امیر جماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے عوام اس وقت انتہائی سنگین حالات سے دوچار ہیں۔ بدامنی، بے روزگاری، غربت، مہنگائی اور بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے جبکہ حکومت عوام کو ریلیف اورسیکورٹی ادارے تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی سیکرٹریٹ میں “عوامی مسائل بیٹھک”میں وفود سے ملاقات کے دوران گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مختلف علاقوں سے آئے ہوئے عوامی وفود، پارٹی رہنماو¿ں اور کارکنوں نے بھی اپنے علاقوں کے مسائل سے آگاہ کیا۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان قدرتی وسائل، معدنیات، ساحلی پٹی، گیس، سونا، تانبا، ریکوڈک، سی پیک اور دیگر بے شمار وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود صوبے کی اکثریت غربت، بے روزگاری، بدامنی اور پسماندگی کا شکار ہےجو حکمرانوں ،طاقتور طبقات کی ناقص پالیسیوں اور بدعنوانی کا واضح ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے تعلیم اور صحت کے شعبے زبوں حالی کا شکار ہیں۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں معیاری تعلیم کا فقدان ہے، جبکہ اکثر ہسپتالوں میں ادویات، ڈاکٹرز، عملے اور بنیادی طبی سہولیات کی شدید کمی کے باعث عوام کو علاج معالجے کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے روزگار کے منتظر ہیں، مگر حکومت کے پاس انہیں روزگار فراہم کرنے کا کوئی مو¿ثر منصوبہ نہیں۔انہوں نے کہا کہ ملازمین، تاجر، ڈاکٹرز، اساتذہ اور دیگر مختلف طبقے اپنے جائز حقوق کے لیے سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہیں، جو حکومتی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔
حکومت عوام کو ریلیف اورسیکورٹی ادارے تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے، مولانا ہدایت الرحمن بلوچ

Leave a Reply