Daily Shujaat Quetta
June 20, 2026
🌤 Quetta,pk --°
تازہ خبریں
ایپل کے چیف ایگزیکٹو کا آئی فونز کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہکیا اسمارٹ فون کو چارجنگ کے دوران استعمال کرنے سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے؟میٹا نے فیس بک میں بہت بڑی تبدیلیاں کر دیںجی میل میں اے آئی سمریز کا فیچر دنیا بھر کے صارفین کیلئے متعارفگوگل ارتھ کی خفیہ فلائٹ سمولیٹر گیم اب تمام صارفین کو مفت دستیابانسٹا گرام میں اب ہر فوٹو یا ویڈیو پوسٹ میں کیپشن تحریر کرنا ممکنپسنی کے قریب فجیرہ سے آنے والے آئل ٹینکر میں کریو کے رہائشی حصے میں لگنے والی آگ بجھا دی گئیالیکشن کمیشن نےگلگت بلتستان انتخابات کےسرکاری نتائج کا اعلان کردیاپیٹرول پر فی لیٹر لیوی 40 روپے 49 پیسے کم کردی گئی، ذرائع پیٹرولیم ڈویژنکیا آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے کسی بیماری کا نتیجہ ہوسکتے ہیں؟ایپل کے چیف ایگزیکٹو کا آئی فونز کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہکیا اسمارٹ فون کو چارجنگ کے دوران استعمال کرنے سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے؟میٹا نے فیس بک میں بہت بڑی تبدیلیاں کر دیںجی میل میں اے آئی سمریز کا فیچر دنیا بھر کے صارفین کیلئے متعارفگوگل ارتھ کی خفیہ فلائٹ سمولیٹر گیم اب تمام صارفین کو مفت دستیابانسٹا گرام میں اب ہر فوٹو یا ویڈیو پوسٹ میں کیپشن تحریر کرنا ممکنپسنی کے قریب فجیرہ سے آنے والے آئل ٹینکر میں کریو کے رہائشی حصے میں لگنے والی آگ بجھا دی گئیالیکشن کمیشن نےگلگت بلتستان انتخابات کےسرکاری نتائج کا اعلان کردیاپیٹرول پر فی لیٹر لیوی 40 روپے 49 پیسے کم کردی گئی، ذرائع پیٹرولیم ڈویژنکیا آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے کسی بیماری کا نتیجہ ہوسکتے ہیں؟

بھارت، ایران اور چابہار کا نیا کھیل

کالم:وجیہ احمد صدیقی
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی نئی دہلی آمد اور بھارتی قیادت سے ان کی ملاقاتیں محض سفارتی تعلقات کی ایک رسمی مشق نہیں، بلکہ اس پورے خطے میں جاری طاقت، مفاد، منافقت اور تزویراتی دوڑ کا ایک اور کھیل ہے۔ ایران اس وقت ایک ایسے مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں اسے ہر بڑی طاقت، ہر چھوٹے اتحادی اور ہر ممکن سفارتی چینل کو کھلا رکھنا چاہیے تھا، خاص کر اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ اسے تعلقات خوشگوار رکھنے چاہیے تھے، لیکن پڑوسیوں سے ناخوشگوار تعلقات رکھ کر پڑوسیوں کے دشمنوں سے دوستی کا ہاتھ بڑھانا کہاں کی دانشمندی ہے؟ جبکہ بھارت اپنی روایتی دوغلی پالیسی کے مطابق ایک طرف ایران کے قریب رہنے کی اداکاری کرتا ہے اور دوسری طرف اسرائیل اور امریکا کے ساتھ اپنے اسٹرٹیجک تعلقات کو مزید گہرا کرتا جاتا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس نے عراقچی کے دورہ دہلی کو محض ایک ملاقات نہیں، بلکہ ایک اہم سیاسی اشارہ بنا دیا ہے۔ عالمی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو بھارت کبھی بھی ایک ذمے دار اور مستقل مزاج علاقائی طاقت کے طور پر سامنے نہیں آیا۔ وہ موقع کے مطابق اپنا ر±خ بدلتا ہے، مفادات کے مطابق دوست چنتا ہے اور جب ضرورت پڑتی ہے تو ایران جیسے ملکوں کے ساتھ بھی گرمجوشی دکھانے لگتا ہے۔ مگر جب امریکا دباﺅ ڈالتا ہے یا اسرائیل کے مفاد کا سوال اٹھتا ہے تو یہی بھارت ایران کی حمایت پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ چابہار بندرگاہ کے معاملے میں بھی یہی کچھ ہوا۔ بھارت نے برسوں تک اسے وسطی ایشیا تک رسائی کے لیے ایک اہم دروازہ بنا کر پیش کیا، لیکن بھارت کا اصل مقصد پاکستان کے سی پیک کو غیر موثر بنانا تھا۔ امریکا نے بھی چین کی مخالفت میں چابہار منصوبے کی طرف سے نظریں چرا لی تھیں۔ لیکن جب ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیل کی کارروائیاں شروع ہوئیں تو بھارت نے اس خوف سے کہ کہیں امریکا اور اسرائیل ناراض نہ ہو جائے چابہار سے اپنی سرمایہ کاری ختم کر دی۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے ایران کو اپنی مرضی سے نہیں، بلکہ امریکی اور اسرائیلی دباو کے خوف سے چھوڑا، اور اب حالات کو نارمل دیکھ کر دوبارہ اسی دروازے پر دستک دے رہا ہے۔
چابہار محض ایک بندرگاہ نہیں، بلکہ بھارت کی اس کمزور اور غیر مستقل خارجہ پالیسی کی علامت ہے جس میں اصول کم اور مفادات زیادہ ہیں۔ اس بندرگاہ کا مقصد جہازرانی کی سرگرمیاں بڑھانا نہیں بلکہ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی را کے لیے وہ سہولت مہیا کرنا ہے جو بلوچستان کے اندر علٰیحدگی پسند دہشت گردوں کو مضبوط کر سکے پاکستان کو ایران کے ساتھ اس حوالے سے دو ٹوک بات کرنا چاہیے۔ ایران نے اس بندرگاہ کے ذریعے بھارت کو ایک ایسا راستہ دیا تھا جو اسے پاکستان کے جغرافیے کو بائی پاس کرتے ہوئے افغانستان اور وسطی ایشیا تک لے جا سکتا تھا۔ لیکن بھارت کا یہ مقصد نہیں تھا اس کا مقصد صرف اور صرف پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ بھارت ایران سے فائدہ بھی اٹھانا چاہتا ہے اور امریکا اور اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات بھی رکھنا چاہتا ہے یہ بات ایران کو سمجھنی ہوگی کہ بھارت نے ہاس اعتماد کا حق وہی ادا کیا جو وہ اکثر کرتا ہے: مفاد لیا، مگر وفاداری نہ دکھائی۔ 2018 میں وقتی لیز، 2024 میں 10 سالہ معاہدہ، اور اس کے بعد پابندیوں کے خوف سے گریز یہ سارا سلسلہ بتاتا ہے کہ بھارت کی نیت کبھی بھی یکسو نہ تھی۔
یہاں ایک اور اہم سوال کھڑا ہوتا ہے: اگر بھارت واقعی ایران کا اتنا ہی خیر خواہ تھا تو پھر وہ خطے میں ایران کے خلاف بننے والے دباو کے ماحول میں کھل کر کیوں سامنے نہ آیا؟ جواب سادہ ہے: کیونکہ بھارت کی خارجہ پالیسی اصولوں پر نہیں، مفادات پر چلتی ہے۔ وہ ایران کے تیل، چابہار، برکس اور علاقائی رسائی سے فائدہ بھی اٹھانا چاہتا ہے، مگر اسی وقت امریکا اور اسرائیل کی خوشنودی بھی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ یہ وہی دوہرا معیار ہے جس نے عالمی سفارت کاری میں بھارت کو ایک ناقابل اعتماد کردار کے طور پر پیش کیا ہے۔ عالمی نقطہ نظر سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ بھارت کا ایران کے ساتھ تعلق کبھی بھی خلوص پر مبنی نہیں رہا، بلکہ یہ محض مفاداتی لین دین ہے۔
عراقچی کی اجیت دول سے ملاقاتوں میں یہ ناممکن ہے کہ بلوچستان میں ہونے والی سرگرمیوں کا ذکر نہ ہوا ہو کیونکہ اس ساری جنگ میں بھارت کا وہ نیٹ ورک ٹوٹ گیا اس کے ذریعے وہ بلوچستان میں دہشت گردی کر رہا تھا اب بھارت اس نیٹ ورک کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے ایران کے ساتھ تعلقات کو بڑھا رہا ہے۔ رسمی طور پر بھارتی حکام کے ساتھ عراقچی کی ملاقات میں علاقائی استحکام، تجارت، توانائی اور ٹرانزٹ کا ذکر ضرور ہوا، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا بھارت واقعی خطے میں امن چاہتا ہے؟ اگر وہ چاہتا تو اسے اسرائیل کے جارحانہ رویے، فلسطین پر مظالم، ایران پر دباﺅاور خطے میں مسلسل فوجی توازن بگاڑنے والی پالیسیوں سے فاصلہ اختیار کرنا پڑتا۔ مگر بھارت نے الٹا ان قوتوں کے ساتھ قربت بڑھائی جو مشرقِ وسطیٰ کو مسلسل عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ اس لیے جب آج وہ ایران کے ساتھ دوبارہ گرمجوشی دکھاتا ہے تو یہ کسی اخلاقی یا اصولی مقام سے نہیں، بلکہ اپنی فطری مکاری اور عیاری کے باعث ہے۔
پاکستان کے لیے اس سارے معاملے میں ایک بڑی سفارتی برتری یہ ہے کہ اسلام آباد نے کم از کم خطے میں تناﺅ کم کرنے، بات چیت کی راہ ہموار کرنے اور بحران کو مزید پھیلنے سے روکنے کی کوشش کی۔ اس کے مقابلے میں بھارت اکثر بحران سے فائدہ اٹھانے کی پالیسی پر چلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی قیادت کے لیے پاکستان ایک ایسا ملک ہے جسے مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، جبکہ بھارت ایک ایسا کھلاڑی ہے جس پر مکمل اعتبار بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ایران کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ایران پر حملے سے ایک دن پہلے اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں موجود تھے اور نیتن یاہو کے گلے میں باہیں ڈال کر واضح الفاظ میں کہہ رہے تھے کہ ہم ایران کے مقابلے میں اسرائیل کے ساتھ ہیں۔ کیا ایران ایک مرتبہ پھر بھارت کے ہاتھوں ڈسنا پسند کرے گا۔
یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ”بھارت دوبارہ چابہار پر کیوں قبضہ کرنا چاہتا ہے“۔ تاکہ وہ خطے میں امریکی اور اسرائیلی مفادات کا علمبردار بن سکے کہ اس منصوبے کا اصل مفہوم یہی ہے کہ بھارت اس بندرگاہ میں اپنا اثر، رسوخ اور انتظامی موجودگی دوبارہ قائم کرنا چاہتا ہے۔ تاکہ بھارت اس خطے میں، اپنا کنٹرول قائم کرسکے اور یہی وہ نکتہ ہے جس میں بھارت بار بار امریکی پالیسیوں کے مطابق جھکتا اور سیدھا ہوتا رہا ہے۔ اگر ایران نے آج بھی بھارت سے بات چیت جاری رکھی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تہران کو بھارت پر اعتماد ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران اپنے دروازے بند نہیں کرنا چاہتا۔ یہ ایک مجبوری ہے، محبت نہیں۔
عالمی تجزیے کے مطابق بھارت کی ایران پالیسی ہمیشہ موقع پرستانہ رہی ہے۔ وہ ایران کے خلاف کھڑا بھی ہو سکتا ہے، اور ایران کے ساتھ دوستانہ لہجہ بھی اختیار کر سکتا ہے، بشرطیکہ اس سے اسے فائدہ پہنچے۔ یہی رویہ اسے ایک غیر مستقل، بے وقعت اور سفارتی طور پر ناقابلِ اعتماد ریاست بناتا ہے۔ عراقچی کی دہلی ملاقاتوں کی گہرائی میں بھارت کی وہی پرانی عیاری اور مکاری چھپی ہوئی ہے: جہاں موقع ملے، وہاں داخل ہو جاو؛ جہاں دباو بڑھے، وہاں خاموش ہو جاو؛ اور جہاں مفاد بدل جائے، وہاں نیا بیانیہ اپنا لو۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ ایران نے بھارت کو کسی جذبہ خیر سگالی سے نہیں، بلکہ جغرافیائی اور معاشی مجبوریوں کے تحت قریب رکھا ہوا ہے۔ اور بھارت نے ایران کو کسی مستقل عزت کے تحت نہیں، بلکہ امریکی دباو، اسرائیلی قربت اور اپنی مفاداتی سیاست کے تحت دیکھا ہے۔ یہی وہ بنیادی تضاد ہے جو اس پورے معاملے کو پیچیدہ بناتا ہے۔چابہار کے معاملے میں بھی یہی کہانی ہے۔ بھارت نے اسے استعمال کیا، سست روی دکھائی، دباو میں پیچھے ہٹا، اور اب پھر اپنی موجودگی بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
مگر ایران بھی جانتا ہے کہ نئی دہلی پر مکمل بھروسا نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے عراقچی کی یہ ملاقاتیں اہم ضرور ہیں، مگر فیصلہ کن نہیں۔ نتیجہ صاف ہے: بھارت اگر آج ایران کے قریب آرہا ہے تو یہ اس کی سفارتی بصیرت نہیں، بلکہ مجبوری ہے۔ اور اگر ایران اسے سنجیدگی سے لے رہا ہے تو یہ اس کی علاقائی ضرورت ہے۔ ورنہ کیا ایران کو یہ معلوم نہیں کہ اس کے تمام حساس مقامات کی نشاندہی اسرائیل کو بھارت نے کی تھی ایرانی صدر ایٹمی سائنسدان فوجی قیادت اور یہاں تک کہ رہبر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے رسمی طور پر تعزیت کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا جو کہ سفارتی اخلاقیات کا تقاضا ہے۔ اس ساری صورتِ حال کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ بھارت کا موقف نہ تو اصولی ہے، نہ مستقل، نہ قابل ِ بھروسا۔ وہ صرف اپنے مفاد کا پجاری ہے اور یہی حقیقت ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

adminshuja

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *