مقدس سرزمین پر، جہاں رسول اللہ نے سود کی جڑ کاٹنے کا حکم دیا تھا، آج پھر وہی گندہ نظام ہمارے گھروں تک پہنچ رہا ہے؟ وزیر اعظم کی گھر اسکیم ایک بار پھر سود کی زہریلی زنجیروں میں جکڑ کر عوام کو اللہ کی نافرمانی کی طرف دھکیل رہی ہے۔ شریف خاندان بار بار اللہ سے جنگ مول لے رہا ہے، جیسے قوموں نے پہلے لیا اور تباہ ہوئیں۔ یہ سود کا کاروبار نہ صرف معاشرے کو کھوکھلا کر رہا ہے بلکہ قیامت کے دن شیطان کی زد میں کھڑا کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں سود کی سخت مذمت فرمائی ہے۔ سورة البقرہ کی آیات 275 سے 279 تک اللہ فرماتا ہے کہ جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ قیامت کے دن اس شخص کی طرح اٹھیں گے جسے شیطان نے خبط زدہ کر دیا ہو۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے کہا تھا کہ تجارت بھی سود جیسا ہے حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام۔ جو نصیحت سن کر باز آجائے تو اس کا پچھلا معاملہ اللہ کے حوالے، مگر جو پھر لوٹے تو وہ دوزخ والے ہیں جہاں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر تم مومن ہو۔ اگر نہ چھوڑا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کا اعلان ہے۔
سورةآل عمران آیت 130 میں ارشاد ہے: اے ایمان والو! سود کو کئی گنا بڑھا کر مت کھاو اور اللہ سے ڈرو تاکہ کامیاب ہو جاو۔ سورہ روم آیت 39 میں فرمایا: جو سود دیتے ہو تاکہ لوگوں کے مال میں اضافہ ہو وہ اللہ کے نزدیک نہیں بڑھتا، جبکہ زکوٰ اللہ کی رضا کے لیے دو تو وہ بڑھتا ہے۔ سورہ النساءمیں یہودیوں کی مذمت کی گئی کہ وہ سود لیتے تھے حالانکہ ان پر حرام تھا۔ یہ آیات مرحلہ وار نازل ہوئیں، پہلے ہلکا اشارہ پھر سخت حکم، تاکہ امت تیار ہو جائے۔
رسول اللہ نے سود کی مذمت میں فرمایا کہ سود کھانے والے، دینے والے، لکھنے والے اور اس کے دو گواہوں پر اللہ کی لعنت ہے، سب برابر ہیں (مسلم)۔ ایک درہم سود کھانا چھتیس زنا کاریوں سے بدتر ہے۔ سود کے ستر درجے ہیں، سب سے ہلکا اپنی ماں سے زنا جیسا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ایک زمانہ آئے گا جب سب سود کھائیں گے، اگر نہ کھائیں تو اس کا دھواں انہیں چھو جائے گا۔ شب معراج میں آپ نے سود خواروں کو دیکھا جن کے پیٹ گھروں جیسے بڑے تھے اور ان میں سانپ ڈس رہے تھے۔ نبی کریم نے حج± الوداع میں فرمایا: تمام جاہلیت کا سود ختم، سب سے پہلے اپنے چچا عباس بن عبد المطلب کا سود معاف۔ فتح مکہ کے بعد آپ نے تمام سودی لین دین منسوخ کر دیا۔ صحابہ کرامؓ نے اس حکم کی تعمیل میں کوئی سستی نہیں برتی۔ سیدنا عمر فاروقؓ نے سود کی آخری آیات نازل ہونے پر کہا کہ کاش رسول اللہ اس کی تفصیل بھی فرماتے، مگر امت نے اسے سختی سے اپنایا۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود نے فرمایا کہ سود خوار کا انجام ہمیشہ نقصان اور ذلت ہے اگرچہ ظاہری مال بڑھ جائے۔ تاریخ اسلام میں سود کے خلاف جدوجہد روشن مثالیں ہیں۔ خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے ارتداد کی لڑائیوں میں ان قبائل سے لڑا جو زکوآدینے سے انکار کرتے تھے، کیونکہ زکوآاور سود مخالف ہیں۔ سیدنا عمرؓ نے ریاست میں سود کو جڑ سے اکھاڑا، بینکوں جیسے اداروں کی بنیاد نہیں رکھی بلکہ اسلامی معاشرہ قائم کیا جہاں قرض حسنہ عام تھا۔ سیدنا عثمانؓ اور سیدنا علیؓ کے دور میں بھی سود کی کوئی اجازت نہ تھی۔ صحابہ نے تجارت کی، مگر قرض پر اضافہ حرام سمجھا۔
ایک واقعہ ہے کہ جاہلیت میں لوگ قرض لیتے، مدت پوری ہونے پر کہتے اگر ادا نہ کرو تو سود بڑھے گا، پھر دوگنا تین گنا۔ اسلام نے اسے ختم کیا۔ سیدنا جابر کی روایت ہے کہ نبینے تمام سودی لین دین ختم کیا۔ صحابہ نے اپنے پرانے سودی قرض معاف کیے۔ ایک صحابی نے اپنے بھائی کا سودی مال واپس کیا اور کہا اب اللہ کے حکم کے مطابق۔ اللہ کے رسول نے فرمایا سود نہ صرف مال بڑھاتا بلکہ برکت مٹاتا ہے۔ آج کے بینکوں، اسکیموں میں جو سود ہے وہ وہی جاہلیت کا سود ہے۔ اکابر علماءنے اسٹیٹ بینک کے ساتھ بات کی تھی کہ سود سے پاک نظام کی طرف جائیں، مگر پھر بھی سودی پروگرام لانا اللہ کی حدود کی پامالی ہے۔ عوام کو چاہیے کہ مسترد کریں۔
حدیث ہے کہ سود والا شخص اللہ اور رسول سے جنگ کرتا ہے۔ قیامت میں وہ شیطان زدہ کی طرح کھڑا ہو گا، اس کا مال اس کے کام نہ آئے گا۔ اللہ فرماتا ہے جو سود چھوڑ دے تو پچھلا مال اس کا، مگر آگے نہ بڑھے۔ تاریخ گواہ ہے کہ سود والے معاشرے تباہ ہوئے، روم، فارس، جاہلی عرب۔ اسلام نے عدل قائم کیا، غریبوں کو اٹھایا۔ آج پاکستان میں یہ اسکیمیں غریب کو گھر دلانے کے نام پر جال پھیلا رہی ہیں۔ ایک گھر لے کر سو سال سود ادا کرو، خاندان تباہ۔ یہ اللہ کی نافرمانی ہے جو عذاب کو دعوت دیتی ہے۔ صحابہ نے ایک درہم سود سے بھی بچنے کی کوشش کی۔ سیدنا ابن عباسؓ نے تفسیر میں سود کی وضاحت کی کہ کوئی اضافہ بغیر عوض کے حرام۔ رسول اللہ نے فرمایا: تم سود، شراب، زنا، جادو، یتیم کا مال، جہاد سے بھاگنا، ماں باپ کی نافرمانی سے بچو۔ سود ان قاتل گناہوں میں شامل۔ ایک حدیث میں ہے سود کا مال جہنم کی آگ جلائے گا۔ اکابر علماءکو آواز بلند کرنی چاہیے، فتویٰ دیں کہ یہ حرام ہے۔ عوام سودی پروگرام مسترد کریں، اللہ پر بھروسا رکھیں، حلال روزی تلاش کریں۔
اللہ نے تجارت کو حلال کیا، شراکت، مضاربت، مرابحہ جیسے طریقے بتائے۔ تاریخ میں خلافت راشدہ میں معاشی عدل تھا، فتوحات سے مال آیا مگر سود نہیں۔ سیدنا عمرؓ نے بیت المال قائم کیا، قرض حسنہ دیا۔ آج بھی اگر امت سود چھوڑ دے تو برکت آئے گی۔ اے امت مسلمہ! اللہ کی طرف لوٹ آو¿، سود کی گندگی چھوڑ دو ورنہ عذاب قریب ہے۔ قیامت کے دن جب سود خوار شیطان زدہ کھڑے ہوں گے تو پچھتائیں گے مگر وقت گزر چکا ہو گا۔ اپنے بچوں کے لیے حلال ورثہ چھوڑو، اللہ کی حدود پر چلو، توبہ کرو، صدقہ دو، اللہ برکت دے گا۔ یہ ملک اللہ کا ہے، سود کی جنگ اللہ سے لڑنے والی ہے، اس سے بچو تاکہ کامیاب ہو جاﺅ۔ اللہ ہم سب کو سود سے پاک زندگی عطا فرمائے، آمین۔جماعت اسلامی پاکستان وطن عزیز میں برسوں سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور رسول اللہ کی ختم نبوت کی بنیاد اور قرآن و سنت کے تعلیمات پر نفاذ شریعت کی مقدس جدوجہد میں مصروف عمل ہے الحمدللہ، جماعت اسلامی ایک کھرا سچ ہے۔ جماعت اسلامی کا نصب العین سراسر سچ ہے اور اللہ تعالیٰ بھی فرماتا ہے کہ سچوں کا ساتھ دو۔ مطلب سچ اور سچوں کا ساتھ دینا عین فرض ہے۔ ایک حدیث پاک میں آتا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: ”بلاشبہ سچ آدمی کو نیکی کی طرف بلاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور ایک شخص سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ صدیق کا لقب اور مرتبہ حاصل کر لیتا ہے اور بلاشبہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی جہنم کی طرف اور ایک شخص جھوٹ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے یہاں بہت جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔ اس حدیث پاک کی روشنی میں ہمیں چاہیے کہ ہم جماعت اسلامی کا ساتھ دیں، جماعت اسلامی کی ممبر شپ مہم دعوت کے فروغ کا ایک ذریعہ ہے اس مہم کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کریں، چاہیے آپ کسی بھی شعبہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ ایک کاشت کار ہیں جسے بیج کاشت کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔
کیا کاشت کار بیجوں کی کاشت کے بعد انہیں یوں ہی چھوڑ دیتا ہے یا مسلسل ان کی خبرگیری بھی کرتا ہے۔ کوئی صاحب عقل ہرگز یہ نہیں کہے گا کہ بیجوں کو زمین میں محض دبا دینا ہی کافی ہے۔ آپ کی کوشش سے بننے والا ہر نیا ممبر آپ کی ذمے داری ہے۔سب سے پہلے لازم ہے کہ آپ کے پاس تمام ممبران کا ریکارڈ موجود ہو۔ پھر یہ کہ آپ انہیں مسلسل اپنے رابطے میں رکھیں اور انہیں یہ احساس دلاتے رہیں کہ اب آپ کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ گاہے گاہے ان کی فکری تربیت اور دینی تعلیم کا بندوبست کرتے رہیں۔
کوشش کریں کہ آپ کی محنت سے ممبر بننے والے تمام افراد فرائض کے پابند ہوں اور قرآن و سنت کے ساتھ فہم اور عمل کا تعلق جوڑ لیں۔ ضروری ہے کہ آپ انہیں جماعت اسلامی کے مقامی پروگرامات میں شریک کرتے رہیں۔ یہ آپ کے ذمے ہے کہ آپ انہیں جماعت اسلامی کی جدوجہد اور امیر جماعت کے بیانات سے آگاہی فراہم کرتے رہیں۔ اگر آپ یہ کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو میں آپ سے ایک سوال پوچھتا ہوں کیا آپ کو یاد ہے کہ گزشتہ ممبرشپ مہم میں آپ نے کن کن لوگوں کو ممبر بنایا تھا؟ اگر آپ نے درج بالا کاموں میں سے کوئی بھی کام نہیں کیا تو میں نناوے فی صد یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ کو ہرگز یاد نہیں ہوگا کہ گزشتہ مہم میں کون کون سے لوگ آپ کی دعوت پر ممبر بنے تھے۔ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ممبران کے لیے اپنے وارڈ، یو سی یا کسی چھوٹے حلقے کی سطح کا واٹس ایپ گروپ بنا لیجیے ہر نئے ممبر کو اس میں شامل کیجیے اور اس گروپ کو اپنی دعوتی اور تنظیمی سرگرمیوں کے ساتھ فعال رکھیے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ جماعت اسلامی منافقت سے بچاتی ہے انسانوں کو ایک حدیث پاک میں آتا ہے کہ: رسول اللہ? نے فرمایا: ”چار خصلتیں جس کسی میں ہوں تو وہ پکا منافق ہے اور جس میں ان میں سے ایک خصلت پائی جاتی ہو اس میں منافقت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہوتی ہے یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے۔ پہلی یہ کہ جب اسے امانت سونپی جائے تو اس میں خیانت کرے۔ دوسری یہ کہ بات کرتے وقت جھوٹ بولے۔ تیسری یہ کہ جب عہد کرے تو اسے پورا نہ کرے اور چوتھی یہ کہ جب جھگڑا کرے تو گالی گلوچ پر اتر آئے۔ (بخاری) کوشش کریں کہ آپ کا ساتھ اور تعلق جماعت اسلامی کے ساتھ سچائی اور ربّ کی رضا کی بنیاد پر ہو نہ کہ دنیاوی یا ذاتی مفادات کی لالچ میں، اللہ تعالیٰ یقینا اس کام کا اجر دے گا۔

Leave a Reply