کالم:عارف بہار
کشمیر میں بدترین کریک ڈاون کی زد میں آئی ہوئی پرامن سیاسی مزاحمت کی کمزور ہوتی علامت میرواعظ عمر فاروق اور کشمیر میں بھارتی دھارے کی سیاست کے سب سے قد آور سیاست دان ڈاکٹر فاروق عبداللہ ایک کتاب کی تقریب رونمائی کے موقع پر ایک ہی چھت تلے بیٹھے نظر آئے تو اچانک یہ سوالات آٹھنا شروع ہوئے کیا کشمیر کی بحران زدہ سیاست کوئی نئی کروٹ لے رہی ہے؟ کیا کشمیر کی مزاحمتی سیاست اپنا خیمہ سمیٹنے اور دکان بڑھانے کی راہ پر گامزن ہے؟۔ یہ نوے کی دہائی کے آغاز میں کشمیر میں شروع ہونے والی مسلح جدوجہد کے ابتدائی مرحلے میں ہی کشمیر سے نکل جانے والے پنڈت نیورولوجسٹ ڈاکٹر سشیل رازدان پر ان کے بیٹے سچن رازدان کی لکھی ہوئی کتاب Healer in Exile ”مسیحا جلاوطنی میں“ کی تقریب رونمائی تھی۔ جس میں کشمیر کی سیاسی اور سماجی زندگی سے تعلق رکھنے والے اہم نام شریک تھے۔ انہی شرکائ میں میرواعظ عمر فاروق چند نشستوں کے فاصلے پر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے ساتھ نظر آئے۔ دونوں نے کتاب اور ڈاکٹر سشیل رازدان کے حوالے سے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ میرواعظ عمر فاروق کی گفتگو سے اندازہ ہورہا تھا کہ ان کے بھی ڈاکٹر رازدان کے ساتھ گزرے ماہ وسال میں اچھے مراسم رہے ہیں۔ کتاب کے مندرجات پوری طرح سامنے نہیں آئے مگر تقریب میں ہونے والی تقریروں سے اندازہ ہورہا تھا کہ یہ اس دور کے واقعات اور حالات پر مبنی ہے جب کشمیری پنڈت وادی سے بھگائے جا رہے تھے اور انہیں بھگانے والا کوئی اور نہیں سخت گیر ہندو گورنر جگ موہن تھا۔ پنڈتوں کا موقف رہا ہے کہ انہیں مسلح تنظیموں نے نہ صرف یہ کہ دھمکا کر وادی سے نکلنے پر مجبور کیا بلکہ کئی پنڈتوں کومخبر قرار دے کر قتل کرنا شروع کیا انہی میں محمد مقبول بٹ کو سزائے موت سنانے والے جج نیل کنٹھ گنجو بھی شامل تھے۔یہ بات درست ہے کہ جب کشمیر میں مسلح تنظیموں کا ایک سیلاب سا آرہا تھا اور وہ بھارتی ریاست کا کنٹرول ختم کرکے متوازی نظام تشکیل دے رہے تھے تو بلاتخصیص مذہب لاشیں درختوں سے لٹکی ہوئی ملتی تھیں جن کے ساتھ اس عبارت پر مشتمل ایک پرچی چسپاں ہوتی تھی ”مخبری کا انجام“۔ اس کی اصل زد سب سے بڑی کمیونٹی یعنی مسلمانوں پر پڑ رہی تھی اور وہ خود اپنے ہم مذہب لوگوں کا نشانہ بن رہے تھے۔ گیہوں کے ساتھ گھن پسنے کے مصداق اس کی زد پنڈت اور سکھوں پر بھی پڑتی تھی بلکہ مسلمانوں پر دوہری زد یوں پڑتی تھی کہ ایک طرف عسکری تنظیمیں انہیں مخبر قرار دے کر مار رہی تھیں تو دوسری طرف بھارتی فوج عسکریت پسندوں کے ساتھ تعاون کے نام پر لاتعداد مسلمانوں کو اغوا گرفتار اور قتل کر رہی تھی۔ اسی معاملے میں اس وقت کے گورنر جگ موہن کی ایک میٹنگ کی کارروائی لیک ہوئی تھی جس میں جگ موہن کا کہنا تھا کہ پنڈتوں کو کشمیر سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کرنا چاہیے میں مسلمانوں پر قیامت برپا کرنے والا ہوں۔ اس وقت کشمیر کی گھنی آبادی والی بستیوں پر بمباری کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے تھے۔ یوں یہ کہا جا رہا ہے کہ پنڈتوں کو ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت وادی سے نکالا گیا اور کسی حد یہ بات درست ثابت ہوئی اور جگ موہن اور اس کے بعد آنے والوں نے کشمیری مسلمانوں پر واقعی قیامت برپا کر دی۔ اس کے بعد سے کشمیری لاشیں گنتے اور آٹھاتے ہی چلے گئے۔ اب بھارت کا پورا نظام کشمیری پنڈتوں کو تنازعِ کشمیر اور حالات کا واحد مظلوم بنا کر پیش کرتا ہے۔ بالی ووڈ میں اسی حوالے سے فلمیں بنائی جا رہی ہیں۔ ڈاکیو مینٹریز بنائی جاتی ہیں جس میں مسلم کمیونٹی کو خود ظالم یا ظالم کا مدد وآلہ کار ثابت کیا جاتا اور ہند وکمیونٹی کو حالات کا تنہا مظلوم اور شکار قرار دیا جاتا ہے۔متذکرہ کتاب میں یہی رونا دھونا لگا ہوگا۔ دلچسپ بات یہ کہ جب اس کتاب کی تقریب رونمائی کے موقع پر کشمیر کی تاریخ کے ایک ہنگامہ خیز دور کو یاد کیا جا رہا تھا تو اس سے دو دن پہلے وادی میں ہی ایک تصویر بن کر پوری دنیا کے ضمیر کو جھنجوڑ رہی تھی۔ یہ دریائے نیلم یا کشن گنگا کے دائیں بائیں بٹے ہوئے خوبصورت سیاحتی قصبے کیرن سے سامنے آنے والی تصویر تھی۔ اس تصویر کی بنیاد بھی نوے کی یہی تحریک اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات تھے۔ جہاں ایک طرف وادی کے مختلف علاقوں سے رات کی تاریکی میں پنڈت جموں کی طرف بھاگ رہے تھے وہیں وادی کے طول وعرض سے کنٹرول لائن کے مختلف مقامات اور سیکٹرز سے بیس سے تیس سال کے نوجوان حالات سے تنگ آکر آزادکشمیر کا ر±خ کررہے تھے۔ اسی طرح کیرن جیسے قصبوں سے دن کی روشنی میں ہزاروں افراد دریائے نیلم کے کنارے کنارے سے اپنا ضروری سامان آٹھائے آزادکشمیر کی حدود میں داخل ہو رہے تھے۔ بھارتی فوج اس انخلا کی بھی حوصلہ افزائی کر رہی تھی۔ اوپر فوجی چوکیاں تھیں اور نیچے سے لوگ دن دیہاڑے کنٹرول لائن عبور کر رہے تھے۔ ظاہر ہے بھارتی فوج کو اس پر کیا اعتراض ہوتا کہ کشمیر کشمیری مسلمانوں سے خالی ہو رہا تھا۔ اسی تقسیم کے نتیجے میں راجا لیاقت مقبوضہ علاقے میں رہ گئے اور ان کا پورا خاندان آزادکشمیر آکر آباد ہوگیا۔ راجا لیاقت کے جنازے کے موقع پر دریا کے دوسرے کنارے پر ان کے عزیز واقارب کی بے بسی کی تصویر یہ کہانی سنارہی تھی کہ تنازع کشمیر کی آگ میں صرف کشمیری پنڈت ہی نہیں جل رہے بلکہ مسلمانوں نے ان سے کہیں زیادہ دکھ جھیلے ہیں۔
کتاب کی تقریب رونمائی میں آزادی پسند اور بھارت نواز راہنماو?ں کی موجودگی کا جو بھی مطلب ہو مگر یہ حقیقت ہے کہ آج کشمیر کے حالات میں مایوسی بھر گئی ہے۔ آزادی پسندوں کی اسپیس ختم ہو گئی ہے۔ میرواعظ گزشتہ دہائیوں کی سیاست میں مزاحمت کا وہ آخری کردار ہیں جو اس وقت جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہیں مگر وہ مکمل آزاد بھی نہیں۔ جامع مسجد کا منبر ان سے چھنتے چھنتے رہ گیا ہے۔ انجمن نصرت الاسلام کا وسیع نیٹ ورک بھی اسی انجام کا شکار ہونے سے بچ گیا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان ابھی کوئی باضابطہ پیس پروسیس شروع نہیں ہوا۔ نہ کوئی عالمی طاقت کشمیر میں رعایتوں کے لیے بھارت پر دباو? بڑھائے ہوئے ہے۔ ایسے میں میرواعظ عمر فاروق کو اپنی اسپیس خود بڑھانا ہے۔ وہ کئی فورموں پر کئی اجنبی چہروں کے ساتھ نظر آسکتے ہیں اور یہ مناظر بہت سوں کو کبیدہ خاطر کر سکتے ہیں۔ اس کے باوجود میرواعظ عمر فاروق پر غداری کا لیبل چسپاں نہیں ہونا چاہیے۔ یا تو کوئی طاقت یا سفارت کاری کے ذریعے انہیں اسپیس حاصل کر کے دے بصورت دیگر قصہ? زمین برسرِ زمین کے مصداق انہیں اپنی دنیا آپ پیدا کرنے پر کسی فتوے اور لیبل کا شکار کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔
کشمیر!! ایک تصویر جس سے بدمزہ ہونے کی ضرورت نہیں
adminshuja
اگلی خبر →
مہنگائی کے دور میں تعلیم کا چراغ “
← پچھلی خبر
”ہم“ حاضر ”خدا“ غیر حاضر

Leave a Reply