Daily Shujaat Quetta
June 24, 2026
🌤 Quetta,pk --°
تازہ خبریں
ایپل کے چیف ایگزیکٹو کا آئی فونز کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہکیا اسمارٹ فون کو چارجنگ کے دوران استعمال کرنے سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے؟میٹا نے فیس بک میں بہت بڑی تبدیلیاں کر دیںجی میل میں اے آئی سمریز کا فیچر دنیا بھر کے صارفین کیلئے متعارفگوگل ارتھ کی خفیہ فلائٹ سمولیٹر گیم اب تمام صارفین کو مفت دستیابانسٹا گرام میں اب ہر فوٹو یا ویڈیو پوسٹ میں کیپشن تحریر کرنا ممکنپسنی کے قریب فجیرہ سے آنے والے آئل ٹینکر میں کریو کے رہائشی حصے میں لگنے والی آگ بجھا دی گئیالیکشن کمیشن نےگلگت بلتستان انتخابات کےسرکاری نتائج کا اعلان کردیاپیٹرول پر فی لیٹر لیوی 40 روپے 49 پیسے کم کردی گئی، ذرائع پیٹرولیم ڈویژنکیا آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے کسی بیماری کا نتیجہ ہوسکتے ہیں؟ایپل کے چیف ایگزیکٹو کا آئی فونز کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہکیا اسمارٹ فون کو چارجنگ کے دوران استعمال کرنے سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے؟میٹا نے فیس بک میں بہت بڑی تبدیلیاں کر دیںجی میل میں اے آئی سمریز کا فیچر دنیا بھر کے صارفین کیلئے متعارفگوگل ارتھ کی خفیہ فلائٹ سمولیٹر گیم اب تمام صارفین کو مفت دستیابانسٹا گرام میں اب ہر فوٹو یا ویڈیو پوسٹ میں کیپشن تحریر کرنا ممکنپسنی کے قریب فجیرہ سے آنے والے آئل ٹینکر میں کریو کے رہائشی حصے میں لگنے والی آگ بجھا دی گئیالیکشن کمیشن نےگلگت بلتستان انتخابات کےسرکاری نتائج کا اعلان کردیاپیٹرول پر فی لیٹر لیوی 40 روپے 49 پیسے کم کردی گئی، ذرائع پیٹرولیم ڈویژنکیا آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے کسی بیماری کا نتیجہ ہوسکتے ہیں؟

ڈبلیو ایچ او نے کانگو اور یوگنڈا میں ایبولا کے پھیلاؤ کو عالمی ہیلتھ ایمرجنسی قرار دیدیا

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے جمہوریہ کانگو اور یوگنڈا میں ایبولا کے پھیلاؤ کو بین الاقوامی سطح پر عوامی صحت کے لیے پبلک ایمرجنسی قرار دیا ہے۔

ان دونوں ممالک میں اب تک 300 سے زائد مشتبہ کیسز اور 88 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔

17 مئی کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسس نے بتایا کہ ایبولا کا پھیلاؤ وبائی ایمرجنسی کی سطح تک نہیں پہنچا مگر پڑوسی ممالک میں اس کے پھیلاؤ کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔

طبی حکام نے تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک میں ایبولا کی ایک خاص قسم Bundibugyo virus disease (بی وی ڈی) پھیل رہی ہے جس کے لیے ابھی کوئی منظور شدہ ادویات یا ویکسین دستیاب نہیں۔

ویسے تو کانگو اور یوگنڈا میں اب تک 20 سے زائد بار ایبولا پھیل چکا ہے مگر یہ محض تیسری بار ہے جب بی وی ڈی کی تصدیق ہوئی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق کیسز کی تعداد بہت زیادہ ہوسکتی ہے۔

ابھی تمام کیسز کانگو میں سامنے آئے ہیں، یوگنڈا میں صرف 2 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔

حکام نے بتایا کہ کانگو کے مشرقی صوبے Ituri میں یہ وائرس پھیلا رہا ہے جو یوگنڈا اور جنوبی سوڈان کے قریب ہے۔

افریقا سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن نے 336 مشتبہ کیسز اور 87 اموات کو رپورٹ کیا۔

یوگنڈا نے 16 مئی کو ایک کیس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ کیس کانگو سے یہاں منتقل ہوا جبکہ اس مریض کا انتقال ہوچکا ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے یوگنڈا میں ایک اور کیس کی بھی تصدیق کی ہے اور بتایا کہ بظاہر ان دونوں کیسز کا تعلق کانگو سے نہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے تصدیق شدہ مریجوں کو فوری طور پر الگ تھلگ کرنے کا مشورہ دیا ہے جبکہ 21 دنوں تک مقامی سطح پر سفر کو محدود اور بین الاقوامی سفر پر پابندی کی ہدایت کی ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

adminshuja

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *