موسم گرما میں گرمی کا مقابلہ کرنے کیلئے آئسکریم سمیت ٹھنڈے مشروبات کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔
بچہ ہو یا بڑا آئسکریم کھانا ہر عمر کے فرد کو پسند ہے لیکن بہت کم لوگ ایسے ہیں جو رات دیر گئے آئسکریم کھانے کے نقصانات سے واقف ہیں۔
ایتھوپیا کے ایگری کلچرل ریسرچ جرنل میں شائع تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ رات گئے آئس کریم کھانا دماغ کے کام کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرسکتا ہے۔
شوگرکی سطح کا بڑھنا
آئسکریم میں شکر اور چکنائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، آئسکریم کو بنانے کے لیے مکمل چکنائی والا دودھ اور کریم استعمال کیا جاتا ہے۔
اگر رات دیر گئے آئسکریم کو کھایا جائےتو اس کا استعمال دماغی دھند کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ اس سے گلوکوز میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے جو لبلبہ کے ذریعے خارج ہونے والے انسولین کے کو بھی متاثر کرتا ہے۔
اس کے علاوہ یہ نیند میں بھی خلل ڈالتا ہے اور صبح کے وقت دماغ کے کام کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے، اگر آئسکریم کو رات میں کھانے سے گریز کیا جائے تو بہت سے مسائل سے بچا جاسکتا ہے۔
رات گئے آئسکریم کا استعمال سوزش کو بڑھا سکتا ہے اور آنتوں کے مائیکرو بایوم کے کام کرنے کے طریقے کو متاثر کرسکتا ہے جبکہ چکنائی اور شوگر کی وجہ سے کھانا بھی دیر سے ہضم ہوتا ہے جس سے بدہضمی کے مسائل بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔

Leave a Reply