Daily Shujaat Quetta
June 25, 2026
🌤 Quetta,pk --°
تازہ خبریں
ایپل کے چیف ایگزیکٹو کا آئی فونز کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہکیا اسمارٹ فون کو چارجنگ کے دوران استعمال کرنے سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے؟میٹا نے فیس بک میں بہت بڑی تبدیلیاں کر دیںجی میل میں اے آئی سمریز کا فیچر دنیا بھر کے صارفین کیلئے متعارفگوگل ارتھ کی خفیہ فلائٹ سمولیٹر گیم اب تمام صارفین کو مفت دستیابانسٹا گرام میں اب ہر فوٹو یا ویڈیو پوسٹ میں کیپشن تحریر کرنا ممکنپسنی کے قریب فجیرہ سے آنے والے آئل ٹینکر میں کریو کے رہائشی حصے میں لگنے والی آگ بجھا دی گئیالیکشن کمیشن نےگلگت بلتستان انتخابات کےسرکاری نتائج کا اعلان کردیاپیٹرول پر فی لیٹر لیوی 40 روپے 49 پیسے کم کردی گئی، ذرائع پیٹرولیم ڈویژنکیا آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے کسی بیماری کا نتیجہ ہوسکتے ہیں؟ایپل کے چیف ایگزیکٹو کا آئی فونز کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہکیا اسمارٹ فون کو چارجنگ کے دوران استعمال کرنے سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے؟میٹا نے فیس بک میں بہت بڑی تبدیلیاں کر دیںجی میل میں اے آئی سمریز کا فیچر دنیا بھر کے صارفین کیلئے متعارفگوگل ارتھ کی خفیہ فلائٹ سمولیٹر گیم اب تمام صارفین کو مفت دستیابانسٹا گرام میں اب ہر فوٹو یا ویڈیو پوسٹ میں کیپشن تحریر کرنا ممکنپسنی کے قریب فجیرہ سے آنے والے آئل ٹینکر میں کریو کے رہائشی حصے میں لگنے والی آگ بجھا دی گئیالیکشن کمیشن نےگلگت بلتستان انتخابات کےسرکاری نتائج کا اعلان کردیاپیٹرول پر فی لیٹر لیوی 40 روپے 49 پیسے کم کردی گئی، ذرائع پیٹرولیم ڈویژنکیا آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے کسی بیماری کا نتیجہ ہوسکتے ہیں؟

مہنگائی کے دور میں تعلیم کا چراغ “

کالم:میر بابر مشتاق

مہنگائی کے اس کڑے اور بے رحم دور میں جہاں زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنا ہی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، وہاں تعلیم جیسے مقدس فریضے کو جاری رکھنا ایک کڑی آزمائش بن گیا ہے۔ روزمرہ اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، بے روزگاری، اور محدود آمدن نے والدین کے لیے اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دلوانا ایک مشکل ترین ذمے داری بنا دیا ہے۔ اب تعلیم صرف ایک خواہش نہیں رہی بلکہ ایک مسلسل جدوجہد کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ ایسے مایوس کن حالات میں اگر کوئی تحریک امید کا چراغ روشن کرے، تو وہ محض ایک اقدام نہیں بلکہ ایک نعمت بن جاتی ہے۔ کراچی جیسے عظیم مگر مسائل سے دوچار شہر میں جماعتِ اسلامی کی ”پڑھو پڑھاو“ تحریک اسی امید کا روشن استعارہ بن کر ابھری ہے۔ یہ تحریک محض تعلیمی سہولت فراہم کرنے تک محدود نہیں بلکہ ایک فکری، سماجی اور اخلاقی بیداری کی علامت ہے، جس کا مقصد علم کو ہر فرد تک پہنچانا اور تعلیم کو طبقاتی تقسیم سے آزاد کرنا ہے۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ آج کا دور علم، ہنر اور شعور کا دور ہے۔ ترقی یافتہ قوموں کی کامیابی کا راز ان کی تعلیمی پالیسیوں اور علم دوستی میں پوشیدہ ہے۔ اس کے برعکس، ہمارے معاشرے میں مہنگائی، وسائل کی کمی اور عدم مساوات نے تعلیم کو مشکل تر بنا دیا ہے۔ ہزاروں بچے صرف اس لیے تعلیم سے محروم ہو جاتے ہیں کہ ان کے والدین فیس، کتابیں اور دیگر اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔
کراچی کے پسماندہ علاقوں لیاری، اورنگی، کورنگی، نیو کراچی، لانڈھی اور بن قاسم میں یہ صورتحال مزید سنگین ہے، جہاں تعلیم کا خواب اکثر غربت کی دھند میں گم ہو جاتا ہے۔ ”پڑھو پڑھاو“ تحریک انہی خوابوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ یہ ان بچوں کو امید دیتی ہے، ان کے دلوں میں خود اعتمادی جگاتی ہے، اور انہیں یہ احساس دلاتی ہے کہ وہ بھی اس معا شر ے کا اہم حصہ ہیں۔ اسی تسلسل میں ”بنو قابل پروگرام“ ایک انقلابی قدم کے طور پر سامنے آیا ہے، جس کے ذریعے نوجوانوں کو مفت اور معیاری کورسز فراہم کیے جا رہے ہیں۔ یہ پروگرام صرف رسمی تعلیم تک محدود نہیں بلکہ عملی مہارتوں پر زور دیتا ہے، جیسے آئی ٹی، فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور جدید تکنیکی ہنر۔ اس کے ذریعے نوجوانوں کو نہ صرف سیکھنے کے مواقع مل رہے ہیں بلکہ وہ خود کفالت کی راہ پر بھی گامزن ہو رہے ہیں۔ ”بنو قابل پروگرام“ درحقیقت نوجوانوں کو صرف تعلیم نہیں بلکہ ایک نئی پہچان دے رہا ہے۔ یہ انہیں معاشی طور پر مضبوط بنا رہا ہے، ان کے اندر اعتماد پیدا کر رہا ہے، اور انہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل بنا رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے، یہ اقدام نہایت بروقت اور دور اندیشی پر مبنی ہے۔ اسی طرح جماعتِ اسلامی نے تعلیم کے میدان میں ایک اور تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے ”تعلیم کارڈ“ متعارف کروایا ہے، جس کا آغاز مئی 2026ءمیں کراچی کے گلبرگ ٹاون سے کیا گیا۔ یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا مقامی تعلیمی کارڈ ہے، جس کا مقصد مستحق طلبہ کی مالی معاونت اور والدین کے تعلیمی بوجھ کو کم کرنا ہے۔
اس کارڈ کے تحت تیسری سے آٹھویں جماعت تک کے طلبہ کو دس ہزار روپے تک کی مالی مدد فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ اپنی بنیادی تعلیمی ضروریات پوری کر سکیں۔ یہ رقم کتابیں، یونیفارم، اسٹیشنر ی، بیگ اور جوتے خریدنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں جب والدین کے لیے بچوں کی اسکول فیس کے ساتھ اضافی تعلیمی اخراجات برداشت کرنا بھی دشوار ہو چکا ہے، یہ اقدام ایک حقیقی ریلیف کی حیثیت رکھتا ہے۔ گلبرگ ٹاون کو یہ اعزاز حاصل ہوا ہے کہ وہاں اس تعلیمی کارڈ کا آغاز کیا گیا، جو دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت خدمت کی ہو تو اقتدار کے بغیر بھی عوامی فلاح کے بڑے کام کیے جا سکتے ہیں۔ جماعتِ اسلامی کی جانب سے یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ تعلیم صرف حکومتوں کی ذمے داری نہیں بلکہ معاشرے کی اجتماعی ذمے داری بھی ہے۔ ”پڑھو پڑھاو“ تحریک کا سب سے خوبصورت پہلو اس کا اجتماعی شعور ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ مشکل حالات میں ایک دوسرے کا سہارا بننا ہی اصل انسانیت ہے۔ یہ صرف حکومت یا ادارو ں کی ذمے داری نہیں کہ وہ تعلیم فراہم کریں، بلکہ ہر فرد کا فرض ہے کہ وہ علم کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرے۔ اسی تناظر میں ایک نہایت اہم اور قابلِ تقلید اقدام کتابوں کی فراہمی کا ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں بہت سے والدین کے لیے نئی کتابیں خریدنا ایک بڑا بوجھ بن چکا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے اپیل کی گئی ہے کہ وہ طلبہ جو اپنی کلاسیں مکمل کر چکے ہیں، اپنی استعمال شدہ کتابیں ”پڑھو پڑھاو?“ مراکز میں جمع کروائیں تاکہ یہ کتابیں ضرورت مند طلبہ تک پہنچائی جا سکیں۔
یہ ایک سادہ مگر نہایت موثر قدم ہے۔ ایک طالب علم کی پرانی کتاب کسی دوسرے کے لیے علم کا دروازہ کھول سکتی ہے۔ یہ صرف کتابوں کا تبادلہ نہیں بلکہ احساس، ہمدردی اور اجتماعی ذمے داری کا عملی مظاہرہ ہے۔ اگر اس روایت کو فروغ دیا جائے تو یہ ایک خاموش تعلیمی انقلاب بن سکتا ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ اس تحریک کو محض ایک جماعت یا تنظیم تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے ایک عوامی تحریک بنایا جائے۔ تاجر، اساتذہ، مخیر حضرات، تعلیمی ادارے اور عام شہری سب کو اس کارِ خیر میں شامل ہونا ہوگا۔ اگر ہر صاحبِ استطاعت فرد صرف ایک بچے کی تعلیم کی ذمے داری لے لے تو معاشرے میں کوئی بچہ بھی تعلیم سے محروم نہیں رہے گا۔ ”پڑھو پڑھاو“ ہمیں اپنی روشن روایات کی یاد بھی دلاتی ہے، جب علم کو صدقہ جاریہ سمجھا جاتا تھا، جب اساتذہ علم کو عبادت سمجھ کر بانٹتے تھے، اور جب تعلیم کو دنیاوی نہیں بلکہ دینی فریضہ تصور کیا جاتا تھا۔ آج اگر ہم اسی جذبے کو دوبارہ زندہ کر سکیں تو ہمارے بہت سے مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں۔ یہ تحریک صرف تعلیمی نہیں بلکہ ایک سماجی و اخلاقی اصلاح کی تحریک بھی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ نوجوان نہ صرف اپنے خاندان کی تقدیر بدلتا ہے بلکہ پورے معاشرے کی سمت درست کرتا ہے۔ تعلیم شعور دیتی ہے، شعور ذمے داری پیدا کرتا ہے، اور ذمے داری ایک بہتر معاشرہ تشکیل دیتی ہے۔ اگر ہم واقعی ایک بہتر پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں صرف سڑکیں اور عمارتیں نہیں بلکہ انسان بنانے ہوں گے اور انسان علم سے بنتا ہے۔ ”پڑھو پڑھاو?“ اسی تعمیرِ انسان کا سفر ہے۔ یہ تحریک ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اندھیروں کو کوسنے کے بجائے ایک چراغ جلانا زیادہ ضروری ہے۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب اس کارواں کا حصہ بنیں۔ اپنے حصے کا چراغ جلائیں، کسی بچے کی تعلیم کا سہارا بنیں، اپنی پرانی کتابیں عطیہ کریں، اور اس پیغام کو عام کریں۔ کیونکہ قوموں کی تقدیر بند کمروں میں نہیں بلکہ علم کے چراغ جلانے سے بدلتی ہے۔ مختصر یہ کہ ”پڑھو پڑھاو“ صرف تعلیم نہیں دے رہی یہ مستقبل بنا رہی ہے، امید جگا رہی ہے، اور ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھ رہی ہے جہاں علم سب کے لیے ہو اور روشنی ہر گھر تک پہنچے۔ن کے دلوں میں خود اعتمادی جگاتی ہے، اور انہیں یہ احساس دلاتی ہے کہ وہ بھی اس معا شر ے کا اہم حصہ ہیں۔ اسی تسلسل میں ”بنو قابل پروگرام“ ایک انقلابی قدم کے طور پر سامنے آیا ہے، جس کے ذریعے نوجوانوں کو مفت اور معیاری کورسز فراہم کیے جا رہے ہیں۔ یہ پروگرام صرف رسمی تعلیم تک محدود نہیں بلکہ عملی مہارتوں پر زور دیتا ہے، جیسے آئی ٹی، فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور جدید تکنیکی ہنر۔ اس کے ذریعے نوجوانوں کو نہ صرف سیکھنے کے مواقع مل رہے ہیں بلکہ وہ خود کفالت کی راہ پر بھی گامزن ہو رہے ہیں۔ ”بنو قابل پروگرام“ درحقیقت نوجوانوں کو صرف تعلیم نہیں بلکہ ایک نئی پہچان دے رہا ہے۔ یہ انہیں معاشی طور پر مضبوط بنا رہا ہے، ان کے اندر اعتماد پیدا کر رہا ہے، اور انہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل بنا رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے، یہ اقدام نہایت بروقت اور دور اندیشی پر مبنی ہے۔
اسی طرح جماعتِ اسلامی نے تعلیم کے میدان میں ایک اور تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے ”تعلیم کارڈ“ متعارف کروایا ہے، جس کا آغاز مئی 2026ءمیں کراچی کے گلبرگ ٹاون سے کیا گیا۔ یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا مقامی تعلیمی کارڈ ہے، جس کا مقصد مستحق طلبہ کی مالی معاونت اور والدین کے تعلیمی بوجھ کو کم کرنا ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

adminshuja

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *