سابق صوبائی وزیر اور ممتاز سیاسی و قبائلی شخصیت میر سکندرعلی عمرانی نے کہاہے کہ ڈیرہ مراد جمالی میں محکمہ زراعت اور مارکیٹ کمیٹی کی سرکاری اربوں روپے کی اراضیات پر بااثر لینڈ مافیاءکا قبضہ جاری ہے مارکیٹ کمیٹی کے اندر الاٹ شدہ تھڑے قبضہ کرکے غیر قانونی دکانات تعمیر کیے جارہے ہیں اور فی دکان چالیس لاکھ سے لیکر پچاس لاکھ میں فروخت کیے جارہے ہیں جن کی مالیت اربوں روپے بنتی ہے زراعت کالونی کے اندر غیر قانونی قبضہ اور تعمیرات کو روکنے اور گیٹ گرنے پر ڈپٹی کمشنر نصیراباد کا احسن اقدام ہے تاہم ملوث افراد پر ایف آئی ار درج کروائی جائے یہاں جاری کردہ ایک بیان میں میر سکندرعلی خان عمرانی کا کہنا تھا کہ ڈیرہ مراد جمالی میں محکمہ زراعت کی تمام سرکاری اراضیات اور کالونی پر ?ے روز قبضہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے قانونی کی کروڑوں روپے قمیتی پر قبضہ اور غیر قانونی مکانات تعمیر کرنے چاردیوری اور گیٹ لگا کر دیدہ دلیری کے ساتھ غیر قانونی تعمیرات قابل مذمت ہے عام شہری اپنے گھر کی چھت کی لیپائی اور مرمت نہیں کر سکتاہے جبکہ لینڈ مافیاءدن اور رات کے اوقاتکار میں غیر قانونی قبضہ اور تعمیرات کا جاری رکھے ہین انہوں نے کہا کہ مارکیٹ کمیٹی ڈیرہ مراد جمالی میں کئی سالوں سے ریڑھی بان اور تاجران کو تھڑے الاٹ کیے گیے تھے جن پر وہ اپنا کاروبار کر سکیں تاہم چیئرمین مارکیٹ کمیٹی کے ایمائ پر ان تھڑوں پر غیر قانونی قبضہ کرکے مسمار کرکے غیر قانونی دکانات تعمیر کیے جارہے ہین فی دکان چالیس لاکھ سے لیکر پچاس لاکھ روپے میں فروخت کیے جارہے ہیں جن کی مالیت اربوں روپے بنتی ہے اس طرح کی لوٹ مار اور سرکاری اراضیات پر قبضے کرنے اور لینڈ مافیاءکو کھلی چھوٹ سمجھ سے بالاتر ہیں۔
ڈیرہ مراد جمالی ، سرکاری اربوں روپے کی اراضیات پر بااثر لینڈ مافیاءکا قبضہ جاری ہے

Leave a Reply