کالم:عبید مغل
سن ۱۹۸۵، جنوبی افریقا۔ نیلسن منڈیلا کو قید ہوئے دو دہائیوں سے زیادہ گزر چکے تھے۔ جوانی جیل کھا چکی تھی، بالوں میں سفیدی ا±تر چکی تھی کہ ایک دن آزادی نے دروازے پر دستک دی۔ حکومت کا پیغام تھا: شرط مانو، جیل سے نکل سکتے ہو۔ تصور کریں کہ! بیس برس سے زیادہ قید کاٹنے والے شخص کے سامنے کھلا آسمان، گھر اور خاندان ہو تو دل کس قدر بے قرار ہوا ہوگا؟ مگر منڈیلا نے مشروط رہائی قبول کرنے سے انکار کردیا۔ کیوں؟ کیونکہ اسے اپنی رہائی سے پہلے اپنی قوم یاد آگئی۔ اس کا سوال اپنی ذات سے بڑا تھا: میں تو آزاد ہوجاو?ں، میرے لوگوں کی زنجیریں کون کھولے گا؟ آنہیں کب آزادی ملے گی۔ یہ کسی عام سیاسی قیدی کا جواب نہیں تھا، یہ ایک لیڈر کا جواب تھا۔ اب ہم آتے ہیں اڈیالہ جیل، پاکستان۔ یہاں بھی ایک مقبول لیڈر قید ہے، جسے قید ہوئے ابھی صرف تین سال ہوئے ہیں۔ لاکھوں چاہنے والے ہیں، کارکن سڑکوں پر نکلتے اور گرفتاریاں دیتے ہیں۔ مگر ”رہائی“ پی ٹی آئی کی موجودہ سیاسی لغت کا سب سے طاقتور لفظ بنتا چلا گیا ہے۔جی ہاں! عمران خان کی رہائی۔ خان کے لیے احتجاج، خان کے لیے مارچ، خان کے لیے تحریک، خان کے لیے اسلام آباد اور خان کے لیے ”Final Call”۔ اگر عمران خان کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو ان کے کارکنوں کو احتجاج اور قانونی جدوجہد کا پورا حق ہے۔ مگر سوال ان کی رہائی کا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ عمران خان کی سیاست میں عمران خان سے بڑا بھی کوئی مسئلہ باقی ہے؟ پاکستان کا عام آدمی بھی قید ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ اس کی جیل اڈیالہ نہیں۔ کسی کی زنجیر بجلی کا بل ہے، کسی کی ہتھکڑی گیس کا بل، کسی کے پاو?ں میں پٹرول کی قیمتوں کی بیڑی ہے اور کسی کی تنخواہ آٹے، دودھ اور بچوں کی فیس کے درمیان لٹکی ہوئی ہے۔ ایک باپ رات کو سر پکڑ کر سوچتا ہے کہ بجلی کا بل دوں یا بچوں کا راشن لاو?ں؟ یہ بھی قید ہے خان صاحب! صرف اس قیدی کے باہر کیمرے نہیں لگے، اس کے لیے ٹرینڈ نہیں چلتا اور اس کی رہائی کے لیے کوئی Final Call نہیں آتی۔ تاریخ کا طالب علم اس مقام پر سوچتا ہے موازنہ کرتا ہے کہ قید میں رہتے ہوئے نگاہ اپنی زنجیروں پر تھی یا قوم کی زنجیروں پر؟ منڈیلا کے سامنے اپنی رہائی آئی تو اسے قوم یاد آئی مگر ہمارے عمران خان کی رہائی کے لیے قوم کو بار بار پکارا جاتا ہے۔
ہم یہ نہیں کہتے کہ عمران خان نے مہنگائی پر کبھی بات نہیں کی۔ انہوں نے کی، بجلی کے بلوں پر بھی بولے اور بعض احتجاجوں میں معاشی مطالبات بھی شامل ہوئے۔ مگر تاریخ بیانات نہیں، ترجیحات گنتی ہے۔ اگر خان کے لیے کارکن اسلام آباد پہنچ سکتا ہے تو کارکن کے بجلی کے بل کے لیے کیوں نہیں؟ خان کے لیے مارچ ہوسکتا ہے تو پٹرول کے لیے کیوں نہیں؟ اور اب ذرا خیبر پختون خوا کا کھاتا بھی کھولیے۔ 2013ئ سے، مختصر سیاسی وقفوں کو چھوڑ کر، تحریک ِ انصاف وہاں غالب حکمران سیاسی قوت ہے۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ کوئی معمولی مدت نہیں۔ اتنے وقت میں ایک بچہ اسکول سے یونیورسٹی پہنچ جاتا ہے۔ مگر اتنے طویل اقتدار کے بعد بھی صوبے کے قرض، گورننس اور بڑے مالی اسکینڈلز سے متعلق سوالات موجود ہیں۔ اپر کوہستان جیسے معاملات میں اربوں روپے کی مبینہ خوردبرد کی تحقیقات سامنے آچکی ہیں۔ عمران خان نے اپنی سیاست کی عمارت کرپشن کے خلاف کھڑی کی تھی۔ تو خان صاحب! احتساب کی جھاڑو دوسروں کے صحن کے لیے ہے یا کبھی اپنے گھر میں بھی پھرے گی؟ ہم مانتے ہیں کہ الزام جرم ثابت نہیں کرتا۔ یہ اصول عمران خان، ان کے ساتھیوں اور ان کے مخالفین سب کے لیے یکساں ہے۔ مگر جس شخص نے پوری قوم کو احتساب کا سبق پڑھایا ہو، تاریخ اس سے زیادہ سخت سوال ضرور پوچھتی ہے۔ایک وقت تھا جب عمران خان کے پاس تاریخ ساز لیڈر بننے کا موقع تھا۔ نوجوان ان کے پیچھے آئے، روایتی سیاست سے بیزار لوگوں نے ان میں امید دیکھی۔ مگر آہستہ آہستہ سیاست سمٹتی گئی: نظریے سے جماعت تک، جماعت سے شخصیت تک، اور شخصیت سے صرف عمران خان تک۔ اور اب ذرا عددی اعتبار سے ایک نسبتاً چھوٹی جماعت کی طرف دیکھیے، جماعت ِ اسلامی۔ پی ٹی آئی کے بہت سے کارکن شاید کہیں: اس کے ووٹ کتنے ہیں؟ نشستیں کتنی ہیں؟ جلسوں میں لوگ کتنے ہیں؟ مان لیا، پی ٹی آئی ووٹ، مقبولیت اور سوشل میڈیا میں کہیں بڑی ہوسکتی ہے۔ مگر جب بجلی کے بل نے عام آدمی کی کمر توڑی تو جماعت ِ اسلامی دھرنا لے کر نکلی اور لمحہ موجود میں بھی سڑکوں پر ہے۔ اس کے دھرنے کے مرکز میں کسی قید لیڈر کی رہائی نہیں ہے، وہاں عام آدمی کا بجلی کا بل ہے۔ یہیں سیاست کا ترازو پلٹ جاتا ہے۔ ایک طرف سوال ہے: ہمارا لیڈر کب رہا ہوگا؟ دوسری طرف سوال ہے: عوام کا بجلی کا بل کب کم ہوگا؟ فیصلہ کارکن خود کرے کہ ان دونوں میں قوم کا سوال کون سا ہے؟ ممکن ہے جماعت ِ اسلامی تعداد میں پی ٹی آئی سے چھوٹی ہو، مگر تاریخ کا حساب الیکشن کمیشن کے کیلکولیٹر سے نہیں ہوتا۔ تاریخ سر نہیں گنتی، کردار کا قد ناپتی ہے۔ منڈیلا کے پاس جیل میں سوشل میڈیا، لاکھوں followers یا hashtags نہیں تھے۔ اس کے پاس صرف ایک چیز تھی: اپنی ذات سے بڑا مقصد۔ اسی لیے جیل منڈیلا کو چھوٹا نہ کرسکی؛ منڈیلا جیل سے بڑا ہوگیا۔ عمران خان بھی تاریخ ساز لیڈر بن سکتے تھے اور شاید تاریخ نے ابھی ان کے نام کے آگے آخری سطر نہیں لکھی۔ مگر اس کے لیے صرف اڈیالہ کا دروازہ کھلنا کافی نہیں، انہیں اپنی ذات کے گرد کھڑی سیاسی دیوار بھی توڑنا ہوگی۔
پی ٹی آئی کے کارکن سے کوئی یہ نہیں کہتا کہ اپنے لیڈر کی رہائی نہ مانگو، ضرور مانگو۔ مگر اپنی قیادت سے اگلی فائنل کال پر اپنے لیڈر سے ایک سوال ضرور پوچھ لینا: خان صاحب! آپ کی آزادی کے لیے ہم نکل پڑے ہیں ہمارے بچوں کی روٹی کے لیے آپ کب نکلیں گے؟ منڈیلا کے سامنے سوال تھا: میں یا میری قوم؟ اس نے قوم کو چ?ن لیا۔ اسی لیے تاریخ آج بھی اسے منڈیلا کہتی ہے۔ کیونکہ تاریخ یہ نہیں پوچھتی کہ تمہارے پیچھے کتنے لوگ کھڑے تھے، تاریخ پوچھتی ہے: تم کتنے لوگوں کے لیے کھڑے تھے؟ ہجوم وقت کے ساتھ بکھر جاتے ہیں، کردار کے قدموں کے نشان تاریخ میں باقی رہتے ہیں۔
منڈیلا نے قوم کو چنا، عمران خان نے کیا چنا؟
adminshuja
← پچھلی خبر
معاشرہ بے حِس کیوں ہے؟

Leave a Reply