Daily Shujaat Quetta
June 19, 2026
🌤 Quetta,pk --°
تازہ خبریں
ایپل کے چیف ایگزیکٹو کا آئی فونز کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہکیا اسمارٹ فون کو چارجنگ کے دوران استعمال کرنے سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے؟میٹا نے فیس بک میں بہت بڑی تبدیلیاں کر دیںجی میل میں اے آئی سمریز کا فیچر دنیا بھر کے صارفین کیلئے متعارفگوگل ارتھ کی خفیہ فلائٹ سمولیٹر گیم اب تمام صارفین کو مفت دستیابانسٹا گرام میں اب ہر فوٹو یا ویڈیو پوسٹ میں کیپشن تحریر کرنا ممکنپسنی کے قریب فجیرہ سے آنے والے آئل ٹینکر میں کریو کے رہائشی حصے میں لگنے والی آگ بجھا دی گئیالیکشن کمیشن نےگلگت بلتستان انتخابات کےسرکاری نتائج کا اعلان کردیاپیٹرول پر فی لیٹر لیوی 40 روپے 49 پیسے کم کردی گئی، ذرائع پیٹرولیم ڈویژنکیا آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے کسی بیماری کا نتیجہ ہوسکتے ہیں؟ایپل کے چیف ایگزیکٹو کا آئی فونز کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہکیا اسمارٹ فون کو چارجنگ کے دوران استعمال کرنے سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے؟میٹا نے فیس بک میں بہت بڑی تبدیلیاں کر دیںجی میل میں اے آئی سمریز کا فیچر دنیا بھر کے صارفین کیلئے متعارفگوگل ارتھ کی خفیہ فلائٹ سمولیٹر گیم اب تمام صارفین کو مفت دستیابانسٹا گرام میں اب ہر فوٹو یا ویڈیو پوسٹ میں کیپشن تحریر کرنا ممکنپسنی کے قریب فجیرہ سے آنے والے آئل ٹینکر میں کریو کے رہائشی حصے میں لگنے والی آگ بجھا دی گئیالیکشن کمیشن نےگلگت بلتستان انتخابات کےسرکاری نتائج کا اعلان کردیاپیٹرول پر فی لیٹر لیوی 40 روپے 49 پیسے کم کردی گئی، ذرائع پیٹرولیم ڈویژنکیا آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے کسی بیماری کا نتیجہ ہوسکتے ہیں؟

پاکستان کے حکمران اور آزادی صحافت

کالم:شاہنواز فاروقی
3 مئی کو پوری دنیا میں صحافت کا عالمی دن منایا گیا۔ اس موقع پر پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ”فرمایا“ ملک میں احتساب اور شفافیت کے لیے آزادی صحافت ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں سچائی کے بغیر امن ممکن نہیں۔ انہوں نے کہ آئین کا آرٹیکل 19 ملک میں آزادی صحافت ضمانت فراہم کرتا ہے۔
قائداعظم نے کہا تھا کہ قوم اور صحافت کا عروج و زوال ایک ساتھ ہوتا ہے۔ جب صحافت عروج پر جاتی ہے تو قوم بھی عروج پر جاتی ہے اور جب صحافت کا زوال ہوتا ہے تو قوم بھی زوال سے نہیں بچ پاتی۔ لیکن پاکستان کے فوجی اور سول حکمران جھوٹوں کے سردار ہیں۔ چنانچہ انہیں کبھی صحافت کی آزادی ایک آنکھ نہیں بھائی۔ اس کا ایک ثبوت پاکستان میں اخبارات و جرائد پر نازل ہونے والا حکمرانوں کا عتاب ہے۔
”قیام پاکستان کے بعد صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ عبدالقیوم خان نے سرخ پوش رہنما غفار خان کے جریدے پختون کا ڈیکلریشن کینسل کر کے غفار خان کو گرفتار کرلیا۔ 1948ءمیں پنجاب حکومت نے تین رسالے نقوش، سویرا اور عدد لطیف کو بند کردیا۔ اسی سال کوئٹہ سے ہفت روزہ خورشید اور الاسلام کے ڈیکلریشن کینسل کرکے ایڈیٹر فضل احمد کو گرفتار کرلیا گیا۔ سبی کے صحافی ملک رمضان کو گرفتار کرکے ان کا رسالہ الحق بند کردیا گیا۔ 1948ءمیں ہی امروز میں ایک خبر چھاپنے کے الزام میں فیض احمد فیض کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے۔ اسی سال میر حسن نظامی کا ہفت روزہ بولان بند ہوا۔ 1949ءمیں سندھ حکومت نے صوبے کی حدود میں ڈان کی تقسیم و فروخت ممنوع قرار دے دی۔ 1950ءمیں استقلال کوئٹہ بند کرکے عبدالصمد خان درانی کو گرفتار کرلیا گیا۔ 1951ءمیں مخدوم زادہ حسن محمود نے اپنی وزارت پر تنقید کرنے والے بہاولپور کے دو اخبارات ستلج اور انصاف کے ڈیکلریشن منسوخ کردیے اور ایڈیٹر علی احمد رفعت اور حیات ترین کو گرفتار کرلیا۔ 1952ئ میں ڈھاکا کے انگریزی اخبار ابزرور کا ڈیکلریشن کینسل اور ایڈیٹر کے ساتھ پرنٹر، پبلشر کو گرفتار کرلیا گیا۔
9 جون 1952ءکو آغا شورش کشمیری کے ہفت روزہ چٹان کو بند کیا گیا۔ 1954ءمیں ہلال پاکستان، 1953ءمیں ڈان، نوائے وطن، نوائے مسلم، مسلمان وغیرہ پر پابندیاں عائد ہوئیں۔ قیام پاکستان کے ابتدائی 11 سال صحافت پر عذاب کی طرح گزرے، اس کے بعد ایوب خان نے 8 اکتوبر 1958ءکو مارشل لا نافذ کردیا، پاکستان ٹائمز، امروز اور لیل و نہار کے ایڈیٹر فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی اور سید سبط حسن کو گرفتار کرکے سی کلاس جیل میں ڈال دیا گیا۔ فوجی عدالت نے کائنات بہاولپور کے مدیر ولی اللہ احد اور رپورٹر کو گرفتار کرکے 15 ماہ قید بامشقت کی سزا دی۔ 1963ئ میں کوہستان کا ڈیکلریشن منسوخ کرکے مدیر نسیم حجازی کو گرفتار کرلیا گیا۔ ایوب خان کے بعد یحییٰ خان کا دور بھی صحافیوں کے لیے بہتر ثابت نہ ہوا، مشرقی پاکستان میں 26 مارچ 1971ءکو اتفاق ڈھاکا بند کیا گیا“۔ذوالفقار علی بھٹو کا دور بھی صحافت کے لیے خوفناک تھا۔ روزنامہ جسارت 1977ءمیں حزب اختلاف کا واحد اخبار تھا اور اس کی سرکولیشن 75 ہزار سے زیادہ تھی۔ لیکن بھٹو سے جسارت کی آزادی بھی برداشت نہ ہوئی۔ انہوں نے پہلے جسارت کے مدیر محمد صلاح الدین اور ناشر ذاکر صاحب کو پابند سلاسل کیا، لیکن جسارت اس کے باوجود کلمہ حق بلند کرتا رہا۔ چنانچہ بھٹو نے بالآخر جسارت ہی بند کردیا۔ جسارت کے بند ہونے کے بعد کسی صحافی نے جماعت اسلامی کے رہنما پروفیسر غفور سے پوچھا کہ جسارت کب نکلے گا؟ پروفیسر غفور نے کہا کہ بھٹو اور جسارت ایک ساتھ نکلیں گے۔ حیرت انگیز طور پر یہی ہوا بھی۔ ادھر بھٹو کی حکومت گئی اور ادھر جسارت کی اشاعت شروع ہوئی۔
جنرل ضیا الحق کا دور بھی صحافت کے لیے آمرانہ تھا۔ جنرل ضیا الحق نے 1978ءمیں الفتح کا ڈیکلریشن منسوخ کیا۔ ایم آر ڈی کی تحریک کے دوران سندھی اخبار مہران کی زباں بندی کی گئی۔ 10 جنوری 1985ءکو پیپلز پارٹی کے ترجمان اخبار مساوات کا پرنٹنگ پریس نیلام کردیا گیا۔ فیض احمد فیض کی نظم ”محنت کش“ شائع کرنے پر ہفت روزہ عوامی جمہوریت کو نوٹس بھیجا گیا۔ ضیا الحق کے دور میں بلوچستان کے دو اخبارات قاصد اور اعتماد کے ڈیکلریشن منسوخ کیے گئے۔ 13 مئی 1978ءآزادی صحافت کے لیے بدترین دن تھا۔ اس روز فوجی عدالتوں نے چار صحافیوں کو کوڑے لگانے کا حکم دیا۔ ان میں مسعود اللہ خان، اقبال احمد جعفری، قادر نعیم اور نثار زیدی شامل تھے۔ جنگ کے عبدالحمید چھاپڑ کو 6 ماہ قید بامشقت، مساوات کے سید محمد صوفی اور جنگ کے خواجہ نثار کو 6 ماہ بامشقت قید کی سزا سنائی گئی۔ بے نظیر بھٹو آزادی صحافت کی علمبردار تھیں مگر ان کے دور حکومت میں سندھ حکومت نے کراچی کے 6 اخبارات کی اشاعت منسوخ کی۔
سندھ کے شہری علاقوں میں الطاف حسین اور ایم کیو ایم کا عروج ذرائع ابلاغ کے لیے بدترین دور تھا۔ اس 30 سالہ دور میں کراچی کے اندر بدترین تشدد ہوا جس میں ڈی جی رینجرز محمد سعید کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق 92 ہزار افراد مارے گئے۔ یہ ہلاکتوں کی اتنی بڑی تعداد ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ ہندوستان اور پاکستان کی چار جنگوں میں بھی ہلاک نہیں ہوئے۔ اس کے باوجود ملک کے 99.99 اخبارات، رسائل میں الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے خلاف ایک لفظ بھی شائع نہ ہوسکا۔ روزنامہ جسارت واحد اخبار تھا جو الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے خلاف خبریں اور کالم شائع کرتا تھا۔ ایم کیو ایم والے آئے دن جسارت کو بم سے ا±ڑ دینے کی دھمکی دیتے تھے مگر جسارت اپنے مورچے پر ڈٹا رہا۔ ہم نے 1990ءمیں جسارت میں کالم لکھنا شروع کیا۔ ممتاز شاعر نقاد دانش ور اور سلیم احمد کے دوست جمال پانی پتی کے گھر جسارت نہیں آتا تھا مگر ہمارے کالموں کی اشاعت کے بعد ان کے گھر جسارت آنے لگا۔ دو ہفتے بعد اچانک جمال پانی پتی ہانپتے کانپتے ہمارے گھر آئے۔ کہنے لگے کہ تمہارے پاس موضوعات کی کوئی کمی نہیں۔ چنانچہ تم اگر الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے خلاف نہ لکھو تو تمہارا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ ہم نے کہا کہ آپ ٹھیک کہتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ ہم پھر اپنے ضمیر کو کیسے مطمئن کریں گے؟ اس زمانے میں ڈیلی ڈان اور روزنامہ جنگ نے ایک آدھ خبر ایم کیو ایم کے خلاف شائع کردی۔ چنانچہ الطاف حسین نے کراچی اور حیدر آباد میں ڈان اور جنگ کی تقسیم ناممکن بنادی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں اخبارات کے مالکان الطاف حسین کے در پر جھکے ہوئے نظر آئے۔ اس زمانے میں الطاف حسین اور ایم کیو ایم کا ایسا خوف تھا کہ کراچی کیا لاہور کے صحافی بھی الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے خلاف ایک لفظ نہیں لکھتے تھے۔ اس زمانے میں ہم ایک بار لاہور گئے تو ہماری ملاقات ممتاز صحافی اور کالم نگار ارشاد احمد حقانی سے ہوئی۔ ہمارے دوست اور فرائیڈے اسپیشل کے مدیر یحییٰ بن زکریا صدیقی نے حقانی صاحب سے کہا کہ آپ سب کے خلاف لکھتے ہیں مگر الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے خلاف کچھ نہیں لکھتے۔ کراچی سے ایک ہزار کلو میٹر دور ہونے کے باوجود حقانی صاحب نے فرمایا بھائی میں نے سنا ہے کہ الطاف حسین اپنے خلاف لکھنے والوں کو مروا دیتا ہے۔ الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے خوف کا عالم ذرائع ابلاغ ہی پر طاری نہیں تھا۔ سرکاری ذرائع ابلاغ بھی ان کے خوف سے تھر تھر کانپتے تھے۔ اس زمانے میں ہم پی ٹی وی نیوز میں بھی کام کرتے تھے۔ ایک دن ایم کیو ایم کے لوگ رات سوا آٹھ بجے الطاف حسین کے ایک جلسے کی خبر لے کر آئے اور فرمائش کی کہ اسے 9 بجے کے خبرنامے میں نشر کردیا جائے۔ پی ٹی وی کے سینئر نیوز ایڈیٹر راجپوت صاحب نے فوراً اسلام آباد فون کیا اور ڈائریکٹر نیوز کو صورت حال سے آگاہ کیا۔ ڈائریکٹر نیوز نے کہا آج اس خبر کو چلانا ممکن نہیں۔ خبروں کا آرڈر تیار ہوچکا ہے۔ چنانچہ آپ ایم کیو ایم کے لوگوں سے کہیں کہ یہ خبر کل چل جائے گی۔ راجپوت صاحب نے یہ بات ایم کیو ایم کے لوگوں کو بتائی۔ انہوںنے نائن زیرو پر موجود عظیم احمد طارق کو صورت حال سے آگاہ کیا۔ عظیم احمد طارق نے کہا خبر تو آج ہی چلے گی۔
ورنہ ہمیں معلوم ہے کہ راجپوت صاحب کہاں رہتے ہیں۔ یہ سنتے ہی راجپوت صاحب کے ہاتھ پاﺅں پھول گئے اور انہوں اپنی نوکری کو داﺅ پر لگا کر الطاف حسین کی وہ خبر اسی دن کے خبرنامے میں نشر کی۔
پاکستان میں صرف جرنیلوں اور ان کے پیدا کردہ سیاستدانوں ہی نے نہیں خود صحافیوں نے بھی آزادی صحافت کے خلاف سازشیں کی ہیں۔ ملک کے معروف صحافی الطاف حسن قریشی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ٹاﺅٹ تھے۔ چنانچہ 1971ئ کے بحران میں جب مشرقی پاکستان میں فوج کے خلاف نفرت اور بغاوت کا طوفان برپا تھا الطاف حسن قریشی نے اردو ڈائجسٹ میں لکھا کہ مشرقی پاکستان میں فوج کے لیے محبت کا زمزمہ بہہ رہا ہے۔ محمد صلاح الدین جب تک روزنامہ جسارت کے ایڈیٹر تھے وہ ہر طرح کی آمریت کے خلاف ایک تلوار تھے مگر پھر وہ جنرل ضیا الحق کے رابطے میں آگئے اور جسارت سے علٰیحدگی کے بعد انہوں نے ہفت روزہ تکبیر نکال لیا۔ اس زمانے میں انہوں نے ایک ماہنامے کو انٹرویو دیا۔ اس انٹرویو میں ان سے سوال پوچھا گیا کہ آپ کے بارے میں مشہور ہے کہ آپ آئی ایس آئی کی فراہم کردہ رپورٹیں شائع کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں صلاح الدین صاحب نے کہا کہ مجھے ملک کی تمام خفیہ ایجنسیاں رپورٹ کرتی ہیں۔ چنانچہ میرے پاس آئی ایس آئی سے بھی زیادہ معلومات ہوتی ہیں۔ اسی زمانے میں ہم نے اپنے کالم میں محمد صلاح الدین سے سوال کیا کہ ملک کے تمام خفیہ ادارے آپ کو کس حیثیت سے معلومات فراہم کرتے ہیں؟ ہمیں صحافت میں آئے برسوں ہوگئے۔ ہمیں تو کوئی ادارہ معلومات فراہم نہیں کرتا۔ یہ واقعہ ہمیں جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے خود سنایا۔ انہوں نے بتایا کہ جب نواز شریف پہلی بار ملک کے وزیراعظم بنے تو میں نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو نمایاں کرنے کے لیے ملک کے ممتاز صحافیوں سے کام لیں۔ نواز شریف نے اس حوالے سے نام مانگا تو قاضی صاحب نے مجیب الرحمن شامی کا نام لیا۔ ان کا نام سن کر نواز شریف کہنے لگے کہ شامی کا نام نہ لیں اس کا حال یہ ہے کہ اسے پیسے ملنے میں دیر ہوجاتی ہے تو وہ فون کرکرکے میرا جینا حرام کردیتا ہے۔ اور اس بات کا اعتراف ہم سے خود ایک معروف صحافی نے کیا کہ میری پوری زندگی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی چاکری میں بسر ہوگئی۔ ہم نے یہ بات اپنے دو تین دوستوں کو بتائی تو ایک ہفتے بعد مذکورہ صحافی سے ہماری ملاقات ہوگئی۔ کہنے لگے۔
”وہ بات صرف آپ کے سامنے اعتراف کے طور پر کہی گئی تھی“۔
اس وقت ہم فیلڈ مارشل عاصم منیر کے عہد میں سانس لے رہے ہیں۔ ذرائع ابلاغ پر ان کے کنٹرول کا یہ عالم ہے کہ ذرائع ابلاغ عمران خان کی کوئی خبر شائع یا نشر کرتے ہیں تو ان کا نام تک نہیں لیتے۔ انہیں ”بانی“ کے طور پر رپورٹ کرتے ہیں۔ خبر تو پاکستان میں 70 سال سے ایڈٹ ہورہی ہے، اب نام بھی ایڈٹ ہونے لگا۔ واہ کیا آزادی? صحافت ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

adminshuja

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *