کالم:شاہنواز فاروقی
مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے خدا کی مرضی اور اس کی عطا سے ہوتا ہے۔ انسان ”کامیاب“ ہوتا ہے تو خدا کی عنایت سے۔ ”ناکام“ ہوتا ہے تو خدا کی مرضی سے۔ چنانچہ مسلمان اپنی ہر چیز کو خدا سے منسلک کرتا ہے۔ رسول اکرم کے زمانہ مبارک میں صحابہ اپنی ہر خوبی کو رسول اکرم سے منسوب کرتے تھے۔ تابعین اپنی اہلیت و صلاحیت کو صحابہ کی تربیت کا حاصل سمجھتے تھے۔ تبع تابعین کا خیال تھا کہ وہ جو کچھ ہیں تابعین کی وجہ سے ہیں۔ مسلمانوں کو رہ رہ کر خیال آتا ہے ان کا سارا حسن و جمال ان کے دین کی وجہ سے ہے۔ مسلمانوں کو اپنی تہذیب سے بھی عشق رہا ہے اور وہ خود کو اسلامی تہذیب کا حاصل سمجھتے رہے ہیں۔ مسلمانوں کی تاریخ بھی انہیں مرعوب کرتی ہے اور ان سے کوئی اچھا کام ہوجاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے جو سیکھا ہے اپنی تاریخ سے سیکھا ہے۔ لیکن پاکستان کے فوجی اور سول حکمرانوں کا معاملہ اس کے برعکس یہ ہے کہ انہیں اپنی ذات کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ چنانچہ جنرل ایوب ہندوستان کو فتح کیے بغیر فیلڈ مارشل بن گئے تھے۔ بھٹو صاحب خود کو ”قائد ایشیا“ اور ”قائد عوام“ سمجھتے تھے۔ جنرل ضیا الحق کا خیال تھا کہ وہ ”مردِ مومن، مردِ حق“ ہیں۔ مئی 2025ءکی چار روزہ جنگ میں پاکستان نے بھارت کو شکست سے دوچار کیا تو جنرل عاصم منیر نے خود کو ”فیلڈ مارشل“ بنا ڈالا۔ ہمارا خیال تھا کہ مئی 2025ءکی جنگ کو مئی 2026ءمیں ایک سال ہوگا تو پاکستان کا حکمران طبقہ ہوش کے ناخن لے گا اور وہ پاکستان کی بھارت پر فتح کو خدا سے منسوب کرکے کہے گا جو ہوا وہ صرف اور صرف خدا کی عنایت تھی۔ اس کی مہربانی تھی۔ اس کی عطا تھی۔ ورنہ ہماری فوج تو وہ ہے جس نے 1971ئ میں بھارت کے سامنے ہتھیار ڈال کر آدھا پاکستان بھارت کے حوالے کردیا تھا۔ اس لیے کہ اس وقت خدا ہمارے ساتھ نہیں تھا۔ ہم بنگالیوں پر 24 سال سے ظلم کررہے تھے۔ چنانچہ خدا ہم سے ناراض تھا۔ لیکن مئی 2025ءمیں جنرل عاسم منیر نے بھارت کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے اس کے مقابلے کا فیصلہ کیا تو خدا اس بات پر خوش ہوا اور اس نے پاکستان سے کئی گنا بڑی قوت کو منہ کے بل گرا دیا۔ اس طرح کہ امریکا کا بدنام زمانہ صدر ٹرمپ ایک سال سے پوری دنیا کے سامنے بھارت کو ذلیل کررہا ہے۔ اس تناظر میں مئی 2026ءپاکستان کے ہاتھوں بھارت کی شکست کی پہلی سالگرہ کا موقع تھا اور ہمارا خیال تھا کہ اب جنرل عاصم منیر اور شہباز شریف ہی نہیں پورا حکمران طبقہ اس حقیقت کا کھل کر اعتراف کرے گا کہ بھارت کے خلاف ہماری ساری کامیابی خدا کی عنایت، اس کے کرم اور اس کی مہربانی کا حاصل تھی مگر جو کچھ ہوا وہ ہمارے سامنے ہے۔ اس بات کو ایک فقرے میں بیان کرنا ہو تو کہا جائے گا کہ اس موقعے پر ”ہم“ حاضر اور خدا ”غیر حاضر“ پایا گیا۔
اس کا ناقابل تردید ثبوت یہ ہے کہ اس موقعے پر قومی اخبارات میں آدھے آدھے صفحے کے اشتہارات شائع کرائے گئے۔ مگر ان اشتہارات میں پاکستان کی فتح کو خدا سے منسوب کرنے کے بجائے قومی رہنماﺅں سے منسوب کیا گیا۔ حکو مت پاکستان کی جانب سے شائع ہونے والے ایک نصف صفحے کے اشتہار کے دو جملے ہیں۔
ہم سے قائم وطن کی ناموس
ہم ہیں بنیان مرصوص
ان فقروں کے ساتھ جنرل عاصم منیر اور پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے سربراہوں کی بڑی بڑی تصاویر شائع کی گئی ہیں۔ ان تصویروں کے دائیں اور بائیں جانب آصف علی زرداری اور شہباز شریف اور قائداعظم اور اقبال کی چھوٹی چھوٹی تصاویر شائع کی گئی ہیں۔ ایک نصف صفحے کا اشتہار داﺅد یونیورسٹی کی جانب سے بھی اخبارات میں شائع ہوا ہے۔ اس اشتہار میں بھی صرف فوج کے ترانے گائے گئے ہیں۔ اشتہار دینے والے کو یاد ہی نہیں آیا کہ وہ خدا کا بھی شکر ادا کرلے۔ روزنامہ دنیا میں ملک کی 7 بڑی شخصیات کے طویل پیغامات شائع ہوئے ہیں۔ صدر مملکت آصف علی زرداری کا پیغام 83 سطور پر مشتمل ہے مگر انہیں بھارت پر پاکستان کی فتح کے حوالے سے نہ خدا یاد آیا نہ سیرت طیبہ کا فیضان یاد آیا۔ نہ انہیں یہ فتح اسلامی تہذیب اور تاریخ کا حاصل نظر آئی۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحق ڈار کا پیغام 77 سطور پر مشتمل ہے۔ اسحق ڈار کو بھی پاکستان کی فتح کے حوالے سے خدا کی عنایت خاص یاد نہ آئی۔ انہیں یاد آیا تو فوج کی جرآت، قومی اتحاد اور حکمرانوں کا عزم۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کا پیغام 52 سطور پر مشتمل ہے۔ انہیں بھی اس طویل پیغام میں کہیں خدا کی مہربانی یاد نہیں آئی۔ انہیں کہیں اسلام کی برکت کا خیال نہ آیا۔ انہیں کہیں اسلامی تہذیب اور تاریخ کی برتری کو آواز دینے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔ انہوں نے خراج تحسین پیش کیا تو صرف ”مسلح افواج“ کو۔ پاک فضائیہ کے سربراہ ظہیر احمد کا پیغام 41 سطور پر پھیلا ہوا ہے۔ انہیں بھی یاد نہ آیا کہ وہ کہیں کے ہماری فتح خدا کی عنایت اور اسلام کی شوکت کا حاصل ہے۔ انہیں یاد آئی تو پاک فوج کی ”پیشہ ورانہ مہارت“۔ جنرل عاصم کا پیغام 68 سطور پر مشتمل ہے۔ جنرل عاصم منیر کی مذہبیت کا بڑا شہرہ ہے۔ خیر سے وہ ”سید“ بھی ہیں اور ”حافظ“ قرآن بھی۔ اصولی اعتبار سے ان کی تمام 68 سطور کو خدا، رسول، اسلام، اسلامی تہذیب اور اسلامی تاریخ کی عظمت سے منسلک ہونا چاہیے تھا مگر انہوں نے پیغام میں صرف ”اللہ کی نصرت“ کا ذکر کیا اور آگے بڑھ گئے۔ انہیں یاد آئی تو مسلح افواج کا کارکردگی اور قوم کا اعتماد، حالانکہ یہ تمام چیزیں بھی اللہ ہی کی مہربانی کا عکس ہیں۔ بحریہ کے سربراہ کا بیان 84 سطور پر مشتمل ہے مگر انہوں نے بھی صرف ایک سطر میں فتح پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ہے۔ باقی پیغام میں انہوں نے بھی بحریہ اور دیگر فوجیوں کے گن گائے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کا بیان 72 سطور پر مشتمل ہے۔ طویل پیغام میں انہوں نے صرف ایک سطر خدا کے شکر کے لیے وقف کی ہے۔ باقی پیغام میں انہوں نے جنرل عاصم منیر، مسلح افواج کی کارکردگی ”غیرت مند قوم“ کے ترانے گائے ہیں۔ اسی لیے ہم نے عرض کیا ہے کہ معرکہ حق کی پہلی سالگرہ کے ذکر خیر میں جنرل عاصم منیر بھی موجود ہیں۔ مسلح افواج بھی موجود ہیں۔ قوم بھی حاضر ہے۔ البتہ اس ذکر میں خدا کہیں موجود نہیں اور موجود بھی ہے تو برائے نام۔
اسلامی تاریخ کا پورا سفر ہمارے سامنے ہے۔ اس تاریخ میں کیسے کیسے جلیل القدر لوگ موجود ہیں۔ سیدنا عمر فاروقؓ سے زیادہ جلیل القدر کون ہوگا جن کے بارے میں رسول اکرم نے فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتے۔ سیدنا عمرؓ نے وقت کی دو سپر پاور قیصر و کسریٰ کو منہ کے بل گرایا مگر انہوں نے کبھی خود کو فاتح قیصر و کسریٰ نہیں کہلوایا۔ سیدنا عمرؓ کے زمانے میں اسلامی فوج کے سپہ سالار خالد بن ولیدؓ تھے۔ وہ جس جنگ میں جاتے فتح یاب ہو کر لوٹتے۔ چنانچہ لوگوں میں مشہور ہوگیا کہ مسلمانوں کی فتوحات خالد بن ولید کی قیادت کا نتیجہ ہیں۔ یہ دیکھتے ہوئے سیدنا عمرؓ نے بیک جنبش قلم سیدنا خالد بن ولیدؓ کو ان کے عہدے سے برخواست کردیا۔ لوگوں نے اعتراض کیا کہ اس سے فوج میں بددلی پھیلے گی۔ سیدنا عمرؓ نے کہا لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ مسلمانوں کی فتوحات خالدؓکی وجہ سے نہیں اسلام کی برکت کی وجہ سے ہیں۔ یہاں یہ حال ہے کہ جنرل عاصم منیر نے بھارت کے ساتھ صرف چار روزہ جنگ میں کامیابی حاصل کی تو خود کو فیلڈ مارشل بنوالیا اور اب انہیں ایک سال بعد فتح کی سالگرہ منانے کا خیال آیا ہے تو وہ خدا کو دو الفاظ میں ٹرخا رہے ہیں۔ ارے بھائی اس سلسلے میں مسلمانوں کی کیا غیر مسلموں کی بھی بڑی اچھی مثال موجود ہے۔ بھارت نے 1971ءمیں جس وقت پاکستان توڑا اس وقت بھارتی فوج کی قیادت جنرل مانک شا کے ہاتھ میں تھی۔ اس نے پاکستان توڑ کر ایک بہت ہی بڑا کارنامہ انجام دیا تھا مگر بھارتی حکومت نے انہیں فوراً ہی فیلڈ مارشل نہیں بنایا۔ انہیں تقریباً دو سال کے بعد فیلڈ مارشل بنایا گیا۔ مگر جنرل عاصم منیر نے صرف چار روزہ جنگ کی فتح کے بعد ہی خود کو فیلڈ مارشل بنوالیا۔ ارے بھائی یہ ایک اچھی مگر چھوٹی سی فتح تھی۔
آپ بھارت توڑ کر خود کو فیلڈ مارشل بنواتے تو اچھا لگتا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ بھارت ہمارا ازلی و ابدی دشمن ہے۔ وہ آج نہیں تو کل ہماری طرف پھر جارحیت اچھالے گا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اگر خدا ہمارے حکمرانوں کی بے توفیقی سے ناراض ہوگیا تو ہمارا کوئی پرسان حال نہیں ہوگا۔ چنانچہ بہتر ہوگا کہ جنرل عاصم منیر خدا کو خوش کرنے کے لیے فیلڈ مارشل کا عہدہ فوری طور پر چھوڑ کر پاکستان کی فتح کو 100 فی صدی خدا سے منسوب کردیں اور معرکہ حق کی دوسری سالگرہ آئے تو پوری فوج کیا پوری قوم سے شکرانے کے دو نفل ادا کروائیں۔ اس کے بغیر خدا کے شکر کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔
”ہم“ حاضر ”خدا“ غیر حاضر
adminshuja
← پچھلی خبر
مہنگے پٹرول کا چکر

Leave a Reply