کالم:پروفیسر شاداب احمد صدیقی
کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج بھارت کی جین زی نسل کی تعلیمی شفافیت اور جمہوری اقدار کے لیے جدوجہد قابل مثال ہے۔ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، جہاں انتخابات، آئینی ادارے اور شہری حقوق جمہوری نظام کے بنیادی ستون سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم گزشتہ برسوں میں انسانی حقوق، اظہارِ رائے کی آزادی، اقلیتوں کے حقوق اور شہری آزادیوں کے حوالے سے مختلف حلقوں کی جانب سے خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک مضبوط جمہوریت کا معیار صرف انتخابات نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کے بنیادی حقوق، اختلافِ رائے اور پرامن احتجاج کے حق کا کس حد تک تحفظ کرتی ہے۔ اسی پس منظر میں بھارت میں نوجوانوں کی ایک نئی تحریک کا ظہور ہوا، جسے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے نام سے جانا جا رہا ہے۔ اس تحریک نے خاص طور پر تعلیمی نظام میں شفافیت، امتحانی اصلاحات اور حکومتی جواب دہی کے مطالبات کو نمایاں کیا۔
کاکروچ جنتا پارٹی کا بنیادی مسئلہ نیٹ (NEET-UG) امتحان سے متعلق بے ضابطگیوں کا معاملہ ہے۔ بھارت میں میڈیکل داخلوں کے لیے ہونے والا یہ قومی سطح کا امتحان لاکھوں طلبہ کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ امتحانی نظام پر سوالات اٹھنے کے بعد طلبہ اور نوجوانوں کے ایک حلقے نے مطالبہ کیا کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمے دار افراد کا تعین کیا جائے۔ تحریک کے کارکنوں کا مو?قف ہے کہ جب لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل متاثر ہو تو حکومت کو اخلاقی اور انتظامی ذمے داری قبول کرنی چاہیے۔ اس احتجاج کی خاص بات بھارت کی جین زی نسل کی بڑی تعداد میں شرکت ہے۔ یہ وہ نوجوان نسل ہے جو سوشل میڈیا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور نئی ابلاغی ٹیکنالوجی کے ذریعے سیاسی اور سماجی معاملات پر اپنی آواز بلند کر رہی ہے۔ ماضی میں جہاں نوجوان سیاسی سرگرمیوں سے نسبتاً دور سمجھے جاتے تھے، وہیں اب تعلیم، روزگار، شفافیت اور مستقبل کے مسائل پر کھل کر رائے دے رہے ہیں۔ ان کے احتجاج نے یہ واضح کیا کہ نئی نسل صرف روزگار یا تعلیم کے مواقع نہیں بلکہ نظام میں انصاف، شفافیت اور جواب دہی بھی چاہتی ہے۔ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ مقابلے کے اس دور میں اگر امتحانی نظام پر اعتماد ختم ہو جائے تو اس کا اثر پورے معاشرے پر پڑتا ہے۔ اس تحریک کو اس وقت مزید توجہ ملی جب معروف ماہر ِ تعلیم، انجینئر اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچوک نے طلبہ کے مطالبات کی حمایت کی۔ وانگچوک لداخ میں تعلیمی اصلاحات، ماحول دوست ٹیکنالوجی اور آئس اسٹوپا منصوبے کے باعث عالمی شہرت رکھتے ہیں۔ انہیں 2018 میں رامون میگ سیسے ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔ ان کی حمایت نے احتجاج کو ایک اخلاقی اور سماجی اہمیت دی۔
سونم وانگچوک کی حمایت نے یہ پیغام دیا کہ طلبہ کے مسائل صرف امتحانات تک محدود نہیں بلکہ یہ پورے تعلیمی نظام، نوجوانوں کے مستقبل اور ریاستی ذمے داریوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ بھارت میں نوجوانوں کی اس تحریک نے ایک اور اہم سوال کو بھی سامنے رکھا ہے کہ جمہوری معاشروں میں احتجاج کے حق سے ریاست کس طرح نمٹتی ہے۔ عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیمیں ہمیشہ اس بات پر زور دیتی رہی ہیں کہ پرامن احتجاج شہریوں کا بنیادی حق ہے اور ریاستی اداروں کو طاقت کے استعمال میں ضرورت اور تناسب کے اصولوں کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہروں کے دوران پولیس اقدامات، احتجاجی راستوں پر پابندیوں اور مظاہرین کے ساتھ برتاو? پر سیاسی حلقوں اور سماجی کارکنوں کی جانب سے سوالات اٹھائے گئے۔ سوشل میڈیا نے نئی نسل کو اظہار کا ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا ہے جہاں وہ اپنی رائے فوری طور پر لاکھوں لوگوں تک پہنچا سکتی ہے۔ تاہم کسی بھی نوجوان تحریک کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ جذبات کے ساتھ ساتھ واضح پالیسی مطالبات، تنظیمی صلاحیت اور پرامن جدوجہد کو برقرار رکھتی ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ بھارت سمیت دنیا بھر میں نوجوان نسل اب صرف روایتی سیاسی نعروں سے متاثر نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنے مستقبل سے متعلق عملی سوالات کے جواب چاہتی ہے۔ جین زی نوجوانوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر کوئی مسئلہ ان کے مستقبل سے جڑا ہو تو وہ سڑکوں، سوشل میڈیا اور عوامی مباحث میں اپنی آواز بلند کر سکتے ہیں۔ یہ تحریک حکومت کے لیے بھی ایک یاد دہانی ہے کہ نوجوانوں کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے شفاف نظام، منصفانہ مواقع اور جواب دہ حکمرانی ضروری ہے۔ جمہوریت کی اصل طاقت صرف اقتدار کی منتقلی نہیں بلکہ شہریوں کی آواز سننے اور اختلافِ رائے کو برداشت کرنے میں ہوتی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج مستقبل میں کس سمت جاتا ہے، یہ وقت بتائے گا، لیکن اس تحریک نے ایک حقیقت واضح کر دی ہے کہ
بھارت کی جین زی نسل اپنے مستقبل، تعلیم اور حقوق کے معاملات پر خاموش رہنے کے لیے تیار نہیں۔ یہ نوجوان سیاست کے بدلتے ہوئے انداز کی علامت ہے، جہاں نئی نسل اپنے سوالات کے جواب اور اپنے حق کے لیے جمہوری طریقوں سے جدوجہد کرنا چاہتی ہے۔ احتجاج کے باضابطہ اختتام اور حکومت کی جانب سے بظاہر مطالبات تسلیم کیے جانے کے باوجود متعدد مسلمان نوجوانوں کے خلاف کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔ اسی سلسلے میں پیشے کے لحاظ سے محمد جنید جن کی دہلی میں موبائل شاپ ہے، کا معاملہ بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ محمد جنید نے کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے دوران دن رات مظاہرین کے درمیان رہ کر ہندو، مسلم، سکھ اور دیگر تمام شرکا کو بلاامتیاز اپنی خدمات فراہم کیں۔ انہوں نے مسلسل چار وقت کھانے کا انتظام کیا اور ہزاروں مظاہرین کی خدمت میں مصروف رہے، جس کے باعث وہ سوشل میڈیا پر بھی نمایاں طور پر مقبول ہوئے۔ تاہم احتجاج کے بعد محمد جنید نے اپنے انسٹاگرام بیان میں دعویٰ کیا کہ انہیں ذہنی طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے، جبکہ ان کے والدین، بہن، بہنوئی اور بہن کے سسر کو بھی پولیس نے حراست میں لیا۔ ان کے مطابق ان کا واحد ”قصور“ یہ ہے کہ وہ ایک مسلمان ہیں اور انہوں نے ہندو مسلم یکجہتی اور بھائی چارے کے جذبے کے تحت مظاہرین کی خدمت کی۔ پولیس نے محمد جنید کو بھی گرفتار اور ذہنی ٹارچر کیا۔ ایک ویڈیو میں یہ روتے ہوئے نظر آئے ان کے مطابق انہیں تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہ صرف بنیادی انسانی حقوق بلکہ مذہبی آزادی، مساوات اور قانون کی حکمرانی کے حوالے سے بھی سنگین سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور انصاف پسند حلقوں کو چاہیے کہ وہ بھارت کے مسلمانوں کی مدد کریں اور ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔
سی جے پی: احتجاج کے بعد مسلمانوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں
adminshuja
← پچھلی خبر
کالم نگار کا خواب

Leave a Reply