کالم:میاں منیر احمد
یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی
اسلامی جمعیت طلبہ کے سابق ناظم اعلیٰ‘ جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی سیکرٹری محترم امیر العظیم بھی رخصت ہوگئے۔ طویل علالت کے بعد جناب امیرالعظیم اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوگئے۔ اللہ کا ایک مخلص بندہ اپنے ربّ کی طرف لوٹ گیا‘ ان کے والد محترم جناب فضل عظیم آئی سی آئی کیمیکل فیکٹری میں اعلیٰ عہدے پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ نہایت ہی دیانت دار انسان تھے‘ وہ پنجاب یونیورسٹی میں طلبہ یونین کے صدر بھی رہے۔ وہ ایک ایسے دور میں طلبہ سیاست کا حصہ رہے جب ملک میں طلبہ یونینز پر پابندی بھی لگی اور تعلیمی اداروں میں تشدد کی تحریک بھی اٹھی‘ جس میں درجنوں قیمتی طلبہ کی جانیں گئیں۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے درجنوں کارکن شہید ہوئے‘ امیر العظیم نے لاہور میں ہونے والے ایسے تمام واقعات اور مقدمات کا پیچھا کیا‘ لاہور میں جمعیت کے کارکن نواز خان قتل ہوئے تو انہوں نے نواز کے بدلے نواز شریف کا نعرہ طلبہ کو دیا۔ نواز شریف اس وقت پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے‘ طلبہ کی ایک تنظیم کے براہ راست چیف پیٹرن تھے۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے لیے وہ وقت بہت ہی کڑا امتحان تھا۔مرحوم نے اپنی پوری زندگی اقامت ِ دین، تحریک ِ اسلامی اور دعوتِ حق کی جدوجہد میں بسر کی۔ انہوں نے اپنی زندگی، اپنی صلاحیتیں اور اپنا وقت اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے وقف کیے رکھا۔ ان کی سادگی، اخلاص، استقامت اور تنظیم سے وفاداری ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ وہ نہایت ہی عمدہ انسان تھے، وہ کبھی شہرت کے طالب نہ رہے۔ ہر شخص آپ سے مل کر راحت قلبی اور اطمینان ذہنی محسوس کرتا تھا۔ آپ نے اپنی زبان اور رویے سے کبھی کسی کو تکلیف نہیں پہنچائی‘ بچوں کے پھول میگزین کے سابق مدیر اختر عباس بھی ان کے عزیز ہیں۔ امیر العظیم واقعی وقت کے ولی تھے جن کی منزل خدا کی رضا ہوتی ہے اسی سوچ کے پیش نظر وہ دنیا والوں کی منشائ سے بے پروا ہوکر منزل کی طرف گامزن رہتے ہیں‘ انہوں نے بے مثال زندگی گزاری۔ تمام مکاتب فکر کے لوگ، علمائ اور عام افراد ان کا یکساں احترام کرتے تھے۔ انہوں نے کبھی کسی کی دل آزاری نہیں کی، اپنی زندگی بھی نہایت مطمئن اور مثالی گزاری ہے۔ ہم ان کی زندگی کی اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ وہ صوم و صلو? ہی نہیں‘ بھلائی و نیکی اور لوگوں کے حقوق کو جاننے اور پہچاننے والے رحم دل‘ سخی اور لوگوں سے محبت کرنے والی ایسی شخصیت تھے کہ ہر شخص کو ان سے محبت تھی ایسا شخص اللہ کے ہاں ضرور مقبول ہوگا۔ ایک اتنا شریف انسان کہ سب لوگوں کے لیے بھی اور خاص طور پر اپنے خاندان والوں کے لیے مہربان‘ حقیقت میں وہ ایک مثال تھے‘ وہ اب ہم میں نہیں رہے‘ ہم مگر سوائے صبر اور رضا بالقضا کے آگے کر بھی کیا سکتے ہیں خدا تعالی انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام دے‘ ان کی قبر مبارک کو نور قرآن سے منور فرماکر ان کے درجات بلند فرمائے۔ عظمتوں والا ربّ اپنی شان کے مطابق آپ کی مہمان نوازی فرمائے۔ آمین‘ سیئات سے درگزر فرمائے اور آگے آنے والے مراحل میں آسانیاں عطاءفرمائے آمین ‘ اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی حسنات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، لغزشوں سے درگزر فرمائے، درجاتِ عالیہ بلند فرمائے، پسماندگان، رفقاءاور پوری تحریک کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ان کی وفات پر یہی کہنا مناسب ہوگا کہ اللہ کا ایک مخلص بندہ اپنے ربّ کی طرف لوٹ گیا۔ انہوں نے اپنی زندگی، اپنی صلاحیتیں اور اپنا وقت اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے وقف کیے رکھا۔ ان کی سادگی، اخلاص، استقامت اور جماعت سے وفاداری ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ سراپا تحریک قیم جماعت امیر العظیم صاحب اپنی نذر پوری کر گئے۔ جسم و جان کی قوت نے جہاں تک ساتھ دیا اقامت دین کی جدوجہد پر ثابت قدم رہے۔ اے ربّ کریم ان بے شمار گواہیوں کو ان کے حق میں قبول فرما اور ان کو اپنے دامن رحمت میں سمیٹ لے۔ ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے، تمام منازلِ آخرت کو آسان فرمائے۔
تجھے یاد کرے گا زمانہ
adminshuja
← پچھلی خبر
کراچی مافیاز کے نرغے میں

Leave a Reply