رکن صوبائی اسمبلی اور امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے گوادر پریس کلب میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پورے صوبے اور ملک میں گزشتہ کئی مہینوں سے نئے صوبے بنانے یا بعض علاقوں کو وفاق کے زیرِ انتظام دینے کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ سوشل میڈیا، مختلف سرکاری اجلاسوں اور دیگر پلیٹ فارمز پر بھی اس حوالے سے گفتگو ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بطور عوامی نمائندہ ہم ان تمام باتوں اور تحریروں کو سن اور پڑھ رہے ہیں، اسی لیے آج یہ نیوز کانفرنس کرنا ضروری سمجھا۔ ان تبصروں اور خبروں میں گوادر کا نام بھی آ رہا ہے کہ اسے وفاق کے زیرِ انتظام کرنے کا کوئی منصوبہ زیرِ غور ہے۔ شاید کئی حلقوں میں اس پر مشاورت یا تذکرہ ہو رہا ہو، یا اسٹیبلشمنٹ اپنے لوگوں کے ذریعے یہ بات میڈیا میں اچھال رہی ہو تاکہ عوام کا ردِعمل اور رائے جاننے کی کوشش کی جا سکے۔ مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بدقسمتی سے آج پورے ملک میں بظاہر پارلیمنٹ اور اسمبلیاں موجود ہیں، لوگ کہتے ہیں کہ ”آئی بہار ہے“، لیکن درحقیقت یہ بدترین آمریت کا دور ہے۔
adminshuja
← پچھلی خبر
منڈیلا نے قوم کو چنا، عمران خان نے کیا چنا؟

Leave a Reply