کالم :انعام الحق اعوان
عیدالاضحیٰ کی آمد کے ساتھ ہی مسلم دنیا میں خوشیوں کی بہار آجاتی ہے۔ مویشی منڈیاں آباد، گھروں میں عید کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ بچے چہروں پر مسکراہٹیں سجائے اپنے والدین سے قربانی کے جانور کی جلد خریداری کا مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں۔ ہر سو سنت ِ ابراہیمی کی ادائیگی کا جذبہ موجزن ہوتا ہے۔ مگر انہی لمحات میں غزہ کے لاکھوں خاندان ایسے بھی ہیں جن کے لیے ہر دن کی طرح عید بھی خوف، بھوک، سائبان سے محرومی اور جنگ کی تلخ یادوں کا نام بنی ہوئی ہے۔ تباہ حال خاکستر بستیوں، خیموں اور ملبے کے درمیان زندگی گزارنے والے فلسطینی بچوں کے لیے عید کی خوشیوں کا تصور بھی دھندلا چکا ہے۔ ایسے حالات میں امت ِ محمدیہ کی قربانی محض ایک مذہبی فریضہ نہیں رہتی بلکہ دکھی انسانیت تک محبت، احساس اور امید پہنچانے کی ایک اجتماعی ذمے داری بھی بن جاتی ہے۔ اسی احساسِ ذمے داری کے تحت الخدمت فاﺅنڈیشن پاکستان نے عیدالاضحیٰ کے لیے ایک وسیع اور منظم قربانی پروگرام ترتیب دیا ہے، جس کے ذریعے پاکستان کے مستحق خاندانوں کے ساتھ ساتھ غزہ کے جنگ زدہ عوام کو بھی عید کی خوشیوں میں شریک کیا جا سکے گا۔الخدمت فاﺅنڈیشن نے قربانی پروجیکٹ کے لیے 2 ارب 32 کروڑ 50 لاکھ روپے کا بجٹ مختص کیا ہے، جس کے تحت غزہ جنگ سے متاثرہ اور پاکستانی مستحق خاندانوں کے لیے 13 ہزار جانور قربان کیے جائیں گے۔ اس منصوبے سے پانچ لاکھ سے زائد مستحق خاندان مستفید ہوں گے، جن میں یتیم بچے، بیوائیں، معذور افراد، نادار خاندان اور غزہ جنگ سے متاثرہ فلسطینی شامل ہیں۔ الخدمت نے غزہ متاثرین کے لیے ایک ارب 3 کروڑ 50 لاکھ روپے کا خصوصی بجٹ مختص کرتے ہوئے مصر، یروشلم، ویسٹ بینک، لبنان، غزہ اور پاکستان میں قربانی کی تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے۔ غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد یہ تیسری عیدالاضحیٰ ہے جو فلسطینی عوام شدید مشکلات میں گزار رہے ہیں، اسی لیے اس سال قربانی مہم ایک فلاحی سرگرمی سے بڑھ کر انسانی ہمدردی کی عالمی مثال بن چکی ہے۔ الخدمت کی جانب سے اہل ِ غزہ کے لیے 1500 گائے اور 1500 چھوٹے جانور قربان کیے جائیں گے۔ مصر میں 600 گائے قربان کی جا رہی ہیں، جن میں سے 100 گائے کا تازہ گوشت چِلرز کے ذریعے فوری طور پر غزہ کے اندر پہنچایا جائے گا، جبکہ باقی گوشت کو ”ریڈی ٹو ایٹ فوڈ“ میں تبدیل کرکے ٹِن پیکس میں محفوظ کرکے غزہ پہنچایا جائے گا تاکہ طویل عرصے تک متاثرہ خاندانوں کے لیے خوراک قابل استعمال رہے۔ لبنان میں بھی 100 گائے اور 700 بکرے قربان کر کے غزہ مہاجرین تک گوشت پہنچایا جائے گا، جبکہ پاکستان میں اہل ِ غزہ کے لیے 300 گائے قربان کی جائیں گی، جن کے گوشت کو ریڈی ٹوایٹ میٹ میں کنورٹ کرکے محفوظ فوڈ پیکنگ کے ذریعے دیگر غذائی اشیاءکے ساتھ خصوصی فلائٹس سے غزہ روانہ کیا جائے گا۔ صدر الخدمت فاونڈیشن پاکستان ڈاکٹر حفیظ الرحمن گزشتہ دو برسوں کی طرح اس مرتبہ بھی عیدالاضحیٰ مصر میں غزہ مہاجرین کے ساتھ گزاریں گے۔ جنگ سے متاثرہ خاندانوں، خصوصاً بچوں کے ساتھ عید منانے کا مقصد انہیں یہ احساس دلانا ہے کہ پاکستانی قوم ان کے دکھ درد میں برابر کی شریک ہے۔ الخدمت نے پاکستان میں زیر ِ تعلیم فلسطینی طلبہ کو بھی عید کی خوشیوں میں شریک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ غزہ سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے خصوصی قربانی، عید ملن اور ضیافت کا اہتمام کیا جا رہا ہے، جہاں وہ خود قربانی کے عمل میں بھی شریک ہوں گے۔ اس موقع پر مختلف ممالک کے سفیر، ڈونرز، فیملیز اور سماجی شخصیات بھی شریک ہوں گی تاکہ فلسطینی طلبہ خود کو اجنبی محسوس نہ کریں۔ ان طلبہ و طالبات کو الخدمت نے تعلیم مکمل کرنے کے لیے پاکستان لایا اور ان کی میزبانی کا فریضہ سرانجام دے رہی ہے۔
پاکستان میں موجود یتیم بچوں، بیواو?ں، مساکین، معذوروں اور مستحقین کے لیے بھی الخدمت کی جانب سے قربانی منصوبے کو جدید اور منظم انداز میں ترتیب دیا گیا ہے۔ چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں رضاکاروں اور نگران کمیٹیوں کو متحرک کیا گیا ہے جو اس پورے عمل کی نگرانی کریں گی۔ کراچی اور لاہور سمیت مختلف بڑے شہروں میں جدید سلاٹر ہاو?سز کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جہاں ہائی جینک ماحول میں ذبیحہ، کٹنگ اور پیکنگ کے مراحل مکمل کیے جائیں گے۔ گوشت کی تازگی برقرار رکھنے کے لیے دور دراز علاقوں تک چِلر ٹرکوں کے ذریعے ترسیل یقینی بنائی جائے گی تاکہ مستحق خاندانوں تک معیاری اور محفوظ گوشت پہنچ سکے۔ اسی طرح الخدمت کی چرمِ قربانی مہم بھی حسب ِ روایت جاری رہے گی، جس سے حاصل ہونے والے وسائل ملک بھر میں جاری فلاحی منصوبوں میں معاون ثابت ہوں گے۔
آج اہل ِ غزہ کو صرف دعاو?ں کی نہیں بلکہ عملی تعاون کی ضرورت ہے۔ جب پاکستان سے ہزاروں میل دور کسی فلسطینی بچے تک قربانی کا گوشت پہنچتا ہے تو یہ صرف امداد نہیں بلکہ امت ِ مسلمہ کے زندہ ضمیر کی علامت بن جاتا ہے۔ ایسے وقت میں پاکستانی قوم کی قربانیاں اس پیغام کو مضبوط کرتی ہیں کہ انسانیت، اخوت اور ایثار کی روایت ابھی زندہ ہے اور غزہ کے مظلوم عوام اس جدوجہد میں تنہا نہیں۔ اس لیے یہ وقت صرف تعریف کا نہیں بلکہ عملی کردار ادا کرنے کا ہے۔ ہر صاحب ِ استطاعت فرد اگر الخدمت کا دست و بازو بن جائے تو لاکھوں ضرورت مند خاندانوں تک نہ صرف قربانی کا گوشت بلکہ امید، محبت اور احساسِ تحفظ بھی پہنچایا جا سکتا ہے۔ قربانی کا اصل پیغام بھی یہی ہے کہ انسان اپنے حصے کی خوشیاں دوسروں تک منتقل کرے اور اللہ کی رضا کے لیے دکھی انسانیت کا سہارا بنے۔ آج غزہ کے بچے، فلسطینی مائیں اور پاکستان کے محروم خاندان اہل ِ خیر کی توجہ کے منتظر ہیں۔ آئیے اس عیدالاضحیٰ پر ہم سب مل کر ایثار، اخوت اور خدمت ِ خلق کی اس روایت کو مزید مضبوط کریں اور الخدمت فاو?نڈیشن کے دست و بازو بن کر انسانیت کے اس سفر میں اپنا حصہ ڈالیں۔
عید ِ قربان پر الخدمت کا فرضِ کفایہ
adminshuja
اگلی خبر →
بھارت، ایران اور چابہار کا نیا کھیل

Leave a Reply