سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئےکہا ہےکہ کرپشن کے بغیر سندھ میں کوئی کام نہیں ہوتا، سرکاری افسران کمیشن لیتے ہیں اور کمیشن کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔
اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کا کہنا تھا کہ حکومتی اراکین جسےکامیاب بجٹ سمجھتے ہیں، ایسا لگا کہ یہ بجٹ سندھ کے عوام کو خسارے میں ڈال رہا ہے۔
علی خورشیدی کا کہنا تھا کہ ہم سےکہا جاتا ہےکہ وفاق میں حکومتی عہدوں سے استعفیٰ دیں، اگر پیپلز پارٹی صدر مملکت، چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی اسپیکر کو قومی اسمبلی سے استعفے دلوائے تو ایم کیو ایم کے وفاقی وزراء بھی استعفیٰ دینے کے لیے تیار ہیں۔
ان کا مزید کہناتھاکہ پی پی کی حکومت میں سے الیکٹیبلز نکال دیں تو حکومت گر جائے گی، یہ مت کہا کریں کہ کارکردگی پر عوام ووٹ دیتی ہے، سعید غنی کہتے ہيں کہ لاہور میں ایم کیو ایم نہیں تھی اسی لیے امن تھا، ہم کہتے ہيں لاہور میں پیپلز پارٹی نہيں اس لیے امن ہے، کچے میں کونسی ایم کیو ایم تھی۔
انہوں نے چھوٹےگریڈ کے ملازمین کی تنخواہ میں کم سےکم 20 فیصد اضافے اور پولیس کے سپاہی کی تنخواہ پنجاب پولیس کے برابرکرنےکا مطالبہ کیا اورکہا کہ مختلف محکموں کے ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کا مسئلہ حل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبےکے عوام جاننا چاہتےہیں کہ سانحہ گل پلازا کیسے ہوا؟ سانحہ گل پلازا کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر لائی جائے۔

Leave a Reply