کالم:قاسم جمال
کراچی شہر آج کل مافیاز کے نرغے میں ہے۔ ہر کوئی راتوں رات امیر بننے کے چکر میں لگا ہوا ہے اور جائز ناجائز ہر حربہ اختیار کیا جارہا ہے۔ اس لوٹ مار کا ایک انتہائی منظم طریقہ وکلا میں موجود کالی بھیڑوں نے اختیار کیا ہے جن کو پولیس میں موجود جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ متعلقہ تھانے کی مکمل سرپرستی اور معاونت حاصل ہوتی ہے۔ اس منظم گروہ کی بڑھتی ہوئی شکایات کا گزشتہ دنوں سندھ ہائی کورٹ کے معزز جج نے بھی سخت نوٹس لیا اور وزیر داخلہ سندھ کو سختی کے ساتھ ہدایت کی کہ وہ کالے کوٹ اور کالی وردی میں چھپے اس گروہ کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ سندھ ہائی کورٹ نے وکلا کے روپ میں مبینہ بلیک میلنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف سخت مو?قف اختیار کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ سندھ کو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کا حکم دے دیا ہے۔
عدالت نے ہدایت کی کہ جے آئی ٹی کی سربراہی ڈی آئی جی عرفان بلوچ یا ڈی آئی جی امیر فاروقی کے سپرد کی جائے، جبکہ ٹیم میں انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) اور پاکستان رینجرز کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے۔ سندھ ہائی کورٹ نے اپنے حکم نامے میں سندھ بار کونسل، پراسیکیوٹر جنرل سندھ اور متعلقہ سیشن ججوں کو بھی جے آئی ٹی کے ساتھ مکمل تعاون کی ہدایت جاری کی ہے۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آئین ِ پاکستان تمام شہریوں کو قانون کے مساوی تحفظ کی ضمانت دیتا ہے اور کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا، خواہ وہ وکیل ہی کیوں نہ ہو۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ بار ایسوسی ایشنیں اور بار کونسلیں قانون شکن وکلا کے خلاف فوری اور مو?ثر کارروائی کریں۔
سندھ ہائی کورٹ نے جے آئی ٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ 30 روز کے اندر اپنی تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں جمع کرائے تاکہ معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسی طرح ایک اور واقعہ کراچی نفسیاتی اور کراچی اربن اسپتال کی انتظامیہ کے ساتھ پیش آیا۔ جس میں وکلا اور پولیس کی ملی بھگت سے اسپتال انتظامیہ کے خلاف جعلی ایف آئی آر کاٹ کر انہیں بلیک میل کیا گیا اور 20 لاکھ روپے رشوت مانگی گئی اور رشوت نہ دینے پر دس لاکھ، پانچ لاکھ، دو لاکھ اور آخری ڈیمانڈ ایک لاکھ تک پہنچ گئی۔ کراچی نفسیاتی اسپتال کے ڈائریکٹر سید صلاح الدین اختر جو کراچی کی معروف سماجی اور انتہائی متحرک شخصیت ہیں۔ انہوں نے بھی سندھ ہائی کورٹ کے جے آئی ٹی فیصلے کا خیرمقدم، شفاف تحقیقات اور ذمے داران پولیس اور وکلا کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام ثبوت اور شواہد متعلقہ تحقیقاتی اداروں اور عدالت کے سامنے پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔ پولیس زیادتی، بھتا خوری، اختیارات کے ناجائز استعمال اور وکلا کے روپ میں بلیک میلنگ کرنے والے کرپٹ مافیا کو ہم بے نقاب کریں گے۔ میرے والد ڈاکٹر سید مبین اختر نے اپنی زندگی کے 55 سال ذہنی امراض میں مبتلا افراد کی خدمت کے لیے وقف کیے، جبکہ ان کے انتقال کے بعد بھی ان کا مشن جاری ہے۔ ہمارا ایک ادارہ گلشن ِ اقبال میں واقع ہے اور اس برانچ میں ایک خاتون کو علاج کے لیے لایا گیا۔ جس کی حالت بہتر ہونے کے بعد وہ گھر واپس چلی گئی۔ دو سے تین گھنٹے بعد ایڈووکیٹ سعید احمد منگلیجو اسپتال پہنچے اور آتے ہی اسپتال کے عملے سے تلخ کلامی اور جھگڑا شروع کر دیا۔ گلشن ِ اقبال تھانے کی پولیس کو بھی سعید احمد منگلیجو نے بلا لیا، جس نے بغیر کسی مکمل تحقیقات کے اسپتال کا ڈی وی آر اپنی تحویل میں لے لیا اور عملے کو گرفتار کر کے تھانے لے گئے۔ محض تیس منٹ کے اندر مقدمہ درج کر لیا گیا ایف آئی آر میں سعید احمد منگلیجو کی مرضی کے مطابق سنگین اور ناقابل ِ ضمانت دفعات شامل کی گئیں۔ اس سلسلے میں نہ کسی کا میڈیکل کرایا گیا، نہ تحقیقاتی افسر نے اسپتال کا معائنہ کیا اور نہ ہی حقائق جاننے کی کوشش کی گئی۔ ایس ایچ او گلشن ِ اقبال اور تفتیشی افسر منظور لاشاری نے ہمارا موقف سنے بغیرکارروائی کی۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام ثبوت موجود ہیں اور وہ یہ شواہد متعلقہ تحقیقاتی اداروں اور عدالت کے سامنے پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔ سندھ ہیلتھ کمیشن کی منظوری کے بغیر ڈاکٹروں کی ایف آئی آر نہیں کاٹی جاسکتی، ڈاکٹروں کے ساتھ پولیس اور وکیل سعید احمد منگلیجو نے ظلم کیا جس کے نتیجے میں ہمارے اسپتال کے ایک ڈاکٹر کو عید جیل میں گزارنا پڑی، حکومت کو اس معاملے کی آزاد، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانی چاہیے۔ سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے وکلا کے روپ میں مبینہ بلیک میلنگ، بھتا خوری اور دیگر غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصرکے خلاف مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کے حکم قانون کی بالادستی اور انصاف کی فراہمی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ ان تمام واقعات کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کے ذریعے حقائق سامنے لائے جائیں تاکہ بے گناہ ڈاکٹر یا پھر کوئی اور شخص متاثر نہ ہوں اور اصل ذمے دار کو قانون کے مطابق سزا مل سکے۔ ڈی جی رینجرز سندھ، آئی جی سندھ، وزیراعلیٰ سندھ، گورنر سندھ، کورکمانڈر کراچی، سندھ بارکونسل اور دیگر متعلقہ حکام خطوط بھی ارسال کیے گئے ہیں کہ اختیارات کے ناجائز استعمال اور پولیس کی زیادتی کی تحقیقات کرائی جائیں، ذمے دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور بے گناہ افراد کو فوری انصاف فراہم کیا جائے۔ بھتا خوری، اختیارات کے ناجائز استعمال یا غیر قانونی کارروائی کو قرار واقعی سزا دی جائے، تاکہ پولیس آئندہ کسی شہری، ڈاکٹر یا کاروباری شخصیت کے ساتھ اس نوعیت کے واقعات پیش نہ آئیں۔
اسی نوعیت کا ایک اور واقعہ کورنگی جے ایریا میں واقع پچاس ساٹھ سال سے رہائشی فیملی کے ساتھ پیش آیا کہ اسی مافیا نے ایک وارثت کے مکان کے جعلی کاغذات بنا کر عدالت سے قبضہ کا آرڈر نکال کر کورنگی تھانے کی موبائل اور وکلا کے ہمراہ اس گھر پر دھاوا بولا اور رہائشیوں کو فوری مکان خالی کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس مکان میں جو فیملی رہائش پذیر ہے اس کے والدین انتقال کر گئے ہیں اور یہ بچے اپنے ماں باپ کے مکان میں رہ رہے ہیں اور اس کا گواہ پورا محلہ ہے۔ وکلا کی وردی میں چھپے اس مافیا نے مکان جو کہ کارنر کا ہے اور اس مکان کی قیمت مارکیٹ میں ایک کروڑ سے زائد ہے۔ وکلا نے پچاس لاکھ میں سودا کیا اور پولیس کی ملی بھگت سے اس مکان پر قبضے کا پروگرام ترتیب دیا۔ پولیس کے ساتھ مکان خالی کروانے پر معمولی مزاحمت پر گھر کی دو نوجوان لڑکیوں کو پولیس گرفتار کر کے لے گئی جبکہ ایک معذور کو بھی شدید دھمکیاں بھی دی گئیں۔
علاقے کے عوام کے شدید احتجاج پر جماعت اسلامی کے مقامی رہنما عثمان جت بلوچ، پبلک ایڈ کمیٹی کے صدر حسیب احمد اور امیر ضلع مرزا فرحان بیگ فوری طور پر متاثرہ فیملی سے ملے اور تھانے عدالت سے رابطہ کیا اور گرفتار خواتین کو ضمانت دلوائی اور وارثت کے مکان کی جعلی فائل بنوانے اور بنانے والوں اور پولیس کی جانب سے اس قبضہ گروپ کا ساتھ دینے کے خلاف قانونی کارروائی کیے جانے کا اعلان کیا۔ اس سلسلے میں آئی جی سندھ، ڈی آئی جی کراچی، ایس ایس پی ایسٹ سے خصوصی ملاقات بھی کی جائے گی۔ پبلک ایڈ کمیٹی کراچی کے صدر اور بلدیہ عظمیٰ کراچی میں قائد حزب اختلاف سیف الدین ایڈووکیٹ نے بھی کراچی میں پبلک پراپرٹی پر ناجائز قبضوں کے خلاف بڑھتے ہوئے واقعات پر سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم کراچی کے عوام کو ان مافیاﺅں سے نجات دلائیں گے اور کراچی کے عوام کو تحفظ فراہم کریں گے، متاثرین کو بھرپور قانونی مدد فراہم کی جائے گی۔ کراچی میں وکلا اور پولیس کی آڑ میں چھپے ان مافیاﺅں کے خلاف سخت کارروائی انتہائی ضروری ہے۔ ان جرائم پیشہ عناصر نے وکلا برادری اور محکمہ پولیس کو بھی بدنام کیا ہے۔ عوام کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمے داری ہے۔ حکومت ان مافیاﺅں کے خلاف آہنی ہاتھ استعمال کرے اور جرائم پیشہ عناصر کو نشان عبرت بنایا جائے۔
کراچی مافیاز کے نرغے میں
adminshuja
اگلی خبر →
تجھے یاد کرے گا زمانہ

Leave a Reply